دنیا کی سیاست میں بعض معاہدے کاغذ پر چند صفحات ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ہونے والا میثاقِ مشترکہ دفاع (Mecca Joint Defence Agreement) بھی ایسا ہی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائیگا۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اسے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثل قرار دیا، اگرچہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کیخلاف نہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ تینوں ممالک کو خطرہ کس سے ہے؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ جب پاکستان خود سیاسی، معاشی اور سکیورٹی کے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ کے ایک پیچیدہ طاقت کے کھیل میں اتنی گہرائی تک جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیا پاکستان واقعی ایسی پوزیشن میں ہے کہ سعودی عرب کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ایران یا حوثیوں کے خلاف عملی فوجی کارروائی کرے؟
چلیں مان لیں کہ معاہدہ درست ہوا ہے لیکن اتنا تو پوچھا جا سکتا ہے کہ حملے کا خطرہ کہاں سے ہے۔نہ صرف کہاں سے بلکہ کس کو ہے؟ترکیہ کے بارے میں اسرائیل میں باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن کوئی حملے کا خطرہ نہیں۔ اسرائیل تو لگا ہوا ہے خونریزی کرنے غزہ اور لبنان میں۔ ترکیہ کی طرف اُس نے نہیں جانا۔ پاکستان کو خطرات لاحق ہیں لیکن وہ اندرونی ہیں۔شورش ہے لیکن ساری شورش سرحدوں کے بیچ میں ہے۔ باہر سے معاونت ہوتی ہوگی لیکن آگ کے شعلے تو اندرون بھڑک رہے ہیں۔ لہٰذا جن خطرات کا پاکستان کو سامنا ہے اُن سے نمٹنے کیلئے ترکیہ اور سعودی عرب نے ہماری مدد کو نہیں آنا۔ہاں‘ یہاں کچھ امداد کی امید تو ہوگی۔ البتہ خطرات کے حوالے سے رہ جاتا ہے معاملہ سعودی عرب کا۔ اس کو خطرہ کہاں سے ہے اور کس سے ؟ظاہر ہے،، حوثی قبائل سے ہے،،، یا پہلے ایران سے ہوا کرتا تھا، جو اب بظاہر کسی کاغذی معاہدے پر چل رہے ہیں،،،
خیر اس معاہدے کے بارے میں کچھ ناقدین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ معاہدہ صرف ”سعودی عرب کا دفاع کرنے کا پاکستانی وعدہ“ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔کیوں کہ سعودی عرب کیلئےسب سے بڑا روایتی علاقائی سکیورٹی چیلنج ایران اور اس سے منسلک مسلح گروہ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش چلی آرہی ہے۔ یمن کی جنگ نے اس مقابلے کو مزید پیچیدہ کیا، جہاں حوثی تحریک نے سعودی سرزمین اور خلیجی تنصیبات کو ماضی میں نشانہ بنایا۔سعودی عرب کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس کی سرحد پر یمن موجود ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ سعودی عرب دنیا کی اہم ترین تیل پیدا کرنے والی ریاستوں میں شامل ہے اور اس کی توانائی کی تنصیبات اور بحری راستے عالمی معیشت کیلئے اہم ہیں۔ لہٰذا سعودی قیادت کیلئے ڈرون، میزائل، بحری حملے یا خطے میں کسی بڑی جنگ کا پھیلاؤ محض ایک فوجی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور ریاستی سلامتی کا مسئلہ بھی ہے۔اسی پس منظر میں ریاض اپنی سکیورٹی کیلئےصرف امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ 2025 کا دوطرفہ دفاعی معاہدہ اور اب ترکی کی شمولیت اسی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
اگر آپ ترکی کی بات کریں تو ترکی کی صورتِ حال سعودی عرب اور پاکستان سے مختلف ہے۔ ترکی ایک نیٹو رکن ملک ہے اور اس کے سکیورٹی خدشات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں۔ اسے شام، عراق، کرد مسلح تنظیموں، دہشت گردی، روس کے ساتھ طاقت کے توازن اور بحیرہ اسود سمیت کئی محاذوں پر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا پڑتا ہے۔ترکی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سیاسی اور دفاعی اہمیت بھی بڑھانا چاہتا ہے۔اس کی دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی اور فوجی صلاحیت اسے خطے کی ایک اہم طاقت بناتی ہے۔ سعودی عرب کے پاس مالی اور اقتصادی طاقت ہے، پاکستان کے پاس بڑی فوجی قوت اور جوہری deterrence ہے، جبکہ ترکی نیٹو رکن ہونے کے ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی اور ایک بڑی فوج رکھتا ہے۔ یہی تینوں کی طاقتوں کا امتزاج اس معاہدے کو اہم بناتا ہے۔ترکی کیلئے خطرہ کسی ایک ملک سے نہیں بلکہ مجموعی علاقائی عدم استحکام سے ہے۔ وہ ایسا مشرقِ وسطیٰ چاہتا ہے جہاں ترکی کو فیصلوں میں زیادہ مرکزی حیثیت حاصل ہو اور خطے کی سکیورٹی صرف امریکہ یا کسی ایک بیرونی طاقت کے ہاتھ میں نہ رہے۔
لیکن ان سب کے بعد پاکستان کو خطرہ کس سے ہے؟یہاں کہانی سب سے زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا روایتی سکیورٹی چیلنج تاریخی طور پر بھارت رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر، سرحدی تنازعات اور فوجی کشیدگی کئی دہائیوں سے موجود ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کو افغانستان سے ملحقہ سرحد پر دہشت گردی اور عسکریت پسندی، بلوچستان میں بدامنی اور معاشی کمزوری جیسے اندرونی و بیرونی مسائل کا سامنا ہے۔اسلئےپاکستان کیلئے ایران کو دشمن بنانا کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تجارتی، تاریخی اور عوامی روابط موجود ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کا مطلب پاکستان کیلئےایک نئے محاذ کا کھلنا ہوگا، جبکہ پاکستان پہلے ہی افغانستان کی سرحد اور اندرونی سکیورٹی کے مسائل سے نمٹ رہا ہے۔
بہرکیف انتہا کی بمباری ہو چکی لیکن ایران نہیں جھکا اور صدر ٹرمپ سمجھ نہیں پا رہے کہ ایرانی مزاحمت کا ماجرا کیا ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا ثالثی کردار اہم رہا‘ اس سے پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان کیلئے یہ بھی اچھا ہے کہ یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہو گیا۔ اس سے کچھ امید پیدا ہونی چاہیے کہ معاشی لحاظ سے پاکستان کو کچھ فائدہ پہنچ جائے۔ لیکن جہاں پاکستان بیرونی محاذوں پر اتنا سرگرم عمل نظر آتا ہے کچھ دھیان داخلی حالات پر بھی ہو۔ لگتا تو بہت اچھا ہے جب اچھے سوٹوں میں ملبوس وزیراعظم سعودی ولی عہد اور ترکیہ کے صدر کے ساتھ کھڑے ہوں اور دفاعی معاہدے پر دستخط ہو رہے ہوں لیکن دھڑکتے دلوں کا دھڑکنا بڑھ جاتا ہے جب مغربی صوبوں کی صورتحال پر نظر جاتی ہے۔ کچھ تویہاں مداوا ہو‘ کچھ شورشوں اور خلفشاروں کی شدت میں کمی آئے۔بیرونی ثالثی بہت اچھی لیکن کچھ اندرونی ثالثی بھی ہو جائے۔ گھر میں چین نہیں تو باہر کے چین کو کیا کریں۔
کیونکہ بادی النظر میں ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ پاکستان اس وقت سیاسی تقسیم، معاشی دباؤ، دہشت گردی، صوبائی بے چینی اور ادارہ جاتی کشمکش جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف حکومت کو معیشت مستحکم کرنے، سرمایہ کاری لانے اور عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے، دوسری طرف ملک علاقائی طاقت کے کھیل میں ایک اہم سکیورٹی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔تنقید کرنے والوں کا سوال بالکل جائز ہے کہ جو ملک اپنے اندر مکمل سیاسی اور معاشی استحکام پیدا نہیں کرپایا، کیا اسے بیرون ملک نئی سکیورٹی ذمہ داریاں قبول کرنی چاہئیں؟اسلئے میرے خیال میں اصل مسئلہ معاہدہ کرنا نہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی ذمہ داریوں کی حد کہاں مقرر کرتا ہے۔کیا پاکستان ایران سے تناﺅ بڑھا سکتا ہے؟ میری رائے میں پاکستان کو اس سوال کا جواب انتہائی احتیاط سے دینا ہوگا۔اگر سعودی عرب پر براہِ راست کوئی بڑا مسلح حملہ ہوتا ہے تو معاہدہ پاکستان پر سیاسی اور ممکنہ طور پر دفاعی ذمہ داری ضرور ڈال سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کو لازماً ایران کیخلاف جنگ شروع کرنا ہوگی۔حوثیوں کیخلاف بھی پاکستان کیلئےیہی اصول ہونا چاہیے۔ پاکستان کو سعودی عرب کی حفاظت اور حوثیوں کیخلاف براہِ راست جنگ کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔اگر سعودی سرزمین کو خطرہ لاحق ہو تو پاکستان اپنے معاہدے کے تحت سعودی دفاع میں کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان یمن میں ایک نئی جنگ کا فریق بن جائے۔
کیوں کہ پاکستان پہلے بھی سعودی عرب کے دفاع کے معاملے میں ایک محتاط پالیسی اختیار کرتا رہا ہے۔ 2015 میں یمن کی جنگ کے دوران پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، لیکن پارلیمنٹ نے پاکستان کو یمن کی جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کی پالیسی اپنائی تھی۔ یہی تجربہ آج بھی اسلام آباد کیلئےسبق رکھتا ہے۔لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ ہے کہ پاکستان محتاط انداز میں آگے بڑھے،،، اور کسی نئے مسئلے کا شکار نہ ہو جائے،،، کیوں کہ پاکستان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اندرونی کے ساتھ بیرونی مسائل پر بھی اپنے وسائل بروئے کار لائے اور معاشی طور پر مزید کمزور ہوجائے! اسلئے اسلام آباد نے اس معاہدے کو ”ایران کیخلاف اتحاد“ بنا دیا تو پاکستان اپنے ایک اہم ہمسایہ ملک کے ساتھ غیر ضروری محاذ آرائی میں داخل ہوجائیگا۔ اگر اسے صرف کاغذی معاہدہ بنا دیا تو سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ پاکستان کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے ۔لہٰذا پاکستان کو ایک واضح اصول اپنانا ہوگا: ہم سعودی عرب کے دفاع کیلئے کھڑے ہوں گے، لیکن کسی ایسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے جو پاکستان کی اپنی سلامتی، معیشت اور داخلی استحکام کو تباہ کردے۔یہی وہ لکیر ہے جسے اسلام آباد کو بہت احتیاط سے کھینچنا ہوگا۔ورنہ یہ معاہدہ آنے والے دنوں میں ہمارے گلے پڑ جائیگا،،، اور خاکم بدہن اگر ہم سے کہیں غلطی ہو گئی تو ایران جیسا ہمسایہ ملک بھی بھارت اور افغانستان کے ساتھ گٹھ جو ڑ کرکے پاکستان کو کمزور کرنے کیلئےکام کر رہا ہوگا ۔،،،

