پاکستان، کینیڈا تعلقات میں تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے:محمد سلیم

ٹورنٹو(میاں‌حبیب اللہ سے) پاکستان کے کینیڈا میں ہائی کمشنر محمد سلیم نے کہا ہے کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، فوڈ، معدنیات، ہیلتھ کیئر اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، دونوں ممالک کے درمیان وفود کے تبادلے اور بزنس ٹو بزنس رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سینئر صحافی اور کالم نگار میاں حبیب اللہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویومیں گفتگو کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہا کہ سفارتخانہ ہر ملک کا آئینہ ہوتا ہے اور کینیڈا جیسے ملک میں پاکستان کا سفارتخانہ ایک منی پاکستان اور پاکستان کا گھر ہے، جہاں پاکستانی کمیونٹی زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی سروسز، بزنس، ٹریڈ اور زندگی کے دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات بھی ترقی کر رہے ہیں۔

محمد سلیم نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے اور اس بدلتی ہوئی دنیا میں سفارت کاری ممالک کے درمیان مشترکہ مفاد اور ایک دوسرے کیلئے مواقع پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے کینیڈا ایک ایسا ملک ہے جہاں پاکستانیوں کیلئے بہت سے مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت انتہائی اہم ہے، سروسز، تعلیم، طلبہ اور روزگار سمیت دیگر شعبوں میں بھی پاکستانیوں کیلئے مواقع موجود ہیں۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ اکنامک ڈپلومیسی اس وقت سب سے اہم ہے اور دنیا کے تمام ممالک اکنامک ڈپلومیسی کو اپنی فارن پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ کینیڈا کی آبادی 42 ملین جبکہ پاکستان کی آبادی 250 ملین ہے، اس لیے پاکستان کی ایکسپورٹ کیلئے پہلا فیکٹر مارکیٹ سائز ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2015 میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان گڈز اینڈ سروسز سمیت ٹوٹل ٹریڈ 1.2 بلین امریکی ڈالر تھی، جس میں 560 ملین ڈالر گڈز جبکہ 208 ملین ڈالر سروسز کے تھے۔

محمد سلیم نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے، کینیڈا اس حوالے سے ایک بہت اہم ملک ہے اور امریکا کا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے بھی اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان سے کینیڈا آنیوالی مقبول مصنوعات میں ٹیکسٹائل مصنوعات سرفہرست ہیں، جن میں مردوں، خواتین اور بچوں کے ملبوسات شامل ہیں اس کے علاوہ ٹیکسٹائل میں ہوزری اور اپیرل بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق دوسری اہم کیٹیگری فوڈ پروڈکٹس کی ہے، جن میں باسمتی چاول، موسمی پھل، آم، مالٹے اور پاکستانی مصالحے شامل ہیں۔ہائی کمشنر نے بتایا کہ تیسری اہم کیٹیگری اسپورٹس گڈز کی ہے، کینیڈا میں ونٹر اسپورٹس کی وجہ سے پاکستان کی لیدر مصنوعات، فٹبال، ہاکی کٹس، کرکٹ کٹس، ونٹر اسپورٹس کا سامان، موٹر بائیکس، لیدر سوٹس اور دیگر اسپورٹس گڈز کی طلب موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرجیکل اور فارماسیوٹیکلز کی تجارت فی الوقت ویلیو اور والیوم کے لحاظ سے کم ہے، تاہم پاکستان کو اپنا ایکسپورٹ بیس وسیع کرنا ہوگا۔محمد سلیم کے مطابق پاکستان سے آنے والی روایتی مصنوعات کے علاوہ نئی مصنوعات بھی متعارف کروائی گئی ہیں اور ان میں سب سے زیادہ مقبول آئی ٹی ہے۔انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، ہارڈویئر ڈیولپمنٹ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی آئی ٹی گریجویٹس کیلئے کینیڈا میں بہت اسکوپ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہیومن ریسورس کے حوالے سے بھی ہیلتھ کیئر، میڈیکل ڈاکٹرز اور نرسنگ کے شعبوں میں مواقع موجود ہیں، تاہم پاکستان میں پہلی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کینیڈا میں مزید 2 سے 3 سال تعلیم حاصل کرنا ہوتی ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ ہیومن ریسورس، کوالیفائیڈ اسکلڈ پروفیشنلز، آئی سی ٹی پروڈکٹس اور دیگر ایسی اشیا جنہیں پاکستان مسابقتی معیار اور مسابقتی قیمت پر برآمد کر سکتا ہے، ان شعبوں میں پاکستان کو اپنی ایکسپورٹ بیس وسیع کرنا ہوگی۔

انہوں نے کینیڈا آنے کے خواہشمند افراد کے حوالے سے کہا کہ قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے، کینیڈا امیگرنٹس کا ملک ہے اور گزشتہ 200 سالوں کی تاریخ میں یورپ، افریقہ، ایشیا اور دنیا بھر سے لوگ یہاں آئے، اپنا کیریئر بنایا، اپنی قسمت بنائی اور کاروبار ترقی دیے۔محمد سلیم نے بتایا کہ کینیڈا کا امیگریشن سے متعلق محکمہ امیگریشن، ریفیوجی اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC) ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے افراد کیلئے IRCC کی ویب سائٹ بہت انٹرایکٹو اور یوزر فرینڈلی ہے، جہاں مختلف کیٹیگریز میں آنے کے طریقہ کار کی تفصیلات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی شخص طالب علم کے طور پر کینیڈا آ سکتا ہے، دوسری یا تیسری ڈگری حاصل کرنے کے بعد ورک پرمٹ ملنے کی صورت میں یہاں کام کر سکتا ہے، اسی طرح انویسٹر یا امیگرنٹ کے طور پر بھی آنے کے راستے موجود ہیں۔ افراد IRCC کی ویب سائٹ پر موجود معلومات سے اپنی کیٹیگری کا اندازہ لگا کر شرائط پوری ہونے کی صورت میں اپلائی کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے بھی سیزن کے حساب سے ورکرز لاتے ہیں، زیادہ تر کیریبین سے لوگ آتے ہیں کیونکہ وہاں ایک ہی سیزن ہوتا ہے جبکہ کینیڈا میں سردیوں کے دوران برف پڑتی ہے۔

پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات

محمد سلیم نے پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ 19 سال بعد کینیڈا کی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ ہوا، یہ ایک آئس بریکنگ وزٹ تھا کیونکہ تقریباً 15 سے 20 سال کے عرصے میں فارن منسٹر لیول پر یہ پہلا دورہ تھا، اس لیے یہ بہت اہم تھا۔

انہوں نے بتایا کہ کینیڈین وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان سے ملاقات ہوئی، ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی جبکہ اکنامک افیئرز، ایگریکلچر، کامرس، انٹیریئر اور وفاقی حکومت کی مختلف وزارتوں کے حکام سے بھی ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔

محمد سلیم نے بتایا کہ پنجاب حکومت کے ایک وزیر اس وقت ٹورنٹو میں موجود ہیں، اونٹاریو آبادی کے لحاظ سے کینیڈا کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور پنجاب حکومت کا وفد ایک ہفتے کیلئے یہاں آیا ہے، جبکہ اکتوبر میں اس کا ایک وفد پاکستان جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا ایک بائی لیٹرل انویسٹمنٹ پروموشن ایگریمنٹ پر مذاکرات کر رہے ہیں۔

ہائی کمشنر کے مطابق ستمبر میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کا وفد کراچی میں ہونے والی ایگریکلچر فوڈ ایکسپو میں شرکت کرے گا، جبکہ نومبر میں اسلام آباد میں حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں کینیڈا سے بھی وفد شرکت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں، صوبوں اور وفاق کی سطح پر وفود کے تبادلوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ بزنس ٹو بزنس کنیکٹیوٹی اور فسیلیٹیشن کے ذریعے کاروباری افراد خود طے کر سکیں کہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کے حوالے سے کہاں مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

ایکسپوز کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کی تشہیر

کینیڈا گیٹ وے ایکسپو کے حوالے سے محمد سلیم نے کہا کہ ایکسپوز سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ پاکستان کے وفود ہر سال کینیڈا میں پانچ بڑے ایگزیبیشنز میں شرکت کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایگریکلچر اور فوڈ کا ایک ایگزیبیشن “سیال فوڈ” ہے، حکومت پاکستان، وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ہر سال وفد بھیجتی ہیں جو ٹورنٹو اور مونٹریال میں ہونے والی نمائشوں میں شرکت کرتا ہے۔

اسی طرح ٹیکسٹائل کا “اپیرل ٹیکسٹائل” کے نام سے ہر سال انٹرنیشنل ایگزیبیشن ہوتا ہے جس میں پاکستان کی ٹیکسٹائل کمپنیاں شرکت کرتی ہیں، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور لاہور سمیت تمام بڑے ایکسپورٹرز اس میں شریک ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی کا ایگزیبیشن “ویب سمٹ” وینکوور میں ہوتا ہے، جس میں پاکستان سے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور پاکستان ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر ڈویلپرز (پاشا) اپنی کمپنیوں کو نامینیٹ کرکے بھیجتے ہیں۔

محمد سلیم نے کہا کہ پاکستان مائنز اینڈ منرلز کے لوگ بھی ٹورنٹو میں ہر سال یکم سے 4 مارچ تک ہونے والے “پی ڈیک” (PDAC) میں شرکت کرتے ہیں، جس میں پاکستان کی صوبائی حکومتوں، پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور ایس آئی ایف سی کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی بڑے ایگزیبیشنز ہوتے ہیں، جن میں کراچی میں ایگریکلچر ایکسپو، ٹیکسٹائل ایکسپو اور مائنز اینڈ منرلز فورم شامل ہیں۔

ان کے مطابق ایگزیبیشنز کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے دو یا تین دن میں متعلقہ شعبے کی اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری سے وابستہ افراد سے ملاقات ہو سکتی ہے، بزنس ڈیلز سائن کی جا سکتی ہیں، ایگریمنٹس اور ایم او یوز کیے جا سکتے ہیں اور اس کے بعد کاروبار فروغ پاتا ہے۔

پاکستانی آم کی کینیڈا میں طلب

پاکستانی آم کی کینیڈا میں طلب کے حوالے سے محمد سلیم نے کہا کہ کارگو جہاز چلانے میں پاکستان سے کینیڈا تقریباً 14 سے 15 گھنٹے کی براہ راست پرواز ہے، اس لیے اس کی لاگت بہت زیادہ ہوگی اور ایکسپورٹر کیلئے اس لاگت پر مصنوعات کو مارکیٹ میں فروخت کرنا لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک لاجسٹک ایشو ہے، براہ راست پی آئی اے کی ہفتے میں صرف چار پروازیں ہیں، اس کے علاوہ ترکش ایئرلائن، اتحاد ایئرویز، امارات، قطر ایئرویز اور سعودی ایئرلائن سمیت مختلف کنیکٹنگ فلائٹس بھی آتی ہیں، تاہم ہر ایئرلائن کے پاس وائیڈ باڈی اور بیگیج والے ایئرکرافٹ نہیں ہوتے۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ آم کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ انتہائی جلد خراب ہونے والا پھل ہے، فارم سے اتارے جانے کے بعد ایک ہفتے کے اندر اسے ڈائننگ ٹیبل تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے، ورنہ اس کے خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد کیلئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ کارگو فلائٹس کے ذریعے آم لائے جائیں اور پھر صارفین تک سپلائی کیے جائیں، کیونکہ ٹورنٹو پہنچانے کے بعد کینیڈا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تقریباً 7 گھنٹے کی فلائٹ ہے۔

محمد سلیم کے مطابق پورے ملک میں مقامی لاجسٹکس کی لاگت بہت زیادہ ہوگی، تاہم مونٹریال، وینکوور، ٹورنٹو اور گریٹر ٹورنٹو ایریا جیسے بڑے شہروں میں پاکستانی آم لایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنیکٹنگ اور براہ راست پروازوں میں دستیاب کارگو، اضافی بیگیج اور لوڈ کیپیسٹی پاکستانی ایکسپورٹرز استعمال کر رہے ہیں۔

کینیڈا سے پاکستان براہ راست پروازیں

کینیڈا سے پاکستان براہ راست پروازوں کے حوالے سے محمد سلیم نے واضح کیا کہ ایئر کینیڈا نہیں بلکہ کینیڈا کی کوئی بھی ایئرلائن پاکستان کیلئے پروازیں شروع کر سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان بائی لیٹرل ایئر سروس ایگریمنٹ کے تحت پانچ پروازیں پاکستان سے کینیڈا آ سکتی ہیں اور اسی طرح پانچ پروازیں کینیڈا سے پاکستان جا سکتی ہیں۔

محمد سلیم نے کہا کہ کینیڈا کی نجی شعبے کی ایئرلائن “ایئر ٹرانزٹ” نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ساتھ ابتدائی پروازوں کے حوالے سے اتفاق کیا ہے اور وہ کسی بھی ایئرلائن کے ساتھ کوڈ شیئرنگ کے ذریعے ابتدائی پروازیں شروع کریں گے، اس کے بعد مارکیٹ سائز اور بزنس ماڈل کو دیکھتے ہوئے مزید پیش رفت ہوگی۔

کینیڈا میں پاکستانی ثقافت کا فروغ

پاکستانی ثقافت کو کینیڈا میں متعارف کرانے کے حوالے سے ہائی کمشنر محمد سلیم نے کہا کہ کلچرل پروموشن اور کلچرل پروجیکشن کیلئے پاکستان کے پاس بہت بڑا اثاثہ ہے کیونکہ کینیڈا میں تین لاکھ سے زیادہ پاکستانی کمیونٹی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے کسی بھی بڑے شہر میں پاکستانی ریسٹورنٹس ملتے ہیں، جبکہ سرے، وینکوور آئی لینڈ، مونٹریال، ہیلی فیکس، ٹورنٹو، ونی پیگ اور نووا سکوشیا سمیت مختلف علاقوں میں پاکستانی گروسری اسٹورز، جیولری، کپڑے، پاکستانی کزین اور ہینڈی کرافٹس بھی دستیاب ہیں۔

محمد سلیم نے کہا کہ کینیڈا میں طویل موسم سرما کے بعد موسم گرما کا سیزن مئی سے ستمبر تک مختصر ہوتا ہے، پاکستان سے مختلف کلچرل ٹروپس یہاں آتے ہیں اور زیادہ تر کمرشل ایکٹیویٹی کے ذریعے پروگرامز میں شرکت کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جہاں پاکستانی کمیونٹی زیادہ ہے، خصوصاً ٹورنٹو، مونٹریال اور وینکوور آئی لینڈ میں پاکستان کے فنکار، گلوکار اور پرفارمرز باقاعدگی سے آتے ہیں۔ ان پروگرامز میں کینیڈین اور پاکستانی کینیڈین دونوں شریک ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سفارتخانہ اور قونصل خانے بھی باقاعدگی سے قومی دن مناتے ہیں، جن میں 14 اگست، 23 مارچ، کشمیر یکجہتی کے حوالے سے پروگرامز اور عید میلاد النبی ﷺ سمیت مختلف مواقع شامل ہیں۔

محمد سلیم کے مطابق عیدین کے مواقع پر بھی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ مل کر پروگرامز کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 14 اگست کے بعد ویک اینڈ پر پورے کینیڈا کے تمام بڑے شہروں میں جہاں 50 سے زیادہ پاکستانی موجود تھے، پاکستان کے یوم آزادی کے حوالے سے کیک کٹنگ تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں مقامی ایم پیز، ایم پی پیز اور کونسلرز کے علاوہ کینیڈین پڑوسیوں اور دوستوں کو بھی مدعو کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کمیونٹی، سفارتخانہ اور قونصل خانے مل کر پاکستان کو اس کے بھرپور ثقافتی ورثے کے ذریعے متعارف کرانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔

کینیڈا میں مذہبی آزادی اور پاکستانی کمیونٹی

اسلاموفوبیا اور مذہبی آزادی کے حوالے سے محمد سلیم نے کہا کہ کینیڈا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں رول آف لاء، فریڈم آف ایکسپریشن اور فریڈم آف ریلیجن کو اہمیت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اور مختلف براعظموں میں جو مسائل ہیں، ان کے مقابلے میں کینیڈا ایک پرامن ملک اور ملٹی کلچرل سوسائٹی ہے، جہاں پاکستانی کمیونٹی خصوصاً مسلمان کمیونٹی خود کو گھر جیسا محسوس کرتی ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ دنیا بھر میں پیش آنے والے واقعات کے مقابلے میں کینیڈا لوگوں کیلئے زیادہ محفوظ، پرسکون اور پُرامن ملک ہے۔

پاکستانی کمیونٹی کیلئے ہائی کمشنر کا پیغام

پاکستانی کمیونٹی کیلئے اپنے پیغام میں محمد سلیم نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ان کا باقاعدہ انٹریکشن رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کی محنتی، ذہین، قانون پسند اور پُرامن کمیونٹی کے طور پر جو شہرت ہے، اسے قائم و دائم رکھنا چاہیے۔ اپنی محنت، دیانت داری اور قوانین کی پاسداری کی روایت کو جاری و ساری رکھ کر اس شہرت میں مزید چار چاند لگائے جا سکتے ہیں۔

گفتگو کے اختتام پر میاں حبیب اللہ نے کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں بہت کامیاب، باصلاحیت اور محنتی لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے آنے والا شخص عموماً سرمایہ ساتھ لے کر نہیں آتا، لیکن پاکستانیوں نے کینیڈا میں محنت کرکے نہ صرف اپنا سماجی رتبہ بنایا بلکہ معاشرے میں اپنا مقام بھی قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں ایسی بہت سی کامیابیوں کی مثالیں موجود ہیں جہاں لوگوں نے انتہائی چھوٹے پیمانے سے کام شروع کیا اور آج وہ ملین اور بلینئرز بن چکے ہیں۔

میاں حبیب اللہ نے کہا کہ کینیڈین معاشرہ لوگوں کو محنت کی طرف راغب کرتا ہے، جبکہ کینیڈا میں صفائی اور ماحول کے حوالے سے بھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں انہیں کہیں شاپر بیگ نظر نہیں آیا اور صفائی کے باعث ماحول اور فضا بہت بہتر محسوس ہوتی ہے۔پاکستان میں بھی یہ سب کچھ کیا جا سکتا ہے آلودگی پر قابو پانے کیلئے شجرکاری کی طرف جانا چاہیے اور ایسے ممالک سے سیکھنا چاہیے۔