اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم ظاہر جعفر نے ذہنی مریض ہونے کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، تاہم ظاہر جعفر نے ایسے شواہد پیش نہیں کیے جن کی بنیاد پر عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرم انتہائی سنگین جرم کا مرتکب ہوا، اس کا جرم ایسا نہیں تھا کہ اس کی سزا میں کمی کی جا سکے۔عدالت نے قرار دیا کہ نظرثانی میں عدالت کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوتا ہے اور نظرثانی کی درخواست کو اپیل کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام نے خواتین کو بے حد تحفظ اور احترام فراہم کیا ہے، خواتین کو تشدد اور عدم تحفظ کا شکار کرنا شرعی اور دنیاوی قوانین کے خلاف ہے۔خیال رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو نور مقدم سے زیادتی اور قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔
20 جولائی 2021 کو عیدالاضحیٰ کے روز اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں نور مقدم کے بہیمانہ قتل نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔پولیس نے تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر واقعے سے قبل اپنے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سے مسلسل رابطے میں رہا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے والدین نے پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے تھراپی ورکس سے رابطہ کیا۔ تھراپی ورکس کی ٹیم جائے وقوع پر پہنچی تو ملزم ظاہر جعفر نے مبینہ طور پر تھراپی ورکس کے ملازم امجد کو چاقو کے وار کرکے زخمی کردیا۔
پولیس کے پہنچنے تک نور مقدم کا قتل ہوچکا تھا اور مقتولہ کی سربریدہ لاش وہاں موجود تھی۔پولیس نے ملزم کو خون آلود قمیض میں گرفتار کیا جبکہ جائے وقوع سے آلۂ قتل بھی برآمد کیا گیا۔شواہد چھپانے اور جرم میں معاونت کے الزام میں پولیس نے قتل کے 5 روز بعد 25 جولائی کو ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سمیت دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کرلیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نور مقدم کو پہلی منزل سے چھلانگ لگا کر زخمی حالت میں گھر سے نکلنے کی کوشش کرتے اور ظاہر جعفر کو دست درازی کرتے دیکھا گیا۔ فوٹیج میں ملزم کے ملازمین بھی نظر آئے جنہوں نے کسی موقع پر ملزم کو روکنے یا نور مقدم کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔
کیس کا باقاعدہ ٹرائل 20 اکتوبر 2021 سے شروع ہوا اور 25 سماعتوں پر مشتمل رہا۔نور مقدم قتل کیس کا اسپیڈی ٹرائل 4 ماہ 8 دن جاری رہا، جس کے دوران 19 گواہان کے بیانات قلم بند ہوئے۔پہلی پیشی سے ہی ملزم کبھی پولیس اور کبھی عدالت کے جج سے الجھتا اور کمرۂ عدالت میں عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہا۔دورانِ سماعت مرکزی ملزم نے خود کو ذہنی مریض ثابت کرنے کیلئےہر حربہ آزمایا، پولیس بھی ملزم کو کبھی اسٹریچر تو کبھی وہیل چیئر پر عدالت لاتی رہی۔

