نیویارک (رائٹرز،اقوام متحدہ) ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانشیز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیل پر شدید تنقید کی اور کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت غزہ میں نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔
پیڈرو سانشیز نے کہا کہ ہسپانوی حکومت غزہ میں جاری صورتحال کی غیر مشروط مذمت کرتی ہے، جبکہ انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے جنگوں اور بحرانوں کے معاملے میں اختیار کیے جانے والے دوہرے معیار پر بھی تنقید کی۔
ہسپانوی وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں موجود بعض طاقتیں خود غرض، جاہل اور سنگ دل رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، غیر قانونی جنگیں لڑ رہی ہیں، بے گناہ شہریوں کو قتل کر رہی ہیں اور لاکھوں انسانوں کے مصائب سے صرف نظر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی طاقتیں اقوام متحدہ اور کثیر جہتی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔
پیڈرو سانشیز نے کہا کہ اسپین نے گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران یوکرین، لبنان اور ایران سمیت مختلف مقامات پر ہونے والی جارحانہ جنگوں کی مخالفت کی ہے اور ان کارروائیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے منشور سے متصادم ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی قانون کی پاسداری، کثیر جہتی تعاون کے فروغ، بین الاقوامی عدالتی اداروں کی حمایت اور خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کے احتساب پر زور دیا۔
ہسپانوی وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک اسرائیلی حکومت پر اسلحے کی پابندی عائد کرچکا ہے اور اپنی سرزمین کو بین الاقوامی قانون کے منافی کسی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روک رہا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اور مستقل ارکان کے ویٹو کے حق کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اسپین نے آئرلینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر مئی 2024 میں فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کیا تھا۔

