کیلگری(سی بی سی نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری کی رہائشی سامنتھا کرک پیٹرک نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے مقدمے کی نمائندگی کرنے والے پیرا لیگل جان میکڈونلڈ نے 13 ہزار ڈالر کی تصفیے کی رقم اپنے پاس رکھ لی۔
38 سالہ سامنتھا کرک پیٹرک کے مطابق انہوں نے 2023ء میں اپنے گیراج کی ناقص تعمیر پر ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لیے جان میکڈونلڈ کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میکڈونلڈ نے خود کو فوجی سابق اہلکار ظاہر کیا، البرٹا اور برٹش کولمبیا میں پیرا لیگل خدمات کی تشہیر کی، جبکہ وہ سسکیچیوان لا سوسائٹی کا لائسنس رکھنے اور البرٹا کی پیرا لیگل ایسوسی ایشن کے بورڈ سے وابستہ ہونے کا دعویٰ بھی کرتے تھے۔
خاتون کے مطابق گزشتہ سال جولائی میں ٹھیکیدار کی جانب سے تصفیے کی رقم ادا کی گئی، مگر جان میکڈونلڈ نے رقم اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے بعد انہیں ادائیگی نہیں کی اور بعد میں رابطہ بھی منقطع کر دیا۔
سامنتھا کرک پیٹرک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر پولیس سے رجوع کیا، تاہم انہیں معلوم ہوا کہ البرٹا میں پیرا لیگل شعبے پر نگرانی موجود نہیں، جس کے باعث متاثرہ افراد کے پاس تحفظ یا شکایت کے محدود ذرائع ہیں۔
مزید سات افراد نے بھی جان میکڈونلڈ کے خلاف تصفیے کی رقوم روکنے، نامکمل کام اور مقررہ وقت پر مقدمات نہ نمٹانے جیسے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ان الزامات کو عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکا۔سی بی سی نیوز کے مطابق کیلگری پولیس نے میکڈونلڈ کے خلاف دو دھوکا دہی تحقیقات شروع کیں، جن میں سے ایک بغیر فردِ جرم کے بند کر دی گئی جبکہ دوسری تحقیقات جاری ہیں۔
سسکیچیوان لا سوسائٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ جان میکڈونلڈ کے لائسنس سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔جان میکڈونلڈ نے سی بی سی کو ای میل میں مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ دو مختلف صوبوں کے ریگولیٹری اداروں کے زیرِ غور ہے، اس لیے وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پیرا لیگل خدمات بند کر رہے ہیں اور مؤکلین کو دوسرے ماہرین کے پاس منتقل کیا جا رہا ہے۔

