مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے) ڈکسی الیکٹرانکس اینڈ اپلائنسز نے بلیک فرائیڈے سیل کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت صارفین کو گھریلو برقی آلات کی خریداری پر خصوصی رعایتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ اہل صارفین کے لیے جنوری 2028 تک ادائیگی مؤخر کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیلم چوہدری کا کہنا ہے کہ کاروبار کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ کمیونٹی کے ساتھ منافع کے فوائد بانٹنا اور صارفین کو معیاری مصنوعات مناسب قیمتوں پر فراہم کرنا بھی ہے۔
ڈکسی الیکٹرانکس اینڈ اپلائنسز کے شوروم میں جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی نے سیلم چوہدری سے خصوصی گفتگو کی، جس میں انہوں نے ادارے کی کاروباری حکمت عملی، خصوصی سیل، صارفین کیلئے مالی سہولتوں، مختلف برقی آلات کی قیمتوں اور کمیونٹی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کیا۔
سیلم چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈکسی الیکٹرانکس کو کمیونٹی سے وابستہ کاروبار کے طور پر چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے بقول، عام طور پر کاروباری اداروں کی توجہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے پر ہوتی ہے، لیکن ڈکسی الیکٹرانکس کی کوشش ہے کہ خریداری کے دوران حاصل ہونے والے بہتر نرخوں کا فائدہ صارفین تک بھی پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کمیونٹی کی محبت اور تعاون اس کاروبار کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیل کے آغاز میں جان بوجھ کر کچھ تاخیر کی گئی، کیونکہ صبح کے اوقات میں درجہ حرارت 2 سے 3 ڈگری تک گرنے لگا تھا اور موسم سرما کی ضروریات کے پیش نظر گھریلو برقی آلات کی خریداری کا مناسب وقت آ رہا تھا۔ اسی دوران ادارے کو رواں ہفتے تقریباً 3 کنٹینر سامان موصول ہوا، جبکہ سام سنگ، کچن ایڈ، جین ایئر اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ قیمتوں کے حوالے سے خصوصی مذاکرات کیے گئے۔
سیلم چوہدری کے مطابق، جب بڑی مقدار میں سامان خریدا جاتا ہے تو کمپنیوں سے بہتر قیمتیں حاصل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب ادارہ بڑی تعداد میں مصنوعات فراہم کرنے کے لیے تیار ہو۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں واشنگ مشین اور کپڑے خشک کرنے والی مشین کی جوڑی کی قیمت عموماً 1499 سے 1599 ڈالر تک ہوتی ہے، لیکن خصوصی مذاکرات کے نتیجے میں انہیں 475 ڈالر فی مشین کے حساب سے حاصل کیا گیا۔ اس طرح دونوں مشینوں کی مجموعی قیمت 1000 ڈالر سے بھی کم رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان مصنوعات کے ساتھ 2 سال کی کمپنی کی ضمانت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال ادارے میں کینمور برانڈ کی مصنوعات بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان کے مطابق کینمور ایک قدیم اور قابلِ اعتماد برانڈ ہے، جس کی تاریخ 110 سال سے زیادہ پر محیط ہے۔ گریٹر ٹورنٹو ایریا میں عمارتیں تعمیر کرنے والے افراد اور تہہ خانوں کی تعمیر و تکمیل سے وابستہ کاروباری حضرات بھی ان مصنوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
سیلم چوہدری نے بتایا کہ حال ہی میں ایک پاکستانی تعمیراتی کاروباری شخصیت نے خلیجی خطے میں ایک پوری عمارت کی تعمیر کیلئےڈکسی الیکٹرانکس سے تقریباً 120000 ڈالر مالیت کی مصنوعات خریدیں۔ ان کے مطابق، عام طور پر تعمیراتی کاروبار سے وابستہ کسی خریدار کو 15000 ڈالر کی خریداری پر آمادہ کرنا بھی آسان نہیں ہوتا، لیکن اس معاملے میں صرف 3 برقی پیغامات کے تبادلے کے بعد خریداری کا معاملہ طے پا گیا۔ انہوں نے اسے ادارے کی قیمتوں، اعتماد اور صارفین کے ساتھ تعلقات کا نتیجہ قرار دیا۔
“ٹیلی وژن اور باورچی خانے کے آلات پر خصوصی رعایتیں”
سیلم چوہدری نے بتایا کہ ٹیلی وژن کی خریداری کیلئے بھی یہ ایک اہم موسم ہے اور ادارے نے بلیک فرائیڈے کی قیمتیں پہلے ہی متعارف کرا دی ہیں۔ سام سنگ، سونی اور ایل جی سمیت مختلف کمپنیوں کے ٹیلی وژن، جدید او ایل ای ڈی اور منی ایل ای ڈی ٹیکنالوجی والے ماڈل خصوصی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق، صارفین نے ان رعایتوں سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باورچی خانے میں نصب کیے جانے والے برقی آلات کے لیے بھی خصوصی قیمتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان میں کچن ایڈ، بوش، مے ٹیگ، سام سنگ اور ایل جی کی مصنوعات شامل ہیں۔ اگر کسی صارف کو اپنے تہہ خانے کیلئے سامان درکار ہو یا وہ گھر میں کسی بڑے برقی آلے کو تبدیل کرنا چاہتا ہو تو اسے خصوصی قیمتوں سے فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ بڑی مقدار میں خریداری کے ذریعے حاصل ہونے والے نرخ اپنے صارفین کے ساتھ بانٹتا ہے اور اس کیلئے ضروری نہیں کہ صارف کو الگ سے رعایت کی درخواست کرنا پڑے۔
“جنوری 2028 تک ادائیگی مؤخر کرنے کی سہولت”
گفتگو کے دوران سیلم چوہدری نے بتایا کہ موجودہ معاشی حالات میں بہت سے صارفین کو مالی وسائل کی کمی اور فوری ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈکسی الیکٹرانکس نے اہل صارفین کیلئےایسی سہولت کا انتظام کیا ہے جس کے تحت ادائیگی جنوری 2028 تک مؤخر کی جا سکتی ہے۔
اشرف خان لودھی نے اس سہولت کو صارفین کیلئے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ گھریلو ضروریات پوری کرنے کیلئےلوگوں کو بعض اوقات سامان درکار ہوتا ہے، لیکن فوری طور پر مکمل رقم ادا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے میں طویل مدت تک ادائیگی مؤخر کرنے کی سہولت ان کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
سیلم چوہدری نے واضح کیا کہ یہ سہولت مخصوص شرائط کے تحت فراہم کی جاتی ہے اور صارفین مزید تفصیلات کیلئےشوروم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈکسی الیکٹرانکس کو منتخب بڑے خوردہ فروشی کے اداروں میں شامل کیا گیا ہے جہاں صارفین کو اس نوعیت کی مالی سہولت دستیاب ہے۔
“80 فیصد صارفین دوبارہ خریداری کیلئے آتے ہیں”
سیلم چوہدری نے کہا کہ ڈکسی الیکٹرانکس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں آنے والے صارفین خود کو کسی اجنبی تجارتی مرکز کے بجائے اپنے گھر جیسا ماحول محسوس کرتے ہیں۔ ادارے کی کوشش ہوتی ہے کہ صارفین کو ان کی اپنی زبان میں رہنمائی فراہم کی جائے، ان کے سوالات سنے جائیں اور انہیں اطمینان کے ساتھ خریداری کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ ادارے کے تقریباً 80 فیصد صارفین ایسے ہیں جو پہلے بھی یہاں سے خریداری کر چکے ہیں اور دوبارہ اسی ادارے کا رخ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، صارفین کے پاس دیگر مقامات سے خریداری کے مواقع ہونے کے باوجود ڈکسی الیکٹرانکس پر اعتماد اور اس کے ساتھ تعلق انہیں دوبارہ یہاں لے آتا ہے۔
انہوں نے اپنے عملے کے ارکان تاج، سارہ اور دیگر ملازمین کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کے دوستانہ رویے اور تعاون کی وجہ سے ادارے کو کمیونٹی میں پذیرائی حاصل ہے۔ سیلم چوہدری کے مطابق، چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہے کہ مصنوعات خریدتے وقت بہترین قیمت حاصل کی جائے تاکہ یہی فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا سکے۔
“24 سالہ تجربہ اور صارفین کے اعتماد کو کاروبار کی بنیاد قرار دے دیا”
سیلم چوہدری نے بتایا کہ وہ گزشتہ 24 سال سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ فروخت کے بعد بھی صارفین کو تنہا نہ چھوڑا جائے اور اگر انہیں کسی مسئلے کا سامنا ہو تو حتی الامکان مدد فراہم کی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض صارفین خریداری کے ڈھائی سے ساڑھے 3 سال بعد بھی کسی مسئلے کے حل کے لیے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کے بقول، اسی صبح ایک صارف کے معاملے میں عملے کے رکن نے انہیں یقین دلایا کہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، چاہے خریداری کو ساڑھے 3 سال گزر چکے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی کوشش ہوتی ہے کہ صارفین کی مدد کی جائے، خواہ اس کیلئےخود اضافی کوشش ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
سیلم چوہدری نے کہا کہ کاروبار میں غلطی کا امکان موجود رہتا ہے، لیکن ان کی کوشش رہی ہے کہ کسی صارف کے ساتھ دھوکا نہ کیا جائے۔ انہوں نے اسے اپنے ایمان، اصولوں اور صارفین کے اعتماد سے جوڑتے ہوئے کہا کہ 24 سال تک اسی کاروبار میں قائم رہنا اور صارفین کا مسلسل واپس آنا ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔
“قیمت کے ساتھ مشاورت اور درست رہنمائی پر بھی توجہ”
سیلم چوہدری نے کہا کہ ان کے نزدیک کاروبار صرف مصنوعات فروخت کرنے کا نام نہیں بلکہ صارفین کی ضروریات سمجھ کر انہیں درست مشورہ دینا بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق، ادارے کا عملہ متعلقہ کمپنیوں سے تربیت یافتہ ہے اور صارفین کی ضرورت، گھر میں دستیاب جگہ اور پیمائش کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں 2 سے 3 موزوں متبادل تجویز کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈکسی الیکٹرانکس میں صارفین کو غیر ضروری طور پر مہنگی مصنوعات خریدنے پر آمادہ کرنے کے بجائے ان کی ضرورت کے مطابق رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے بقول، یہی وجہ ہے کہ صارفین عملے سے کھل کر بات کرتے، سوالات پوچھتے اور قیمتوں پر مذاکرات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی اصل طاقت صارفین کا اعتماد، قابلِ بھروسا خدمات اور خریداری کے بعد بھی مدد فراہم کرنے کا عزم ہے۔
اشرف خان لودھی نے سیلم چوہدری کی کمیونٹی کیلئے خدمات اور صارفین کو سہولتیں فراہم کرنے کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ایک کاروباری ادارہ ہے، لیکن اس انداز میں عوام کی خدمت کرنا قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سیلم چوہدری کو مزید کامیابی عطا فرمائے اور وہ اسی طرح کمیونٹی کی خدمت جاری رکھیں۔
گفتگو کے اختتام پر سیلم چوہدری نے بتایا کہ ڈکسی الیکٹرانکس اینڈ اپلائنسز کا شوروم 5120 ڈکسی روڈ، یونٹ 11، مسی ساگا میں ڈکسی اور ایگلنٹن کے بڑے چوراہے کے قریب واقع ہے۔ مزید معلومات اور خریداری کیلئے ادارے کی ویب سائٹ dixieelectronics.ca ملاحظہ کر سکتے ہیں یا7575-904-416 اور 9500-625-905 پر رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے جنگ نیوز کینیڈا کے ساتھ آئندہ بھی رابطے کو جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نئے موسم میں ہر 2 ہفتے بعد شوروم سے براہِ راست گفتگو کا اہتمام کیا جائے تاکہ صارفین کو مصنوعات، قیمتوں اور دستیاب سہولتوں کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔ اشرف خان لودھی نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح ناظرین کو خریداری کے مواقع اور کمیونٹی کیلئےفراہم کی جانے والی سہولتوں کے بارے میں براہِ راست معلومات مل سکیں گی۔

