نسلہ ٹاور، مونال کیس فیصلے کالعدم: ہم کس پر اعتبار کریں؟

ویسے کبھی کبھی ہم ورطہ حیرت میں گم ہو جاتے ہیں کہ یہ کیسا ملک ہے؟ کہ جہاں جسے تھوڑا سا بھی اختیار مل جاتا ہے، وہ فرعون سے کم بننے کو ترجیح ہی نہیں دیتا۔ ہم نے اس ملک میں جنرل ضیاءالحق کا دور بھی دیکھا، اُس سے پہلے جنرل ایوب خان کا اور مشرف کا بھی دور دیکھا اور اُن ادوار میں ہوئے فیصلے بھی دیکھے،،، خیر یہ تو ڈکٹیٹر تھے،،، اقتدار لینا اور پھر ناپسندیدہ فیصلے کرنا شاید ان کی مجبوری رہا گا، اس لیے ہم اس بحث میں ہی نہیں پڑتے،،،لیکن ان کے ساتھ ساتھ یہاں چھوٹے چھوٹے بہت سے ”ڈکٹیٹر “رہے ہیں،،، جن کے فیصلوں سے یا تو دنیا بھر میں ہم رسوا ءہوئے ہےں یا اس وطن کے باسی شدید متاثر ہوئے ہیں،،، جنہوں نے بھٹو کو پھانسی دی، اور پھانسی کے چالیس سال بعد اُنہیں بے قصور بھی قرار دیا ،،، اور اسی طرح جنہوں نے مشرف کے ہاتھ پر بعیت بھی کی اور اُن کے مرنے کے بعد اُنہیں غدار بھی قرار دیا،،،، پھر یہی نہیں بلکہ بہت سے غلط فیصلوں سے یہاں عام آدمی بھی متاثر ہوتا رہا۔ جیسے کبھی اس ملک میں کہا جاتا ہے کہ نسلہ ٹاور کو گرا دیا جائے، اور روزانہ کی رپورٹ لی جاتی ہے، متاثرین یکے بعد دیگرے ہارٹ اٹیک سے مرے جاتے ہیں، لیکن عدالت ٹس سے مس نہیں ہوتی اور پورا نسلہ ٹاور جس میں سینکڑوں خاندان آباد تھے، کو نکال باہر کیا جاتا ہے اور بلڈنگ ریزہ ریزہ کر دی جاتی ہے،،، پھر مونال ریسٹورنٹ اسلام آباد کے بارے میں فیصلہ آتا ہے کہ بلڈنگ کو مسمار کر دیا جائے، کیوں کہ یہ جنگلی حیات کے لیے تباہی کا باعث بنتی ہے،،، اس پر عدالت اپنی نگرانی میں یہ خالی کرواتی ہے،،، سی ڈی اے بھاری مشینری طلب کرتی ہے، اور اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان اپنے فیصلے میں لکھتے ہیں کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم تجارتی سرگرمیوں کو فوری ختم کیا جائے۔

پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت آج ہی کے روز سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیتی ہے، اورکہتی ہے کہ عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں کئی اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کیس دائر کرنے اور نظرثانی درخواست پر بھی غیر ضروری برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔پھر ہماری عدلیہ مزید فرماتی ہے کہ ”ہم نے جذباتی فیصلہ نہیں کرنا، کیس کو پوری طرح پڑھ کر قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔“ ”فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانی نہیں لکھیں گے، فیصلہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ پہلے بہت سی ایسی باتیں بھی شامل کر دی گئی تھیں جو عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں تھیں۔“

اور پھر اس فیصلے سے 2دن پہلے ایک اور فیصلہ نسلہ ٹاور کا بھی سامنے آیا ہے ، اور بلڈنگ ریزہ ریزہ ہونے کے بعد یہ فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا ہے،،، یعنی وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے احکامات واپس لیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا تھا اور زیرِ سماعت مقدمے سے آگے بڑھ کر وسیع نوعیت کے احکامات جاری کیے۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتوں کو صرف اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہنا چاہیے اور غیرضروری معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے آئینی تقاضے پورے کیے بغیر اپیل کے دوران ازخود نوٹس (سوموٹو) کے اختیارات استعمال کیے۔فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ سپریم کورٹ نے کراچی ماسٹر پلان کے خلاف قرار دی جانے والی تمام تعمیرات کو مسمار کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

پھر بات یہی نہیں رکتی بلکہ ایک جگہ بری امام کے گردو نواح میں موجود بستیوں کے خلاف آپریشن کیا جاتا ہے ،، اور اسی طرح کا ایک اور آپریشن اسلام آباد کے پوش علاقے ”ون کانسٹیٹیوشن ایونیو“ میں کیا جاتا ہے،،، تو وہاں پر اداروں کے ہاتھ پاﺅں کانپنا شروع ہوجاتے ہیں،،، وزیر اعظم نوٹس لیتے ہیں اور پھر کمیٹی بنتی ہے،،، اور سب معاملات رفع دفع ہوجاتے ہیں،،، مطلب! اس بلڈنگ پر کارروائی اسی لیے روک دی گئی کہ یہاں کروڑوں روپے مالیت کے رہائشی اپارٹمنٹس ہیں، جن کے مالکان میں پاکستان کے سیاستدان، بیوروکریٹس اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے بڑے نام شامل ہیں۔ اب مجھے یہاں بتایا جائے کہ کونسا میرٹ اور کون سا قانون؟ اگر رعایت دینی تھی تو پھر بری امام کی غریب بستی کو بھی دی جاتی، اگر رعایت دینی تھی تو پھر اُن کو بھی دی جاتی جن کے ساتھ سیاسی مخالفت کی وجہ سے شادی گھر اور پلازے گرائے گئے،،، جن کے مکینوں کے بقول اُنہیں نہ ہی کوئی نوٹس ملا اور نہ ہی کوئی سرکاری ادارہ اُنہیں مطلع کرنے آیا،،،

اب اس قوم کو بتایا جائے کہ یہاں کون درست ہے؟اور کون غلط؟ کیا وہ لوگ درست ہیں جو قبضے کی جگہ پر چند چھوٹے چھوٹے ”ڈکٹیٹروں“ کے ساتھ مل کر تعمیرات کرتے ہیں، لوگوں سے پیسہ اینٹھتے ہیں، یہی پیسہ اوپر تک کھلایا جاتا ہے، پھر سادہ لوح لوگ فلیٹ یا جگہ خریدتے ہیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ تو غیرقانونی تعمیرات تھیں، ،، یا وہ سرکاری ادارے درست ہیں جو اپنے سامنے بلڈنگ بنتے دیکھتے ہیں، ،، انہیں اُن کا حصہ ملتا رہتا ہے، اور پھر جب بلڈنگ بن جاتی ہے تو پھر انہیں بلڈنگ لاز بھی یاد آجاتے ہیں،،، کیا اُس وقت عدالتیں اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتیں کہ کیا یہ تعمیرات قانونی بھی ہو رہی ہیں یا نہیں؟ اگر یہ کام عدالت کا نہیں ہے تو پھر عدالت بعد میں بھی کہہ دے کہ یہ سرکاری اداروں کا کام ہے،،، اُس کا نہیں،،، پھر بعد میں وہ کیوں یہ فیصلے جاری کرتی ہے کہ فلاں عمارت کو گرا دیا جائے، فلاں کو بچا لیا جائے، یا فلاں کے بارے میں بعد میں فیصلہ ہوگا،،، وغیرہ ۔الغرض بقول ساغرصدیقی
کبھی تو آؤ ! کبھی تو بیٹھو! کبھی تو دیکھو! کبھی تو پوچھو
تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے

مطلب! یہ ملک اس قدر ڈی ٹریک ہو چکا ہے کہ اسے ٹریک پر لانے کے لیے بھی کئی دہائیاں درکار ہیں،،، یہاں تو مرے ہوئے بندے کو 50سال بعد ضمانت دے دی جاتی ہے،،، یہاں تو پھانسی ہوئے شخص کو بعد میں عدالت بے گناہ قرار دے دیتی ہے،،، یہاں تو اتنے قیدی بے گناہ قید ہیں کہ بعض قیدیوں کو تو علم نہیں کہ وہ کس لیے قید ہیں،،، کراچی کی جیل میں ایک ایسے ہی قیدی کہانی سامنے آئی ہے جو گزشتہ 26سال سے وہاں قید ہے،وہ قیدی پنجاب کا ہے مگر اُس پر کسی وڈیرے نے مقدمہ درج کروا کر اُسے کراچی منتقل کروا دیا تھا،، اور وہ آج بھی بے گناہ جیل کاٹ رہا ہے،،، جسے علم ہی نہیں ہے کہ وہ کس کیس میں جیل کے اندر ہے،،، تو جس ملک میں ایسی صورتحال ہو، کیا وہاں کوئی انویسٹمنٹ کرے گا؟ کون ایسے ملک پر اعتبار کرے گا؟ تو پھر کیا ایسا نہیں ہے کہ ہمارا ملک دنیا کا سب سے بڑا، غیرانسانی ،غیراخلاقی، غیرآئینی ،غیرقانونی اورغیر محفوظ ملک بننے جا رہا ہے،،، یا بعض کے نزدیک بن بھی چکا ہے، تبھی عدالتیں اپنے ہی فیصلوں کو کالعدم قرار دیتی نظر آتی ہیں،،،

اب ہونا تو یہ چاہیے کہ مونال اور نسلہ ٹاور کا فیصلہ دینے والے ججوں سے اسکا خسارہ پورا ہوناچاہیے۔اُنہیں کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے، تاکہ آئندہ کوئی غلط فیصلے نہ دے سکے۔ یہ ججز ایک دن ایک چیز کو غلط قرار دیتے بعد میں اسی کو درست قرار دیتے۔بھٹو کو پھانسی دے کر بولتے غلط پھانسی ہوئی بڑے میاں کو جھوٹا قرار دے کر بعد میں صادق امین قرار دیا اور خان کو صادق امین قرار دینے کے بعد واپس چور قرار دے دیا ان سے حساب کون مانگے گا۔کل کو یہاں کوئی یہ بھی کہہ دے گا کہ ”میں معذرت چاہتا ہوں، عمران خان معصوم تھے،،، لیکن مجھ پر اُن کے خلاف فیصلے دینے کے لیے دباﺅ تھا“ پھر کل کوئی یہ بھی کہہ دے گا کہ سی سی ڈی نے بہت سے غلط کام کیے جس پر ہم شرمسار ہیں،،،

بہرحال پاکستان کا نظام ہی ایسا ہے، کہ اپنی تھوڑی سی دیہاڑی سیدھی کرنے کے لیے یہ ایک وقت میں پورے نظام کو درہم برہم کرنے میں دیر نہیں لگاتے،،، اور پھر قصور صرف بیوروکریسی کا نہیں ہے، بلکہ یہاں حکومت کرنے والوں کا بھی ہے، یہاں شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، نواز شریف، عمران خان اور شہباز شریف وزیر اعظم رہے ،،، اور مختلف ادوار میں اس قسم کے پراجیکٹ چلتے رہے،، جنہیں ہمیشہ سیاسی پشت پناہی حاصل رہی۔

خیر بات مونال اور نسلہ ٹاور کی ہور ہی تھی، ،سوال یہ ہے کہ جن کا نقصان ہوا اُن کا ازالہ کون کرے گا؟ جو اس دنیا میں نہیں رہے اُن کا نقصان کون پورا کرے گا؟ کیا یہاں ریاست ہارتی ہوئی نظر نہیں آرہی ؟کیا ان جیسے فیصلوں کو روکنے کے لیے کسی نے عملی اقدامات کیے؟کیا اس قسم کی روک تھام کے لیے پاکستان کے تمام طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہیں ہونا پڑے گا، ایک سوچ اور ایک فکر نہیں اپنانا ہوگی کیونکہ طبقاتی تفریق کو ختم کیے بغیر معاشرے میں حقیقی خوشیوں کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا، سب سے بھاری ذمے داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مختلف طبقوں میں گہری ہوتی خلیج کو کم سے کم کریں اور ملک میں یکساں نظام رائج کریں، مساوی بنیادی حقوق اور قانون سب کے لیے یکساں کا نظام نافذ کریں، ملک میں انصاف و قانون کی حکمرانی کی بالا دستی کے لیے ضروری ہے پاکستان میں بلڈنگ بائی لاز (تعمیراتی قوانین) پر عمل درآمد میں غریب اور امیر کے فرق کو ختم کیا جائے،،، کیوں کہ یہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے،،،لیکن اگر اس کے برعکس ایسے ہی نظام چلانا ہے تو پہلے ہی بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں طبقاتی تقسیم گہری ہوتی چلی جارہی ہے، یہاں کی اشرافیہ نے کمزور طبقات کو اپنے شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے، اب ملک کے اندر واضح طور پر دو طرح کے نظام کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے،اس لیے حکمرانوں سے میری دست بستہ گزارش ہے کہ اس ملک میں مضبوط نظام بنا دیں، جو ایسا کرے گا وہی فاتح ہوگا ورنہ یہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا حساب ہوگا اور ہم کسی پر اعتبار کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے!