ٹرمپ نے ہمیں دہشتگرد کہا، ہم خود دہشتگردی کا نشانہ بنے:مسعود پزشکیان

نیویارک (اے پی، الجزیرہ، ایرانی میڈیا) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دہشتگرد قرار دیا، حالانکہ ایرانی عوام خود دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں، ہم جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے خطاب کے دوران شہید آیت اللہ خامنہ ای اور میناب کے اسکول میں ہلاک ہونیوالے بچوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ حملوں میں عالمی قوانین کا خیال نہیں رکھا گیا، سیکڑوں افراد شہید اور ہزاروں شہری بے گھر ہوئے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران دہشتگرد نہیں، جنگ میں ایرانی شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق میناب کے بچے امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں کا نشانہ بنے جبکہ ایران کے ایک قصبے میں بچوں پر کلسٹر بم بھی گرائے گئے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ جو لوگ خود دہشتگرد ہیں وہی ایران پر دہشتگردی کا الزام لگا رہے ہیں، ایران نے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، شہریوں کو نہیں۔ایرانی صدر نے فلسطین اور غزہ کی ابتر صورتحال کو عالمی برادری کیلئے چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کیلئےعلاقائی تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کی آبی گزرگاہوں تک رسائی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، اپنے وطن کے دفاع کیلئے ایران کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

مسعود پزشکیان نے عالمی برادری سے ایران کے معاملے میں دوہرا معیار ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پرامن مقاصد کیلئے جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال ایران کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار اسرائیل کے پاس ہیں تو ایران پر پابندیاں کیوں عائد کی جا رہی ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران خطے میں سلامتی کیلئے مشترکہ تعاون چاہتا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران ایرانی وفد کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔