نئی دہلی (اے ایف پی، پی اے میڈیا، ایسوسی ایٹڈ پریس، دی انڈین ایکسپریس، ہندوستان ٹائمز) کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سمیت اپنے اہم مطالبات حکومت کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد 36 روز سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی جانب سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو استعفیٰ پیش کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے، جس کے بعد سی جے پی نے احتجاج فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا۔
بھارتی وفاقی وزیر جے پی نڈا نے وزیر جتیندر سنگھ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نیٹ امتحان منسوخ ہونے کے بعد خودکشی کرنیوالے طلبہ کے خاندانوں کو قواعد کے مطابق باعزت مالی معاوضہ فراہم کرے گی۔جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت مظاہرین کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لینے کیلئے بھی کارروائی کرے گی۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، اس لیے ہم فوری طور پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور تمام مظاہرین سے گھروں کو واپس جانے کی اپیل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی نیک نیتی اور اس یقین کے ساتھ احتجاج ختم کر رہی ہے کہ حکومت کے ساتھ طے پانے والی شرائط پر مقررہ وقت کے اندر عمل درآمد کیا جائے گا۔
سوربھ داس کے مطابق حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 3 مئی کو ہونے والے نیٹ، یو جی امتحان کی منسوخی کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو مالی معاوضہ دیا جائے گا جبکہ مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت سے طلبہ کے خاندانوں کے لیے ایک کروڑ روپے فی خاندان معاوضے، مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے نیٹ، یو جی 2026ء کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں پر جواب دہی اور سرکاری امتحانات کے طریقۂ کار میں اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ 20 جون سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دے رکھا تھا۔
احتجاج کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں طلبہ نے مظاہروں میں شرکت کی جبکہ بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ تحریک کی حمایت کی۔

