میرپورخاص(نامہ نگار)میرپورخاص میں نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی خودکشی کے معاملے پر تیار کی گئی انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جبکہ متوفیہ کے اہلِ خانہ نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے۔
رپورٹ عدالت اور سندھ پولیس کے سربراہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق طالبہ نے نفسیاتی دباؤ کے باعث خودکشی کی اور اس کی جانب سے کی گئی شکایات پر بروقت کارروائی نہ ہونا حالات کی خرابی کا سبب بنا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبہ پہلے ہی تعلیمی اور ذاتی مسائل کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار تھی، جبکہ ایک لیکچرار کے مبینہ رویے اور رقم کے مطالبے نے اس کی ذہنی کیفیت کو مزید متاثر کیا۔
تاہم انکوائری ٹیم کے رکن ڈی ایس پی سراج الدین نے اپنے اختلافی نوٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی جانب سے ادھار رقم کا مطالبہ ایسا عمل نہیں جسے خودکشی کی براہِ راست وجہ قرار دیا جا سکے، لہٰذا کسی دوسرے فرد کو طالبہ کی موت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
دوسری جانب متوفیہ کے والد اور ماموں نے رپورٹ پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب موبائل فونز کا فارنزک تجزیہ ہی مکمل نہیں ہوا تو انکوائری رپورٹ کیسے جاری کر دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ نامزد پانچ ملزمان میں سے تین کو الزامات سے بری کر دیا گیا ہے، اس لیے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔
یاد رہے کہ طالبہ کی خودکشی کا واقعہ 8 اپریل کو پیش آیا تھا۔ مقدمے میں نامزد ایک کالج لیکچرار گرفتار ہے جبکہ پرنسپل اور خاتون پروفیسر سمیت چار ملزمان ضمانت پر ہیں۔

