کینیڈا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاع، توانائی اور تجارت کے معاہدوں پر دستخط

اوٹاوا (سی بی سی، کینیڈین پریس) کینیڈا اور متحدہ عرب امارات نے دفاع، توانائی، تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کردیے۔ یہ معاہدے ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کے کینیڈا کے دورے کے موقع پر طے پائے۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے منگل کو پارلیمنٹ ہل اوٹاوا میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے وزرا نے آزاد تجارت کو فروغ دینے، صاف توانائی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور سفارتی تربیت کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے۔

مارک کارنی نے ولی عہد سے ملاقات کے دوران کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ایک سال کے دوران مضبوط ہونے والے تعلقات اور شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔

کینیڈا اور متحدہ عرب امارات نے رواں سال آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات صرف 47 دن میں مکمل کیے تھے، جسے دونوں ممالک نے ریکارڈ مدت قرار دیا تھا۔

اس سے قبل پیر کو وزیراعظم مارک کارنی نے اوٹاوا میں ولی عہد کے اعزاز میں سرکاری عشائیے کا اہتمام کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مستقبل کی تعمیر کے مشترکہ عزم پر متفق ہیں۔

مارک کارنی نے گزشتہ سال نومبر میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا، جس کے اختتام پر انہوں نے کینیڈا میں اہم معدنیات کی پراسیسنگ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک ارب ڈالر کے منصوبے پر کام کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کینیڈا میں تقریباً 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔ کینیڈا کے وزیر تجارت منیندر سدھو نے منگل کو بتایا کہ اس سرمایہ کاری میں کان کنی، رسد و ترسیل، توانائی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے شامل ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اماراتی حکام جلد از جلد سرمایہ کاری کے لیے اقدامات کررہے ہیں اور اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد سامنے آسکتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات سے متعلق انسانی حقوق کے تحفظات پر سوال کے جواب میں وزیر تجارت منیندر سدھو نے کہا کہ کینیڈا کے لیے انسانی حقوق کبھی ثانوی اہمیت اختیار نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات بھی مؤثر انداز میں اٹھائے جاسکیں۔

واضح رہے کہ کینیڈا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گزشتہ پانچ دہائیوں سے سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں، تاہم حالیہ معاہدوں اور سرمایہ کاری کے وعدوں سے دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔