ٹرمپ کی ایران کو “قیامت” کی دھمکی، ہرمز کھولنے کی ڈیڈ لائن

واشنگٹن/تہران (رائٹرز، اے ایف پی)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ہرمز کی آبنائے نہ کھولی گئی تو “قیامت” برپا ہوگی۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دس دن کا وقت دیا تھا، جو پیر کو ختم ہونے والا ہے، اور اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں۔

ٹرمپ نے پہلے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کے توانائی، پانی اور تیل کے بنیادی ڈھانچوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ایران نے امریکی صدر پر جنگی جرائم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ گزشتہ دس دنوں کے دوران امریکا اور ایران نے پاکستان، مصر اور ترکی کے ذریعے غیر مستقیم مذاکرات کیے تاکہ ہرمز کی آبنائے کھولنے کے بدلے جنگ بندی پر اتفاق کیا جا سکے، لیکن اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا:”یاد رکھیں، میں نے ایران کو دس دن دیے تاکہ معاہدہ کریں یا ہرمز کھولیں۔ وقت ختم ہو رہا ہے48 گھنٹے میں قیامت ان پر برپا ہوگی۔”

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹرمپ کے ساتھ بات کے بعد کہا:”اگر ایران اور دیگر ممالک کو اب تک واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ جو کہتے ہیں، وہ کرتے ہیں، تو پھر کبھی نہیں سمجھ پائیں گے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ بھرپور فوجی قوت استعمال کریں گے اگر ایران ہرمز کی راہ میں رکاوٹ ڈالے اور سفارتی حل سے انکار کرے۔”

غیر مستقیم مذاکرات کی قیادت نائب صدر وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی جبکہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ثالثی کی۔ وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایران، پاکستان، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ بھی مذاکرات میں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران نے اب تک عارضی جنگ بندی کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور مستقل جنگ بندی کے واضح ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے کہ امریکا دوبارہ حملہ نہ کرے۔ ثالث اب اعتماد سازی کے اقدامات پر کام کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے لیکن پیر کی ڈیڈ لائن تک پیش رفت غیر یقینی ہے۔