وزیراعظم مارک کارنی کا ایوانِ بالا کیلئےچار شخصیات کی تقرریوں کا اعلان

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے سینیٹ کیلئے اپنی پہلی تقرریوں کا اعلان کرتے ہوئے چار شخصیات کو ایوانِ بالا کا رکن نامزد کر دیا۔ ان میں ان کے قریبی مشیر ٹام پٹفیلڈ، کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ رچرڈ مارٹل، نیوبرنزوک کے معروف کینسر محقق ڈاکٹر راڈنی اوئلیٹ اور مانیٹوبا سے تعلق رکھنے والی چارٹرڈ پروفیشنل اکاؤنٹنٹ گیتا ٹکر شامل ہیں۔

سیاسی حلقوں میں ان تقرریوں کو سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی غیر جماعتی سینیٹ تقرریوں کی پالیسی سے اہم انحراف قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق مارک کارنی سینیٹ میں تجربہ کار سیاسی شخصیات کو دوبارہ فعال کردار دے کر قانون سازی کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا چاہتے ہیں۔

ٹام پٹفیلڈ، جو 2025ء کے وفاقی انتخابات میں مارک کارنی کی انتخابی مہم کے اہم رکن رہے اور بعد ازاں وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری مقرر ہوئے، نئی تقرریوں میں نمایاں نام ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وہ سینیٹ میں آزاد حیثیت سے بیٹھیں گے اور لبرل پارلیمانی کاکس کا حصہ نہیں ہوں گے۔

ایک غیر معمولی فیصلے کے تحت کنزرویٹو پارٹی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ رچرڈ مارٹل کو بھی سینیٹ میں نامزد کیا گیا ہے۔ وہ اپنی پارلیمانی نشست سے فوری طور پر مستعفی ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ان کا تعلق کنزرویٹو پارٹی سے رہا ہے، تاہم وزیراعظم ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ وہ بھی آزاد سینیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔

وزیراعظم نے نیوبرنزوک کے ممتاز کینسر محقق ڈاکٹر راڈنی اوئلیٹ کو بھی سینیٹ میں نامزد کیا ہے، جو طبی تحقیق کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مانیٹوبا کی معروف چارٹرڈ پروفیشنل اکاؤنٹنٹ گیتا ٹکر کو بھی سینیٹر مقرر کیا گیا ہے، جنہیں مالیاتی امور اور انتظامی شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کے مطابق سینیٹ میں تقرریوں کے موجودہ نظام کو ازسرِنو تشکیل دیا جائے گا تاکہ میرٹ، تجربے اور مختلف شعبوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی تقرریوں سے سینیٹ میں بہتر توازن پیدا ہوگا اور قانون سازی کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کم کرنے میں مدد ملے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے دورِ حکومت میں زیادہ تر غیر جماعتی شخصیات کو سینیٹ میں نامزد کیا تھا، تاہم مارک کارنی سیاسی اور غیر سیاسی دونوں پس منظر رکھنے والے افراد کو موقع دے کر ایک مختلف حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیور نے رچرڈ مارٹل کو سینیٹ میں تقرری پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ایوانِ بالا میں عوامی مفادات، مہنگائی کے خاتمے اور محفوظ معاشرے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے، جبکہ کنزرویٹو سینیٹ رہنما لیو ہوساکوس نے بھی ان کی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ بھی سینیٹ میں مزید تقرریاں کی جائیں گی، جن میں سیاسی اور غیر سیاسی دونوں شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا جائے گا تاکہ ایوانِ بالا کی کارکردگی کو مزید مؤثر اور متوازن بنایا جا سکے۔