بروک ویل(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر بروک ویل میں ایک گھر سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کے بعد 17 سالہ نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق مقتولین میں 49 سالہ خاتون اور ان کی دو بیٹیاں شامل ہیں جن کی عمریں 15 اور 17 برس تھیں، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
بروک ویل پولیس کے انسپکٹر ڈیرل بوئیڈ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم کا مقتول لڑکیوں میں سے ایک کے ساتھ تعلق تھا، جس کے باعث واقعے کو گھریلو یا قریبی تعلقات میں تشدد کا معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے 11 بجے کارٹیئر کورٹ میں واقع گھر سے 911 کال موصول ہوئی، جہاں پہنچنے پر پولیس نے تینوں اموات کو مشتبہ قرار دیا۔بعد ازاں موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک اور مقام پر کارروائی کی گئی جہاں سے 17 سالہ نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم پر فرسٹ ڈگری قتل کی تین دفعات اور ایک پولیس افسر پر حملے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔تحقیقات کے مطابق واردات میں ممکنہ طور پر چاقو استعمال کیا گیا جبکہ پولیس نے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات کا تعین تاحال نہیں ہوسکا۔
انسپکٹر ڈیرل بوئیڈ کے مطابق یہ واقعہ خواتین کے قتل کی ایک سنگین مثال تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ تینوں مقتولین خواتین تھیں۔پولیس نے بتایا کہ گرفتار نوجوان کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر تحویل میں دے دیا گیا جبکہ کم عمری کے باعث اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی۔
بروک ویل کے میئر میٹ رین نے واقعے کو “ناقابلِ بیان سانحہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر شدید صدمے اور غم کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔شہر بھر کی سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں کردیئے گئے ہیں جبکہ مقامی تعلیمی اداروں میں طلبہ اور عملے کے لیے خصوصی معاونتی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

