واشنگٹن (رائٹرز، دی ہارورڈ کریمسن، دی گارڈین) ہارورڈ یونیورسٹی نے میڈیکل اسکول کے مردہ خانے میں عطیہ کی گئی انسانی باقیات کے اعضا چوری اور فروخت کیے جانے سے متعلق مقدمات کے تصفیے کیلئے5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کرلیا۔
مقدمات ان خاندانوں کی جانب سے دائر کیے گئے تھے جن کے عزیزوں کی لاشیں طبی تحقیق اور تعلیم کیلئے ہارورڈ میڈیکل اسکول کو عطیہ کی گئی تھیں۔
یہ مقدمات ہارورڈ میڈیکل اسکول کے مردہ خانے کے سابق مینیجر سیڈرک لاج کی گرفتاری کے بعد سامنے آئے۔ استغاثہ کے مطابق لاج نے 2018 سے 2020 کے دوران مردہ خانے سے عطیہ کی گئی لاشوں کے مختلف اعضا نکال کر انہیں خریداروں کو فروخت کیا۔
سیڈرک لاج نے انسانی باقیات کی غیر قانونی خرید و فروخت کے جرم کا اعتراف کیا تھا اور اسے گزشتہ سال دسمبر میں 8 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
مقدمات میں ہارورڈ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی نے کئی برس تک عطیہ کی گئی انسانی باقیات کی مناسب حفاظت نہ کی اور لاج کی کارروائیوں کو روکنے یا بروقت پکڑنے میں ناکام رہی۔
رائٹرز کے مطابق تصفیے کے تحت ہارورڈ متاثرہ خاندانوں کے سامنے اپنے موقف کا اظہار کریگا، جبکہ میڈیکل اسکول عطیہ کیے گئے انسانی اعضا کے احترام اور حفاظت سے متعلق اصلاحات بھی کریگا۔

