واشنگٹن (سی این این،رائٹرز،ایسوسی ایٹ پریس)امریکا کی سپریم کورٹ میں لوزیانا کے متنازع انتخابی حلقہ بندی کیس پر ججز کے درمیان سخت اختلاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد ریاست کو نئی کانگریس حلقہ بندی دوبارہ بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
عدالت نے حال ہی میں لوزیانا کے اُس انتخابی نقشے کو غیر آئینی قرار دیا تھا جس پر الزام تھا کہ اسے نسلی بنیادوں پر تیار کیا گیا ہے۔ فیصلے کے بعد ریاست نے فوری طور پر نئی حلقہ بندی کی تیاری شروع کر دی ہے۔
جسٹس کیتنچی براؤن جیکسن نے اختلافی نوٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کی حالیہ کارروائیاں سیاسی رنگ رکھتی ہیں اور عدالت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے تھا جو جانبداری کا تاثر دیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ قدم روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر ہے اور اس سے انتخابات کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اس کے جواب میں جسٹس سموئیل الیٹو نے جیکسن کے ریمارکس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں “بے بنیاد اور توہین آمیز” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ مکمل طور پر قانونی اصولوں کے مطابق ہے۔سپریم کورٹ کے تین قدامت پسند ججز نے بھی الیٹو کے مؤقف کی حمایت کی۔
فیصلے کے بعد لوزیانا میں سیاسی صورتحال مزید تیز ہوگئی ہے، جہاں ریاستی حکومت نے کانگریس انتخابات عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے نئی حلقہ بندی کی تیاری شروع کر دی ہے۔رپورٹس کے مطابق نئی حلقہ بندی سے ریاست میں ایک سیاہ فام اور ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس کی نشست کم ہو سکتی ہے جس کے باعث اس فیصلے پر سیاسی بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

