لاہور (نمائندہ خصوصی+نامہ نگار)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کو ’’بھتے‘‘ کے بعد ’’جگا ٹیکس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو نظام عوام پر مسلط ہے، اس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔
لاہور کے فیصل چوک مال روڈ پر دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کے گھٹنے ٹیکنے تک دھرنا جاری رہے گا۔ کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر بھی دھرنا جاری ہے، پیٹرولیم لیوی زبردستی کا بھتہ اور جگا ٹیکس ہے۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 225 روپے تک لانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ حکمران ٹولے نے عوام کو ایک مصیبت سے دوچار کردیا ہے، صرف پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جاتا بلکہ ٹیکسز بھی بڑھا دیے جاتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے سے 700 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ حکمران مراعات چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران غریب کا خون نچوڑ رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے جاگیردار بتائیں کہ انہوں نے اپنی جاگیروں پر کتنا ٹیکس دیا ہے، یہ جاگیردارانہ نظام نہیں چلے گا اور غریب کاشتکار کا خون نہیں چوستے رہنے دیا جائے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بڑے جاگیردار ٹیکس ادا نہیں کرتے اور بڑے بیوروکریٹس ٹیکس کھا جاتے ہیں، ایسا نظام اب نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا شروع کردیا گیا ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دیے جانے پر کہا کہ انہیں حکومت کی بریفنگ کی ضرورت نہیں، حکومت کی کمیٹی اسے مبارک ہو، جماعت اسلامی اسلام آباد میں بریفنگ لینے نہیں جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جس کو بات کرنی ہے وہ دھرنے میں آئے، بات صرف ایک نکتے پر ہوگی کہ پیٹرولیم لیوی واپس لی جائے، لیوی ختم کی جائے اور پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کی جائے۔ انہوں نے حکومتی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کے شرکا سے بات کی جائے۔

