تل ابیب (رائٹرز) اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف نیدرلینڈز کی پابندیوں کے ردعمل میں رام اللّٰہ میں فلسطینی اتھارٹی کیلئے کام کرنیوالے ڈچ سفارتکاروں کا سفارتی درجہ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ رام اللّٰہ میں کام کرنے والے ڈچ سفارتکاروں کو 7 روز کے اندر اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ سفارتی دستاویزات واپس کرنا ہوں گی، جس کے بعد ان کے سفارتی استحقاقات اور استثنیٰ ختم ہوجائیں گے۔گیڈون سار نے کہا کہ جو بھی ملک اسرائیل کیخلاف مخالفانہ اور یک طرفہ طرز عمل اختیار کریگا، وہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ اور اہمیت کھو دے گا۔
نیدرلینڈز کی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے اس اقدام پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ نیدرلینڈز کی جانب سے اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی گزشتہ ہفتے نافذ ہوئی تھی۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیل نے رواں سال اگست میں بھی ڈچ سفارتکاروں کو غزہ سے متعلق امریکا کی قیادت میں قائم رابطہ مرکز میں شرکت سے روک دیا تھا۔ یہ مرکز اسرائیل میں قائم ہے اور اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس وقت اس اقدام کی وجہ نیدرلینڈز کے ’’اسرائیل مخالف اقدامات‘‘ کو قرار دیا تھا۔
نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک طویل عرصے سے ایسے سفارتکار رام اللّٰہ میں تعینات کرتے رہے ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اپنے ممالک کے تعلقات کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ یہ سفارتکار مشرقی بیت المقدس میں مقیم ہوتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیل روایتی طور پر ایسے سفارتکاروں کو تسلیم کرتا اور سفارتی مشنز سے متعلق ویانا کنونشن کے تحت انہیں بعض سفارتی مراعات اور استثنیٰ فراہم کرتا رہا ہے۔رواں ماہ برطانیہ کے ساتھ فرانس اور کینیڈا نے بھی اسرائیلی بستیوں سے تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا، تاہم اسرائیل نے فرانس اور کینیڈا کے خلاف اس نوعیت کی کوئی کارروائی نہیں کی۔
رائٹرز کے مطابق غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیوں کے باعث اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت کو کئی اتحادی ممالک کی جانب سے سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔کئی ممالک نے اسرائیلی کابینہ کے 2 اہم وزرا پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ اسپین اور آئرلینڈ سمیت دیگر ممالک نے بھی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

