صحافت پر گہری نظر

میرا کراچی پریس کلب آنا جانا 1980ءسے ہے یا یوں کہوں جس زمانے میں جامعہ کراچی میں صحافت میں ایم اے کر رہا تھا، اُس زمانے سے ہے ۔ بقول انقلابی شاعر فیض احمد فیض ’’ملک میں جو کام پریس کو کرنا تھا وہ کراچی پریس کلب کر رہا ہے۔‘‘ تب میں دوستوں سے کہا کرتا تھا کہ میرا اپنا گھر عارضی ہے، ایڈریس بیسیوں بار بدلےہیں اور شاید آئندہ بھی بدلتے رہیں مگر میرا مستقل پتہ 267 سرور شہید روڈ یعنی کراچی پریس کلب ہے ۔ ہم اکثر صحافیوں کے تحفظ کی باتیں کرتے رہتے ہیں گو ہماری سرکار نے اس کا آسان حل نکال لیا ہے وہ تمام راستے ہی بند کر دیے جاتے ہیں کنٹینرز اور ٹینکر، کھڑے کر کے ۔ اب ہمارے تحفظ کیلئے انہوں نے یہ مشورہ دینا بھی شروع کردیا ہے کہ کونسے پروگرام کی اجازت ہے اور کونسا پروگرام قومی مفاد میں نہیں ۔ اب اس سے زیادہ ہم کو تحفظ کون دے سکتا ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کراچی پریس کلب میں آزادی کی وہ خوشی اورخوشبو محسوس نہیں ہوتی جس کا میں عادی تھا، جس نے مجھے ظالم حکمرانوں کے آگے کلمہ حق کہنا سکھایا۔ آج کا سچ یہ ہے کہ ہے” بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی…. جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی” ۔ بات اگر صرف کراچی پریس کلب تک ہی محدود ہوتی تو یہ بات کی جا سکتی تھی کہ اسے اپوزیشن اور اختلاف رائے رکھنے والوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے چنانچہ اسکے ارد گرد رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں! یہ کریڈٹ بہر حال ہمارے سویلین حکمرانوں کو جاتا ہے اور اس حمام میں سب ایک ہی جیسے نظر آتے ہیں کہ صحافت پر پابندی صرف مارشل لا کی میراث نہیں، جو پابندیاں آج نظر آرہی ہیں وہ سب کبھی نہ کبھی پہلے دیکھ چکے ہیں ۔ ایک بڑا فرق جو بہت واضع نظر آیا، یہ کہ پہلے پابندی یہ ہوتی تھی، ہدایت یہ ہوتی تھی کہ یہ نہیں جا سکتا، وہ نہیں جاسکتا۔ اب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ نہیں یہ جا سکتا ہے، فلاں آواز نہیں بنائی جا سکتی اورفلاں کی آواز پر کوئی پابندی نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کا میڈیا ، اس کے اسٹیک ہولڈرز اور صحافتی یونین یہ پابندیاں ختم کروانے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو جواب بد قسمتی سے نفی میں ملتا ہے، اور شائد اسی لیے مجھے آج کراچی پریس کلب میںبھی گھٹن محسوس ہوتی ہے ۔ کچھ ایسا ہی حال صحافتی ٹریڈ یونینوں کا ہو گیا ہے کہیں صحافتی اصولوں کی قیمت وصول کی جا رہی ہے توکہیں صحافتی اصولوں سے ہی نا واقفیت نظر آتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ، ہم نے وہ فاصلے ہی ختم کر دیے ہیں جو صحافی کو حکمرانی سے دور اور عوام سے قریب رکھتے تھے ۔ خیر یہ تو وہ رہی مختصر سی بات کے آج آزادی صحافت پر پابندیوں کے خلاف مزاحمت کیوں دم توڑ گئی، اب تو بات یہاں تک آ گئی ہے کے پہلے جنہیں، بات کلب کے باہر دیوار سے کان لگا کر بات سننا پڑتی تھی اب انہیں ماشا الله اندر تک رسائی حاصل ہو گئی ۔ کئی سال پہلے اسپیشل بر انچ کا ایک اہلکار پریس کلب کے باہر کھڑا ہو کر اندر کی خبریں جمع کیا کرتا تھا ۔ ایک بار مجھے کہنے لگا ” مظہر صاحب آپ لوگ مجھ کو ممبر شپ کیوں نہیں دیتے آپ بھی اپنے دفتر کو رپورٹ کرتے ہیں اور ہم بھی ،بس فرق یہ ہے کے آپ کی خبریں چھپ جاتی ہیں اور ہماری فائلوں میں محفوظ ہو جاتی ہیں ۔”

آج جن پابندیوں کا میڈیا کو سامنا ہے وہ غیر معمولی ہیں ؟ ۔ آخر کیوں ہر حکومت مارشل لا کی ہو یا نام نہاد سویلین، میڈیاسے خوف کھاتی ہے؟خبر درست ہے یا فیک اس کا فیصلہ کون کرئیگا۔ میں اکثر یہ بات کرتا ہوں کہ خبر وہی ہوتی ہے جس کو حکومت پسند نہیں کرتی ۔ میرا یہ ایمان کی حد تک یقین ہے کہ پابندیاں ہمیشہ ڈس انفارمیشن کاراستہ ہموار کرتی ہیں۔ایک زمانہ تھاجب پابندیوں کی وجہ سےخبر، سینہ بہ سینہ سفر کرتی لوگوں تک پہنچ جاتی تھی۔ اخبارات سینسر شپ کی وجہ سے خالی صفحات چھاپتے تو لوگوں کو پتا چل جاتا کہ کون کون سی خبریں دبا دی گئی ہیں۔ میں تو ہمیشہ سے صحافت میں صحافتی اصولوں کا نہ صرف حامی رہا ہوں بلکہ عملی طور پر میرے پاس وہ اپنے ڈرافٹ ابھی تک موجود ہیں جن سے آزادی صحافت کا تحفظ ممکن ہے۔ مگر یہاں تو ہر سال یا چند ماہ بعد کوئی نیا فرمان ، قصر ِ شاہی سے جاری کر دیا جاتا ہے ۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کے ہمارے بہت سے صحافی صحافت کی ریڈ لائن کراس کر جاتے ہیں اور سیاسی جماعتوں، سرکار یا اداروں کے کارندے نظر آنے لگتے ہیں یا انہیں بنیادی صحافتی اصولوں کا علم ہی نہیں ۔ یاد رہےکہ خبر پابندیوں کی وجہ سے کبھی نہیں رکتی، فرق صرف یہ آتا ہے کہ وہ خبر جب روک دی جاتی ہے یا نہیں دینے دی جاتی تو پھر وہ سوشل میڈیا کی زینت بن جاتی ہے۔ لہٰذا، آج اگر آپ ملکی وغیر ملکی میڈیا کیلئے کام کرنیوالے صحافیوں پر گائیڈ لائن کے نام پر پابندی لگادیں گے تو خبرکے ذرائع تو شائد بدل جائیں، خبر تو پھر بھی باہر آجاتی ہے۔البتہ ملک کا آزادی صحافت کے حوالے سےنمبرعالمی سطح پر مزیدنیچے جانے کا خطرہ موجود رہتاہے۔ پاکستان کے میڈیا نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ جب بات ملک کی آجاتی ہے تو پریس یا میڈیا کو کسی ایڈوائس کی ضرورت نہیں ہوتی اُسے اپنی ذمہ داریوں کا پتا ہوتاہے ۔تاہم ملک میں حالات خراب ہوں اور میں کہوں کہ سب اچھارہے تو یہ بھی دیانت داری نہیںاور نہ ہی لوگ یقین کریں گے ۔ بات بلوچستان کی ہو یا آزاد جموں و کشمیر کی اگر میڈیا کو آزاد رپورٹنگ کی اجازت ہوتی تو ڈس انفارمیشن میں کمی آتی ۔