امریکا کا مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن(رائٹرز، اے ایف پی، بی بی سی)امریکا نے کانگریس کی منظوری کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو 8.6 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ مارکوروبیو نے ہنگامی صورتِ حال کا جواز پیش کرتے ہوئے اس فیصلے کو منظور کیا اور کانگریس کے جائزے کی شرط ختم کر دی۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس اسلحہ معاہدے میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قطر کو 4.01 ارب ڈالر کے میزائل دفاعی نظام اور 992.4 ملین ڈالر کے جدید ہتھیار فراہم کیے جائیں گے، جبکہ کویت کو 2.5 ارب ڈالر کا جنگی کمانڈ سسٹم دیا جائے گا۔

اسی طرح اسرائیل کو 992.4 ملین ڈالر کے ہتھیار اور متحدہ عرب امارات کو 147.6 ملین ڈالر کے دفاعی آلات دیے جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگ بندی کی صورتحال کے بعد خطے میں سیکیورٹی حالات حساس ہیں۔امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ فیصلہ اتحادی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔