مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں:برطانوی وزیراعظم

نیویارک (رائٹرز) برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کو محفوظ بنانے کیلئےعالمی سطح پر مشترکہ اصول اور حفاظتی معیارات وضع کرنے پر زور دیا ہے۔

اینڈی برنہم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت بے پناہ فوائد کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم اس سے وابستہ خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس لیے عالمی برادری کو اس ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال اور خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ روسی اداروں نے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے اطلاعاتی ماحول کو متاثر کرنے کے لیے جھوٹی معلومات اور گمراہ کن مواد پھیلانے کے مختلف ذرائع استعمال کیے، جبکہ برطانیہ کے پاس 2019 کے عام انتخابات میں روسی مداخلت کی کوششوں کے شواہد بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ان خطرات کو مزید کئی گنا بڑھا سکتی ہے، اس لیے برطانیہ کو اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

اینڈی برنہم نے اعلان کیا کہ برطانوی سکیورٹی حکام کو ایک نئے قومی مرکز برائے اطلاعاتی دفاع کے قیام پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو ریاستی سطح پر ہونے والے گمراہ کن اطلاعاتی حملوں کی نشاندہی، ذمہ داروں کا تعین اور انہیں روکنے کے لیے کام کرے گا۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ 2027 میں جی 20 کی صدارت کے دوران مصنوعی ذہانت کو اپنی مرکزی ترجیحات میں شامل کرے گا اور عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مشترکہ اصول اور معیارات وضع کرنے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے متعلق بنیادی فیصلے منتخب حکومتوں کے ذریعے کیے جانے چاہئیں اور ضرورت پڑنے پر عوام کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی بھی کی جائے گی۔