الحمدللہ آزادی کا 80واں سال شروع ہو گیا ہے۔ جشن آزادی خوب منایا گیا مگر ایک آزاد خود مختار ملک کے افراد کے چہروں پر جو روشنی اور شگفتگی ہونی چاہیے وہ نظر نہیں آتی۔ ہم اپنے ارد گرد جو بے بسی دیکھ رہے ہیں اور سماج میں جیسے بھیانک جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے کیا ایسا ہونا چاہئے تھا۔ دل خون کے آنسو روتا ہے 15ماہ کی بچی کیساتھ زیادتی کی خبر۔ تھانوں میں فریاد لیکر آنیوالی بیٹیاں، بہنیں، مائیں ،تھانیداروں کی ہوس کا شکار۔ جائیداد کے تنازع پر بیٹا باپ کو قتل کر رہا ہے۔ مذہبی قوانین کا سہارا لے کر اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ 60فیصد نوجوان آبادی میں سے اکثریت بے روزگار ہے ۔کیا سماج کی تخلیق اور تشکیل صرف حکمران کرتے ہیں۔ کیا اچھے برے رجحانات گھروں کے ماحول میں پرورش نہیں پاتے۔ تعلیمی اداروں کی تدریس اور تربیت معاشرے کی تشکیل نہیں کرتی ۔پاکستان میں تو ارضی نقشہ صدیوں کی کشاکش سے وجود میں آیا ہے۔
1947 ء کے بعد ہماری تاریخ سانحوں اور ناکامیوں سے بھری ہوئی ہے۔ المیوں کی ذمہ داری صرف شخصیتوں پر ڈال دی جاتی ہے۔ دلائل منطق اور دانش کی بنیاد پر ہم نے اپنے معاشرے کو مستحکم بنانے کی کوشش نہیں کی۔ یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے معاشرے کے رجحانات پر تحقیقی رپورٹیں پیش نہیں کرتے۔ حکمران تو ہیں ذمہ دار لیکن ہم سب میڈیا والوں، بزنسمینوں، اساتذہ، یونیورسٹی مالکان، مساجد کے خطیب سب نے ایک صحتمند ماحول تخلیق کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔ اسلئے اکثریت زندگی کی آسانیوں کو ترستی ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی زمانے میں حکمران اور اپوزیشن رہنما اپنی تقریروں سے لوگوں کو ولولہ تازہ دیتے تھے۔ انکی دعوت ہوتی تھی کہ لوگ کچھ کریں، نکلیں آج کے حاکم اپنی یہ ذمہ داری نہیں سمجھتے۔ اکثریت کس مشکل میں زندگی گزارتی ہے۔ کس طرح بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ رہائشی علاقے کیسے ہیں، کتنے کمروں میں کتنے لوگ رہتے ہیں۔ پینے کا صاف پانی ملتا ہے یا نہیں۔ دو وقت کی روٹی مل رہی ہے یا نہیں، نوجوانوں کے پاس معقول روزگار ہے، سہولتیں ہیں۔ گھر سے دفتر یا کارخانے تک پہنچنے کیلئے ٹرانسپورٹ سستی یا مہنگی تو الگ بات، دستیاب بھی ہے کہ نہیں۔ آبادی کے مطابق بسیں بھی نہیں ہیں، موٹر سائیکل غریب کی سواری ہے۔ پورا پورا خاندان اس پر سوار ہوتا ہے۔ ہر دن جان جوکھوں میں ڈالی جاتی ہے۔ کوئی کونسلر، چیئرمین، ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر، وزیر اپنے علاقے کی اس بے بسی کا کوئی تدارک سوچتا ہے۔ کسی میونسپل ہال، اسمبلی ہال میں سواری کے اس بنیادی مسئلے پر کوئی بات ہو رہی ہے۔ ملک میں قیمتی گاڑیاں بن رہی ہیں۔ بسیں نہیں بنتی ہیں۔
محلے داری ختم ہو گئی ہے دیوار بہ دیوار ہمسائے بھی آپس میں نہیں ملتے۔ پہلے ایک دوسرے کے ہاں جو بھی پکتا تھا، بھیجا جاتا تھا۔ محلے میں بزرگوں کی بات سنی جاتی تھی۔ بیٹیاں سانجھی ہوتی تھیں۔ ماؤں بہنوں کا احترام کیا جاتا تھا۔ اب ایک اجنبیت اور دوریاں ہیں۔ ریاست کو عوام کی ان پریشانیوں پر کوئی پریشانی نہیں۔ ریاست اپنی جگہ مطمئن ہے کہ کوئی اکثریت کیلئے آواز بلند نہیں کرتا ہے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح عوام ریاست سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ طبقاتی تضاد نے انہیں یہ باور کروا دیا ہے کہ زندگی کی ساری سہولتیں اشرافیہ کیلئے ہیں۔ اکثریت کو اسی طرح مجبور اور محتاج رہنا ہے۔ عوام کی حفاظت اور سہولت کیلئے پولیس اسٹیشن عدالتیں اور دوسرے جو محکمے بنائے گئے ہیں، عوام بتدریج ان سے بیزار ہو چکے ہیں۔ پولیس اسٹیشن عام لوگوں پر تشدد کے گڑھ بن چکے ہیں۔ چھوٹی بڑی عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں۔ عام لوگوں کے مقدمات لڑتے وکیل بتاتے ہیں کہ انکی فیسیں حالانکہ بڑے وکیلوں کی نسبت بہت کم ہیں۔ پھر بھی موکل کئی کئی پیشیوں پہ اسلئے نہیں آتا کہ اسکے پاس وکیل کو دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔ مقدمات کے فیصلے ہو جاتے ہیں مگر موکل اپنے فیصلے کی کاپی لینے کیلئے وکیل سے اسلئے نہیں ملتا کہ اس کو فیس دینی ہوگی اور پیشکار کو رشوت۔ ہم عمارتوں پر عمارتیں بنا رہے ہیں انسان نہیں۔ ہم شہر بنا رہے ہیں مگر شہری بنانا بھول گئے ہیں۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن اور نماز عصر کے بعد محلے والوں سے ملنے کے لمحات۔ میں تو برسوں سے اس پر زور دیتا آ رہا ہوں لیکن اب سماج میں جیسے بھیانک مناظر نظر آرہے ہیں۔ اس میں محلے داری ہی موثر رکاوٹ بن سکتی ہے ۔ ہر فرد لائق احترام ہے ریاست افراد سے ہی بنتی ہے۔ بنی بنائی کہیں بھی نہیں اترتی۔ بڑے لوگوں کیلئے تو ہر شہر میں کئی کئی کلب ہیں جہاں انہیں تفریح کے مواقع بھی ملتے ہیں، اظہار خیال کے بھی۔ اچھا کھانا بہت رعایتی قیمتوں پر ملتا ہے۔ لیکن 80فیصد اکثریت کیلئے کوئی کمیونٹی سینٹر نہیں ہے جہاں وہ اپنے اہل خانہ کیساتھ جا سکیں۔ اچھا کھانا کم قیمت پر مل سکے اور آپس میں تبادلہ خیال بھی کر سکیں ۔
اسکردو سے لیکر مظفرآباد۔ راولا کوٹ سے نوشکی تک۔ کراچی سے چاغی تک۔ کروڑوں عام لوگ تفریحی مقامات سے محروم ہیں۔ اول توانہیں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے 24گھنٹوں میں سے 18/ 20 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی کھلی ہوا میں سانس لینا انکا حق ہے۔ آبادی بڑھ رہی ہے۔ سہولتیں گھٹ رہی ہیں۔ عوامی سینما گھر ختم ہو چکے ہیں۔ اب جو سینما ہیں وہ دولت مندوں کیلئے ہیں۔ جنسی بےراہ روی ۔قتل و غارت۔ خودکشی۔ بدزبانی پر عام طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ دنیا مذہب سے دور ہو چکی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے اور مقام شکر بھی کہ پاکستان میں حجاب پہلے سے زیادہ ہے۔ مساجد بھی بڑھ رہی ہیں اور نمازی بھی۔ہر مسلک کےتبلیغی اجتماع میں لاکھوں عقیدت مند شریک ہوتے ہیں۔ پھر علمائے حق کو یہ سوچنا چاہیے کہ ایسے بھیانک جرائم کیوں ہو رہے ہیں۔ ہماری قومی سیاسی جماعتوں کو بھی کہ وہ اپنے کارکنوں کے کنونشن منعقد کر کے انہیں مصروف نہیں رکھتیں۔کارکن ہی عوام تک سیاسی بیداری کے پیغامات پہنچانے کا وسیلہ ہوتے ہیں۔ سماج کی تشکیل میں یونیورسٹیوں، ریسرچ انسٹیٹیوٹوں، سیاسی تنظیموں، ادبی تنظیموں اور سماجی تحریکوں کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر یہ سب متحرک ہوں معاشرے کے بدلتے رحجانات پر انکی نظر ہو اور انکی نشاندہی کی جا رہی ہو تو ریاستی ادارے بھی اور افسران بھی متوجہ ہوتے ہیں۔ ادارے موجود ہیں مگر وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے۔ اسلئے خاندان، فرد مایوس ہو چکے ہیں۔ عام طور پر کہا جانے لگا ہے کہ یہاں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی ۔
حق بات یہ ہے کہ پاکستان میں اللہ تعالیٰ نے جتنے وسائل عطا کیے ہیں اور افراد جتنے باصلاحیت ہیں یہاں سب کچھ ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹیاں، ریسرچ انسٹیٹیوٹ، دینی مدرسے سب اس معاشرے کی مانیٹرنگ کریں اور اصلاح کیلئے اپنی تجاویز پر مبنی رپورٹیں عام کریں۔ ایسا بھیانک معاشرہ قوموں سے امید چھین لیتا ہے اور جرائم پیشہ مافیا غلبہ پاتاچلا جاتا ہے۔

