اسلام آباد: گرفتار غیر ملکی اسکیمر کا پاکستان میں بیٹھ کر اسکیمز سے ماہانہ 80 ہزار ڈالر کمانے کا اعتراف

اسلام آباد(ایجنسیاں) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی کارروائی کے دوران گرفتار انڈونیشین اسکیمر نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا گینگ مبینہ طور پر آن لائن اسکیمز کے ذریعے ماہانہ 80 ہزار ڈالر کماتا ہے۔انڈونیشین اسکیمر نے بتایا کہ ان کا ہدف انڈونیشیا کی 40 سال سے زائد عمر کی خواتین ہوتی ہیں۔

ملزم کے مطابق وہ 3 ماہ قبل شیف کے طور پر پاکستان آیا اور آن لائن اسکیمز میں ملوث رہا۔ اس نے بتایا کہ وہ 9 افراد پر مشتمل گروپ کا حصہ ہے، جس میں 2 چینی اور 7 انڈونیشین شہری شامل ہیں۔غیر ملکی جعلسازوں کے خلاف جاری کارروائی کے سلسلے میں سائبر کرائم تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کا دائرہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، ایف بی آر اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) تک بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ امیگریشن، پاسپورٹس اور ویزا اتھارٹیز سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کے پاکستان میں داخلے، قیام، کاروباری سرگرمیوں اور مبینہ سائبر کرائم نیٹ ورک سے تعلق کی جانچ جاری ہے۔تحقیقات کے دوران پاکستان میں بیٹھ کر دنیا بھر میں مبینہ آن لائن اسکیمز چلانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسکیمر کی فراہم کردہ معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں موجود گروپ مبینہ طور پر بیرون ملک افراد کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ پاکستان میں بیٹھے اسکیمرز دنیا کے مختلف ممالک میں موجود افراد کو مبینہ طور پر آن لائن فراڈ کا نشانہ بنا رہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ پاکستان سے باہر موجود ممکنہ متاثرین اور مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ افراد تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور پولیس کی مشترکہ تحقیقات میں مالی لین دین اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی بھی جانچ جاری ہے۔