اسرائیل:اپوزیشن کا کنیسٹ اسپیکر کو عہدے سے ہٹانےاور عرب جماعتوں سے تعاون پرغور

تل ابیب (ٹائمز آف اسرائیل) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مخالف سیاسی جماعتوں نے اگلے ماہ نئی پارلیمنٹ کے حلف اٹھانے کے فوراً بعد کنیسٹ کے موجودہ اسپیکر اور لیکوڈ پارٹی کے رہنما امیر اوہانا کو عہدے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اپوزیشن کے نام نہاد تبدیلی اتحاد میں یاشار، بی یاحد، ڈیموکریٹس اور اسرائیل بیتینو شامل ہیں، جبکہ عرب قیادت والی جماعتیں جوائنٹ لسٹ اور رام بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ہیں۔ ان جماعتوں کو 120 رکنی کنیسٹ میں مجموعی طور پر 67 نشستیں حاصل ہیں، جس کے باعث وہ امیر اوہانا کو اسپیکر کے عہدے سے ہٹانے کی پوزیشن میں ہیں۔

چینل 12 کے سیاسی تجزیہ کار باراک سیری نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ امیر اوہانا کو ہٹانے کے لیے معاہدہ طے پاچکا ہے۔ اگرچہ انہوں نے نئے اسپیکر کے ممکنہ امیدوار کا نام نہیں بتایا، تاہم اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں سابق وزیراعظم یائیر لاپید کو اس عہدے کے لیے نامزد کرنے پر غور کررہی ہیں۔

چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے کہا کہ 26ویں کنیسٹ کے حلف اٹھانے کے بعد ان کا پہلا اقدام نیا اسپیکر مقرر کرنا ہوگا۔ اس کے بعد پارلیمانی کمیٹیوں کے سربراہان کا تقرر اور 7 اکتوبر 2023ء کے حماس حملوں کی تحقیقات کے لیے ریاستی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے اسپیکر کا انتخاب 10 نومبر کو نئی پارلیمنٹ کے حلف برداری کے روز ہی ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اتحاد امیر اوہانا کی تبدیلی کے لیے فوری کارروائی کرنا چاہتا ہے، تاہم اسرائیل بیتینو کے سربراہ ایویگڈور لیبرمین اس منصوبے کی حمایت کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، کیونکہ وہ عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کے مخالف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر لیبرمین اس تجویز کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ نہ ہوئے تو دیگر جماعتوں کے رہنما ان سے ووٹنگ میں غیر حاضر رہنے کے بجائے غیر جانب دار رہنے کی درخواست کررہے ہیں، تاکہ اپوزیشن کو سادہ اکثریت حاصل ہوسکے۔

یائیر گولان نے امید ظاہر کی کہ تبدیلی اتحاد عرب جماعتوں کی حمایت سے اگلی حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا دراصل نیتن یاہو ہی کی ایک اور حکومت قائم کرنے کے مترادف ہوگا، جو قومی سلامتی کیلئےخطرہ ہیں۔

گولان کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے پاس اپنی نشستیں 48 ہیں، تاہم رام کی حمایت سے یہ تعداد 56 اور جوائنٹ لسٹ کی مزید 11 نشستوں کے ساتھ اتحاد کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو یاشار کے رہنما گادی آئزنکوٹ، بی یاحد کے رہنما یائیر لاپید اور رام کے سربراہ منصور عباس سے ملاقات ہوئی، جس میں تینوں رہنماؤں نے حکومت بنانے کے لیے مضبوط عزم کا اظہار کیا۔

گولان نے کہا کہ رام حکومتی اتحاد میں شامل ہوسکتی ہے جبکہ جوائنٹ لسٹ باہر سے حمایت فراہم کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق عرب جماعتیں اسرائیلی عوام کی حساسیت کے پیش نظر سکیورٹی کابینہ میں نشستیں لینے پر اصرار نہیں کریں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اتحاد ایک مستحکم حکومت قائم کرسکتا ہے اور اگر اس کی مدت محدود بھی رہی تو وہ مختصر عرصے میں اسرائیلی جمہوریت اور قومی سلامتی کو بچانے کے لیے اقدامات کرسکے گا۔

چینل 12 کے مطابق لیبرمین اور لاپید کی ملاقات بھی ہفتے کو متوقع تھی، جس میں امیر اوہانا کی تبدیلی کے معاملے پر بات چیت کی جانی تھی۔

دوسری جانب لیبرمین نے جمعہ کو ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کی جماعت ایسی کسی حکومت میں شامل نہیں ہوگی جسے دونوں عرب جماعتوں کی حمایت حاصل ہو۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے جوائنٹ لسٹ کے رکن پارلیمنٹ اوفر کاسف کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے مقدمے کی حمایت، رام کے رکن یاسر حجیرات کی جانب سے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے گریز اور جوائنٹ لسٹ کے رکن اسامہ سعدی کی جانب سے انتخابی رات فلسطینی قومی ترانہ گانے کا حوالہ دیا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ مرکزی انتخابی کمیٹی کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے تحت رام اور جوائنٹ لسٹ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم عدالت کے دباؤ پر بلد پارٹی کے سربراہ سامی ابو شہادہ نے انتخابی دوڑ سے دستبرداری اختیار کرلی تھی، کیونکہ ان کے مسلح جدوجہد کی حمایت سے متعلق بیانات پر نااہلی کا خدشہ تھا۔

“سابق وزیر دفاع کا عرب جماعت سے تعاون پر زور”
اسرائیل کے سابق وزیر دفاع موشے یعلون نے بھی جمعہ کو یہودی قیادت والی اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ رام کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں اور اس کے سربراہ منصور عباس کو کابینہ میں وزارت کا منصب دیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک تفصیلی بیان میں موشے یعلون نے کہا کہ وہ منصور عباس کو ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر جانتے ہیں۔ انہوں نے انہیں ایک جرات مند عرب اسرائیلی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصور عباس اسرائیل کو یہودی اور جمہوری ریاست تسلیم کرتے ہیں اور لازمی فوجی یا قومی خدمت کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہ شرائط ہیں جو گادی آئزنکوٹ نے کسی بھی جماعت کے ساتھ تعاون کے لیے پیش کی ہیں۔

یعلون نے منصور عباس کے مؤقف کا موازنہ انتہائی دائیں بازو کے وزرا ایتامار بن گویر اور بتسلئیل سموٹریچ کے طرز سیاست سے کیا۔ انہوں نے مئی 2021ء میں یہودی اور عرب آبادی والے شہروں میں ہونے والے پرتشدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ منصور عباس نے ان علاقوں کا دورہ کرکے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی تھی۔

سابق وزیر دفاع نے بن گویر پر نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی میں اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شین بیٹ کی نگرانی میں رہے اور آٹھ مختلف مقدمات میں سزا یافتہ ہوئے، جن میں ایک یہودی دہشت گرد تنظیم کی حمایت کا معاملہ بھی شامل تھا۔

انہوں نے سموٹریچ کے حوالے سے کہا کہ غزہ سے اسرائیلی انخلا سے قبل انہیں ایک شاہراہ پر 700 لیٹر ایندھن دھماکے سے اڑانے کی منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

موشے یعلون کا کہنا تھا کہ منصور عباس یہودی نہیں ہیں، لیکن انہیں امید ہے کہ اسرائیل کے بیشتر شہری ان کے نظریات کو انتہا پسند، نسل پرست اور فاشسٹ سوچ رکھنے والوں کے نظریات پر ترجیح دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ منصور عباس کو اسرائیلی حکومت میں وزیر مقرر کیا جانا چاہیے اور ان لوگوں کے طے کردہ سیاسی اصولوں کو قبول کرنا بند کرنا ہوگا جو 7 اکتوبر کے واقعات کے ذمہ دار ہیں اور اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ملک کو تباہ کرنے پر آمادہ ہیں۔

“نئی پارلیمنٹ میں جماعتی رہنماؤں کی تقرریاں”
دریں اثنا 10 نومبر کو حلف اٹھانے والی 26ویں کنیسٹ میں شامل ہونیوالی جماعتوں نے اپنے پارلیمانی گروپوں کے سربراہان مقرر کرنا شروع کردیے ہیں۔

گادی آئزنکوٹ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت کی جانب سے نومنتخب رکن پارلیمنٹ روئے فولکمان پارلیمانی گروپ کے سربراہ ہوں گے۔ فولکمان 2015ء سے 2019ء تک ختم ہوچکی کلانو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رہے اور اس دوران پارلیمانی گروپ کی سربراہی بھی کرچکے ہیں۔

آئزنکوٹ نے انہیں وسیع سیاسی تجربے کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں فکری صلاحیت، تخلیقی سوچ اور قیادت کی ثابت شدہ قابلیت موجود ہے۔

دوسری جانب بی یاحد کے رہنما نفتالی بینیٹ نے ایٹن گنزبرگ کو اپنی جماعت کا پارلیمانی سربراہ مقرر کیا ہے۔ گنزبرگ سبکدوش ہونے والی پارلیمنٹ میں بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے رکن تھے اور ماضی میں کنیسٹ کی متعدد کمیٹیوں کی سربراہی بھی کرچکے ہیں۔ وہ جون 2021ء میں نیتن یاہو اور بینی گینٹز کی حکومت کے خاتمے سے قبل تقریباً 6 ہفتوں تک وزیر مواصلات بھی رہے۔