پاکستان اور قائد کا بیوروکریٹ ؟

14 اپریل 1948 کو پشاور میں سول افسران سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے واضح کیا کہ،، سرکاری ملازمین کو سیاسی دباؤ سے متاثر ہوئے بغیر اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں،، ان کا پیغام بنیادی طور پر یہی تھا کہ افسر کسی فرد یا سیاسی گروہ کا نہیں بلکہ ریاست کا ملازم ہے،یہی وہ مقام ہے جہاں آج کے پاکستان اور قائداعظم کے تصور میں فرق نمایاں ہونا شروع ہوتا ہے،قائد کا افسر کس کا آدمی تھا؟

قائداعظم کے تصور میں بیوروکریٹ کسی وزیر کا آدمی نہیں تھا، کسی رکن اسمبلی کا ذاتی نمائندہ نہیں تھا، کسی طاقتور خاندان کا وفادار نہیں تھا اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا کارکن تھا،وہ پاکستان کا افسر تھا،اس کی وفاداری آئین اور قانون سے تھی اور اس کا آخری مقصد عوام کی خدمت تھا،لیکن آج ہمارے ہاں کسی افسر کے بارے میں یہ سوال اکثر پہلے پوچھا جاتا ہے کہ “یہ کس کا آدمی ہے؟” اور یہ سوال ہی ہمارے انتظامی بحران کی بڑی علامت ہے۔

کسی افسر کی قابلیت، تجربہ اور دیانت داری سے پہلے اس کے تعلقات زیر بحث آتے ہیں۔ کون اسے پسند کرتا ہے؟ کس کے قریب ہے؟ کس کی سفارش رکھتا ہے؟ کس حکومت یا گروپ کا اعتماد حاصل ہے؟اگر کسی ریاست میں افسر کی پہچان اس کی کارکردگی کے بجائے اس کے تعلقات بن جائیں تو پھر میرٹ آہستہ آہستہ ایک خوبصورت لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔پاکستان کی بیوروکریسی میں تبادلہ ہمیشہ سے ایک اہم انتظامی اختیار رہا ہے، کسی افسر کو بہتر جگہ پر بھیجنا، ناکام افسر کو تبدیل کرنا یا انتظامی ضرورت کے مطابق ذمہ داری بدلنا حکومت کا حق ہے مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تبادلہ کارکردگی کے بجائے پسند اور ناپسند کا پیمانہ بن جائے،ایک افسر کو اس لیے اہم پوسٹ ملے کہ وہ بااثر لوگوں کے قریب ہے اور دوسرے کو اس لیے ہٹا دیا جائے کہ اس نے کسی طاقتور شخص کی خواہش پوری کرنے سے انکار کردیا،یہ طرز عمل صرف ایک افسر کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پوری سروس کو ایک خاموش پیغام دیتا ہے،پھر افسر بھی خطرہ مول لینے سے گریز کرتا ہے، وہ فائل پر اصولی رائے لکھنے کے بجائے خاموش رہنے کو بہتر سمجھتا ہے، وہ فیصلہ کرنے کے بجائے معاملہ مؤخر کرتا رہتا ہے، وہ یہ تو دیکھتا ہے کہ قانون کیا کہتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھتا ہے کہ “اوپر والے ” کیا چاہتے ہیں۔

کیا آج وہ بیوروکریسی نہیں جس کا تصور قائداعظم نے کیا تھا،افسر حاکم نہیں خادم تھا،قائداعظم کے نزدیک سرکاری عہدہ اختیار کا تاج نہیں بلکہ ذمہ داری کی امانت تھا،بدقسمتی سے ہمارے انتظامی کلچر میں آج بھی ایک نوآبادیاتی ذہنیت کے آثار دکھائی دیتے ہیں،سرکاری دفتر میں شہری کبھی کبھی ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ کسی افسر کے پاس اپنا حق لینے نہیں بلکہ احسان مانگنے آیا ہے،فائل پر دستخط ایک معمول کا سرکاری عمل ہونے کے بجائے ایک خاص اختیار بن جاتا ہے،ملاقات ایک حق کے بجائے رعایت محسوس ہوتی ہے، ایک عام شہری کو سرکاری دفتر کے کئی چکر لگانے پڑتے ہیں جبکہ طاقتور شخص کا کام ایک فون پر ہوجاتا ہے،یہ فرق دراصل ریاست کے دو چہروں کو جنم دیتا ہے،ایک ریاست بااثر لوگوں کیلئے اور اور دوسری عام شہری کیلئے،ذرا سوچیں،قائداعظم کے پاکستان میں یہ تقسیم قابل قبول نہیں ہوسکتی تھی؟

11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر میں قائداعظم نے قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے برابر حقوق کا تصور پیش کیا تھا، اس تصور کو عملی شکل دینے میں بیوروکریسی کا کردار بنیادی تھا، اگر قانون سب کیلئے برابر ہے تو اسے نافذ کرنے والا افسر بھی سب کے ساتھ برابر کا سلوک کرے گا،دیانت داری صرف رشوت نہ لینے کا نام نہیں،ہم نے سرکاری دیانت داری کا تصور بھی بہت محدود کر دیا ہے،ایک افسر رشوت نہیں لیتا تو اسے دیانت دار سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ دیانت داری کا دائرہ کہیں وسیع ہے،میرٹ کے خلاف تقرری بھی بددیانتی ہے،غلط شخص کو فائدہ پہنچانا بھی بددیانتی ہے،قواعد کی خلاف ورزی کرکے کسی کو نوازنا بھی بددیانتی ہے،جان بوجھ کر فائل روکنا بھی بددیانتی ہے،حقیقت چھپا کر حکومت کو غلط مشورہ دینا بھی بددیانتی ہے،اور سیاسی دباؤ کے تحت غلط فیصلہ کرنا بھی بددیانتی ہے،قائداعظم جس افسر کے خواہاں تھے وہ صرف اپنی جیب نہیں بلکہ اپنا ضمیر اور اپنا فیصلہ بھی صاف رکھتا تھا۔

کیا آج کا افسر قصوروار ہے؟پاکستان میں آج بھی بے شمار ایسے افسر موجود ہیں جو دیانت داری، محنت اور اصول کے ساتھ کام کر رہے ہیں، بہت سے افسر سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہیں، دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دیتے ہیں اور اپنی ملازمت کو واقعی عوامی خدمت سمجھتے ہیں۔لہٰذا مسئلہ ہر افسر کا نہیں، نظام کے اس کلچر کا ہے جو بعض اوقات اصولی افسر کیلئے بھی مشکل پیدا کردیتا ہے،اگر ایک افسر قانون کے مطابق فیصلہ کرے اور اسے بار بار تبدیل کردیا جائے تو اگلا افسر کیا سیکھے گا؟وہ یہی سیکھے گا کہ اصولوں کے ساتھ چلنے سے کیریئر مشکل ہوسکتا ہے اور اگر اس کے برعکس وہ ہر طاقتور شخص کی خواہش پوری کرے اور اسے مسلسل اہم پوسٹنگ ملتی رہے تو نظام خود افسر کو ایک مختلف سبق پڑھا رہا ہوتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔جمہوری نظام میں بیوروکریسی کو منتخب حکومت کی پالیسیوں پر عمل کرنا چاہیے، یہ اس کی آئینی اور انتظامی ذمہ داری ہے،لیکن حکومت کی پالیسی اور کسی حکمران کی ذاتی خواہش میں فرق ہونا چاہیے،بیوروکریٹ حکومت کا وفادار افسر ضرور ہو، مگر کسی سیاسی شخصیت کا تابع فرمان نہ بنے۔حکومت پالیسی بنائے، افسر قانون کے مطابق اس پر عمل کرے،اور اگر سیاست دان انتظامی فیصلوں کو ذاتی پسند و ناپسند کے تابع کردیں تو بیوروکریسی کی غیر جانب داری ختم ہوجاتی ہے،قائداعظم شاید اسی توازن کو قائم دیکھنا چاہتے تھے،ہم نے 1947 میں بیرونی حکمرانی سے آزادی حاصل کی تھی لیکن ریاستی اداروں کو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا ذریعہ بنانا آج بھی ایک مسلسل عمل ہے،آزادی کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ شہری اپنے ہی ملک کے سرکاری دفتر میں بے اختیار محسوس نہ کرے،اسے اپنا حق لینے کیلئےسفارش تلاش نہ کرنا پڑے،اسے کسی بااثر شخص کا حوالہ نہ دینا پڑے،اسے یہ خوف نہ ہو کہ قانون اس کیلئےکچھ اور اور طاقتور شخص کیلئےکچھ اور ہے۔

آج پاکستان کو ایسا افسر چاہیے جو قاعدے ، قانون کی کتاب ہاتھ میں رکھ کر فیصلہ کرے، فون کی گھنٹی سن کر نہیں، ایسا افسر جس کیلئےفائل پر لکھی ہوئی دلیل، فون پر دی گئی ہدایت سے زیادہ اہم ہو، ایسا افسر جو جانتا ہو کہ اس کی پوسٹنگ عارضی ہے لیکن اس کا فیصلہ تاریخ کا حصہ بن سکتا ہے اور یہی قائداعظم کا بیوروکریٹ ہے ، پاکستان میں ایسے افسر آج بھی موجود ہیں جو سفارش اور سیاسی دباؤ کے باوجود قانون پر قائم رہتے ہیں، عوام کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھتے ہیں اور عہدے کو ذاتی مفاد کے بجائے قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں،ضرورت صرف یہ ہے کہ نظام ایسے افسر کو کمزور نہ کرے بلکہ مضبوط کرے۔