کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی

وطن عزیز میں سیاست گہری کروٹ لے رہی ہے اور اب یقین سا ہونے لگا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہونے جا رہا ہے جس کے لیے راہیں ہموار کی جا رہی ہیں ہم دیار غیر میں محسوس کر رہے ہیں کہ اضطراب بڑھ رہا ہے خاص کر کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں میں وطن بارے زیادہ تشویش پائی جاتی ہے ہر کوئی یہ پوچھتا ہے کیا بنے گا،کیا ہونے جا رہا ہے انھیں پاکستانی عوام کا بہت درد ہے وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہاں عام لوگوں کا گزارا مشکل ہو رہا ہے لوگوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں پاکستان میں رہنے والے اوورسیز رشتہ داروں کو اپنی بےبسی کا رونا بھی کچھ زیادہ رو کر جذباتی کرتے ہیں اور کوشش ان کی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ان کی مدد کریں اور وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شاید اوورسیز درختوں سے پیسے توڑتے ہیں یقین کریں یہ لوگ بہت محنت کرتے ہیں پوری دنیا کے معاشی حالات خراب ہیں لیکن ان معاشروں کا حسن ہے کہ یہ اپنے شہری کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں لیکن پیسہ کمانا بہت مشکل ہے یہ لوگ دو دو تین تین جابز کرتے ہیں دن رات محنت کرتے ہیں اپنے سارے کام خود کرتے ہیں یہ مشینوں کی طرح کام کرتے ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں محنت کرنے والوں کے لیے راستے کھلتے جاتے ہیں اور جو جتنی محنت کرتا ہے اتنی وہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے سسٹم اسے سپورٹ کرتا ہے اگر کوئی بزنس کرنا چاہتا ہے تو کوئی اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالتا بلکہ تمام ریاستی انتظامی ادارے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اس کیلئے سہولتیں پیدا کرتے ہیں کام کرنے والوں کیلئے بےشمار مواقع موجود ہیں اس کے برعکس اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو وہاں محنت کرنے والے ہر بندے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں جبکہ ہر دونمبر کام کرنے والے کو سسٹم سپورٹ کرتا ہے اسلئے لوگوں کا محنت سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے لوگ شارٹ کٹ کے چکروں میں رہتے ہیں جس کا یہاں تصور بھی نہیں ہے پاکستان میں بزنس کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو اتنے چکر دیے جاتے ہیں کہ وہ چکرا کر بدظن ہو جاتا ہے میں حیران ہوں کہ پاکستان میں ناکام لوگ بھی یہاں آ کر کامیاب ہو جاتے ہیں چونکہ سسٹم ایسا ہے کہ جس نے یہاں رہنا ہے اسے کام کرنا پڑے گا میں نے آبزرو کیا ہے کہ پاکستانی بہت باصلاحیت لوگ ہیں محنتی ہیں کینیڈا کے معاشرے میں انھوں نے اپنے بل بوتے پر اپنا مقام بنایا ہے وطن کا نام روشن کیا ہے سروسز سے لے کر بزنس،سیاست،سوشل ورک،تعلیم،تحقیق، ٹیکنالوجی ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے کینیڈا کی سوسائٹی میں پاکستانی نژاد کینڈین شہری اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور کینیڈا میں مقیم پاکستانی کینیڈا کی ریاست کو اپنی ماں تصور کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان نے انھیں جنم دیا ہے تو کینیڈا نے انھیں روزگار عزت احترام اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں کینیڈا کی مٹی ایسی ہے کہ جو جس بیک گراونڈ سے بھی تعلق رکھتا ہو کینیڈا میں وہ ریاست کا سب سے بڑا وفادار ہے یہاں نیشنلزم بہت زیادہ ہے ہر شخص نے اپنے گھر کے باہر کینڈین فلیگ کا بورڈ لگایا ہوا ہے آفسز دوکانوں سمیت جابجا کینڈین پرچم لہرا رہے ہیں تعلیم مفت ہے بلکہ ریاست اعلی تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کرتی ہے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو بڑی بڑی جابز باآسانی مل جاتی ہیں اور کسی بھی شخص پر کوئی پابندی نہیں امیگرینٹس کو بھی وہی مواقع اور حقوق حاصل ہیں جو کینڈین خاندانی لوگوں کو حاصل ہیں کسی میں کوئی تحصیص نہیں کینیڈا ایک اوپن مائنڈ معاشرہ ہے یہاں بسنے والے پاکستانی ایک دوسرے کا بڑا خیال رکھتے ہیں البتہ کئی لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے وہ اپنے ہم وطنوں کی ٹانگیں کھینچنے کے قومی کھیل کو یہاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں کہیں کہیں فراڈ بھی کر جاتے ہیں لیکن اوورحال مثبت رحجان زیادہ ہے ایک دوسرے کی مدد کرنے والے زیادہ ہیں خاص کر مسی ساگا ٹورنٹو میں ایک شخصیت نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا اس شخصیت کا نام حاجی جمیل احمد ہے ان کا طباق ریسٹورنٹ ہے یہ پاکستانی ریسٹورنٹ کے نام سے مشھور ہے لوگ صرف یہاں کھانا کھانے نہیں آتے یہ پاکستانیوں کا ملن پوائنٹ بھی ہے سوشل کلب بھی ہے اور حاجی صاحب رابطہ کاری کا پل ہیں انتہائی ہمدرد درد دل رکھنے والے ہر کسی کی بےلوث مدد کرنے والی شخصیت ہیں لوگوں کے خانکی سماجی کاروباری مسائل کے حل میں مدد کرتے ہیں پاکستانیوں کے بڑے ہیں ہر کوئی ان پر اعتماد کرتا ہے ان کا ریسٹورنٹ ایک ڈیرہ ہے جسے پاکستان ہاوس کہا جاتا ہے یہ پاکستانیوں کا میٹنگ پوائنٹ بھی ہے جہاں ہر پاکستانی نے آنا ہوتا ہے مجھے یہاں 25،25 سال پرانے دوست مل گئے ایک دوست نے بڑا زبردست تبصرہ کیا کہ یہاں کھمب میلے کے بچھڑے ہوئے بھی مل جاتے ہیں ایسے ڈاؤن ٹو ارتھ لوگ پاکستان کے ہیرو ہیں میرا بس چلے تو میں حاجی جمیل کو پاکستان کا سب سے بڑا ایوارڈ دوں یہ لوگ پاکستان کی اصل شناخت ہیں جو وطن کا نام روشن کر رہے ہیں جو مغربی معاشروں کے لیے بھی ایک مثال ہیں آخر میں ان تمام دوستوں کا بھی شکریہ جنھوں نے مجھے بےپناہ عزت سے نوازا خصوصی طور پر اشرف لودھی،بدر منیر چوہدری،ظہیر بابر،ندیم چوہدری،رانا محبوب بوبی،ارشد خان،عابد بٹ،نعیم خان،میاں عامر اور سہیل ملک سمیت دوستوں نے جس محبت کا اظہار کیا میں دیار غیر میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا.