واشنگٹن (بلوم برگ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ خطے کو ایٹمی خطرات سے پاک کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ کے بعد خطے میں نئے اقتصادی مواقع بھی پیدا ہونگے۔
معاہدہ ابراہیمی کیا ہے؟
معاہدہ ابراہیمی دراصل مختلف معاہدوں کا مجموعہ ہے، جن کے ذریعے اسرائیل اور متعدد مسلم ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں امریکا ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ان معاہدوں میں دو طرفہ نوعیت کے معاہدے شامل ہیں جو تجارت، سلامتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے کیے گئے ہیں۔

