تہران(عالمی میڈیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب کے دوران ایران نے اسرائیل پر جوابی وار کرتے ہوئے تابر توڑ حملے کیے۔ایرانی میڈیا کے مطابق جس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس اوول آفس میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر بڑے حملے کرنے اور اس کو پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دے رہے تھے، عین اسی وقت ایران کی اسرائیل کیخلاف بڑی کارروائی جاری تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے اسرائیل پر جوابی وار کرتے ہوئے تابڑ توڑ حملے کیے، جس کے باعث تل ابیب، حیفہ سمیت دیگر علاقے دھماکوں سے گونج اٹھے۔حملے اس وقت کیے گئے جب کہ ایک عمارت میں اعلی اسرائیلی حکام کی میٹنگ جاری تھی۔ رمات گان میں عمارت کو میزائل لگنے سےنقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
تل ابیب کے مشرقی علاقے میں میزائل لگنے سے پائپ لائن پھٹ گئی۔ عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان ہوا ،اسرائیل کے مختلف شہروں میں ایرانی میزائل حملوں سے خوف ہراس پھیل گیا۔
ایرانی سرکاری نشریات میں سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی میزائل اسرائیل کےشہری علاقے میں گھس کر ٹکرایا، جس سے شدید دھماکا ہوا اور آگ کے شعلے بلند ہو گئے، جبکہ دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل کا میزائل دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں ناکام رہا۔
دوسری جگہ ایران کا ایک اور میزائل Petah Tikva کے علاقے میں گرا، جس سے شدید دھماکا ہوا اور آگ کے شعلے بلند ہو گئے، اور دعویٰ ہے کہ اسے بھی روک نہیں پائے گئے۔اسی دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب سمندر میں ایک دشمن طیارہ مار گرایا ہے اور ایک جدید طیارے کو نیول ایئر ڈیفنس نے نشانہ بنایا ہے۔

