ہمیں کاکروچ کہنے کا شکریہ، وزیرِ تعلیم کے استعفے پر ابھیجیت دیپکے کا چیف جسٹس کو پیغام

نئی دہلی (اے پی، فنانشل ٹائمز، دی انڈین ایکسپریس، برُٹ میڈیا) بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمیں کاکروچ کہنے کا شکریہ۔‘‘

ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ اگر چیف جسٹس سوریا کانت نے نوجوانوں سے متعلق ’’کاکروچ‘‘ کا ریمارکس نہ دیا ہوتا تو شاید وہ بھارت واپس نہ آتے اور یہ تحریک بھی شروع نہ ہوتی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک عدالتی ریمارکس کے بعد رکھی گئی تھی۔ سپریم کورٹ میں سینئر ایڈووکیٹ کے عہدے سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بعض ایسے افراد کا حوالہ دیتے ہوئے ’’کاکروچ‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا جو مبینہ طور پر جعلی ڈگریوں کے ساتھ روزگار حاصل نہ کر پانے کے بعد سوشل میڈیا، صحافت اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے نظام پر تنقید کرتے ہیں۔

بعد ازاں چیف جسٹس سوریا کانت نے وضاحت کی تھی کہ ان کے ریمارکس کا مقصد بھارت کے نوجوانوں کو عمومی طور پر نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ وہ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ تاہم یہ ریمارکس سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئے اور نوجوانوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

رپورٹس کے مطابق اسی تنازع کے بعد امریکا میں مقیم ابھیجیت دیپکے نے مئی میں طنزیہ انداز میں کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام کا اعلان کیا، جس کے بعد یہ پلیٹ فارم امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک، بے روزگاری اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ ایک احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔

جون کے آغاز میں ابھیجیت دیپکے بھارت واپس آئے اور نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت سنبھالی۔ تحریک کا بنیادی مطالبہ بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا۔ بعد ازاں احتجاج کا دائرہ ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل گیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے معاملے پر حکومت سے جواب دہی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا، جبکہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو تحریک کی اہم ترین شرائط میں شامل رکھا گیا۔

دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے اسے اپنی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حکومت کی جانب سے تحریک کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا گیا، جبکہ امتحانی اصلاحات، متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے اور مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق مطالبات بھی تحریک کے ایجنڈے میں شامل رہے۔