ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو امریکا میں خصوصی سیکیورٹی فراہم کردی گئی

نیویارک (سی این این، الجزیرہ، رائٹرز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک آمد پر امریکی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے خصوصی حفاظتی انتظامات فراہم کیے گئے ہیں۔

مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک میں موجود ہیں، جہاں ایرانی وفد کی نقل و حرکت پر امریکی حکام نے مختلف پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں جنگ کے آغاز پر جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔

الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ میناب کے اسکول پر حملہ جنگ کے آغاز کے روز ہوا اور اس میں بڑی تعداد میں شہری، جن میں بچے بھی شامل تھے، ہلاک ہوئے۔ امریکی تحقیقات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حملہ پرانی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تیار کیے گئے اہداف کے باعث غلطی سے ہوا تھا۔

ایرانی وفد کے دیگر ارکان کیلئے بھی امریکی محکمہ خارجہ کی سفارتی سیکیورٹی سروس کی جانب سے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی نیویارک میں اپنے لئے امریکی سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، جسے خطرے کے جائزے کے بعد منظور کیا گیا۔

امریکی انتظامیہ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت ایرانی وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کیلئےویزے جاری کیے تھے، تاہم نیویارک میں ایرانی وفد کی نقل و حرکت محدود رکھی گئی ہے۔