وزیر داخلہ کی للکار۔عوام کی پکار؟

ملک بھر کے عوام میں بے چینی، اضطراب، بھوک ننگ کی فضاء میں بے بسی و بے چارگی کی زندگی سے دوچار عوام کو ان باتوں نے چونکا کر رکھ دیا ہے، جو کسی ایرے غیرے، ان جیسے بے یارو مددگار، شاہراہ حیات پر جسم و جان کے رشتے کو برقرار رکھنے والی لازمی اشیاء کی عدم فراہمی سے سسک سسک کر زندگی کے دن پورے کرنے والے نے نہیں،بلکہ یہ باتیں ایوانِ اقتدار سے بھی کہیں بالا سریر آرائے مملکت مخلوق کے نفس ِ ناطقہ گردانے جاتے ہیں کی زبان سے ادا ہوئی ہیں۔

ملک کے اہم ترین عہدہ جلیلہ وفاقی وزارت داخلہ کے سربراہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں منعقدہ اکنامک سمٹ سے خطاب اور اخبار نویسوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران کہا ہے کہ جب تک سیاستدان ملکی نظام ٹھیک نہیں کریں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا موجودہ نظام گر چکا ہے۔ ایک بھری مقتدر مجلس میں یہ بات انہی کی زبان سے ادا ہو سکتی تھی، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس حال تک پہنچانے میں اس کے ذمے دار جتنے لوگ ہیں وہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں جب تک اس ملک کی بنیادی چیز کو۔۔۔ جمہوریت کی روح میں رہ کر ٹھیک نہیں کریں گے یہ اسی طرح رہے گا۔ ہم عوام کو بروقت انصاف نہیں دے پا رہے۔ اگرچہ محسن نقوی نے بہت سے انتظامی امور کے حوالے سے بھی اپنی تجاویز کا ذکر کر دیا، مگر ایک طرف تو انہوں نے مسائل کے خاتمے کے لئے نئی لیڈر شپ کے لانے کو لازمی قرار دیا۔

اِس حوالے سے بڑی پتے کی بات یہ بھی کی کہ نوجوانوں کو ماہانہ دو چار ہزار یا لیپ ٹاپ دیکر خوش کرنے سے کام نہیں چلے گا،نوجوان انصاف، میرٹ اور روزگار چاہتے ہیں مگر اسی کے ساتھ گرتے ہوئے نظام کی ازسر نو تدوین یا تیزی کے لئے بھاری بھر کم بلکہ چند ہزار افراد سے عبارت مراعات یافتہ افراد سے اُمید لگائے ہوئے ہیں۔ خیبر سے بولان اور کیماڑی تک کے بے بس و مجبوری کی زندگی سے عاجز آئے ہوئے جن لوگوں کے دِل کی آواز محسن نقوی کی زبان سے ادا ہوئی ہے اس کی طرف سے عوام کے دُکھوں کا مداوا کرنے کی اُمید رکھنا انتہائی مضحکہ خیز اور خوش فہمی ہے۔

ایوانِ اقتدار میں براجمان مقتدر اصحابِ فکر کی تضاد بیانی کا عالم یہ ہے کہ ایک اعلیٰ سطح پر منعقدہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم میاں شہباز شریف نے فرمایا کہ کسی کو عوام کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی،عوام کے ساتھ اس سے زیادہ استحصال اور کیا ہو گا کہ جن ایوانوں میں عوام کی پریشانیوں، اقتصادی بدحالی، انصاف کی عدم دستیابی اور دیگر مصائب کے تدارک کی آوازیں کبھی سنی جاتی تھیں وہاں کے بلاتخصیص تمام نمائندوں کو باہمی رضا مندی سے ہر قسم کی پریشانیوں اور اقتصادی تفکرات سے آزادی دلانے کے لئے قرضوں سے جکڑے ہوئے ملک اور اس کے غربت سے دوچار عوام کے مسائل کی آوازیں ختم کرانے کی خاطر تنخواہوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ کر دیا گیا ایسے میں اسی قسم کی کھیپ سے ملیا میٹ نظام کو ملک و عوام کی ضرورت اور حقیقی جمہوریت کے اصولوں کی روشنی میں استوار کرنے کی امید عبث ہے مگر جہاں تک ملکی نظام کے مسمار ہو جانے کا جس واشگاف اور مبنی برحقیقت انداز میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ذکر کیا ہے پاکستان کے موجودہ سیاسی ڈھانچے کے ہوتے ہوئے یہ انہی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

متذکرہ حقائق کے علاوہ بھی جن نکات پر بات کی گئی ہے ان کا تعلق یقینا اصلاح احوال سے ہے اور ان پر غور و فیصلہ کے لئے ملک کو بد سے بد تر حالات تک پہنچانے میں اپنا تھوڑا بہت کردار بھی ادا کیا۔ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو مصلحتوں پر قربان کرنے سے گریز کرنا ہو گا۔مقتدر ترین حلقوں ہی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بارے ملک کی بقاء اور قومی سلامتی اس کی یکجہتی کو ہر حال میں مقدم رکھ کر ایسے فیصلے کریں کہ تاریخ اُن کے نام کا احترام کرے کیونکہ قوم کی نظری فیصلہ ساز قوتوں کی طرف ہیں عام فہم لفظوں میں اب ”بال“ ان کے کورٹ میں ہے۔