بلآخر قومی اسمبلی نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی کثرت رائے سے منظوری دیدی،،، ایسا کرنا تو ویسے بھی سکرپٹ کے عین مطابق تھا،،، کیوں کہ سکرپٹ میں لکھا تھا کہ بس آٹھ دس تقاریر ہوں گی،،، اور اُس کے بعد قومی اسمبلی اسے منظور کر لے گی اور پھر کے پی کے میں گورنر راج اور ایمرجنسی ”حلال“ ہو جائے گی۔ ویسے جہاں اتنے سروے آتے ہیں، وہاں ایک سروے اس حوالے سے بھی آنا چاہیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کونسی حکومت اوچھے اقدامات کرکے اپنا مذاق خود بنواتی ہے،،، اور اس سروے میں اگر کوئی پہلی پوزیشن حاصل کرے گا تو وہ پاکستان ہوگا،،، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ انہوں نے قانون کو ایسا لچکدار بنا دیا ہے کہ یہ اُسے جیسے چاہیں، توڑ مروڑ کر پیش کر سکتے ہیں،،، یہ جب چاہیں،، 26ویں ترمیم لے آتے ہیں، جب چاہیں 27ویں ترمیم سامنے رکھ دیتے ہیں اور جب چاہیں،،، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیا قانون بھی لے آتے ہیں،،، اور جب چاہیں اور جہاں چاہیں قانون کو خاموش کروا کر اپنی منشاءکے مطابق چیزیں بدل لیتے ہیں،،، بلکہ انہوں نے تو ہر چیز اپنے مطابق سیٹ کر رکھی ہے،،، عدالتیں، پارلیمنٹ، میڈیا کے ادارے، اور انتظامیہ سب کچھ اپنے مطابق سیٹ کر رکھا ہے،،، بلکہ حد تو یہ ہے کہ عدالتوں کو ہی دیکھ لیں،،، جن کے احکامات یہ خود تو نہیں مانتے مگر دوسروں کو تلقین کرتے ہیں کہ عدالتوں کے احکامات تسلیم کریں۔پھر آپ پارلیمنٹ ہی کو دیکھ لیں،،، جس کے بنائے قوانین یہ خود تسلیم نہیں کرتے اور دوسروں کو کہتے ہیں کہ یہ پارلیمنٹ کا فیصلہ ہے،،، یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ خود پارلیمنٹ کو معذرت کے ساتھ جوتے کی نوک پر رکھیں اور دوسروں سے اس کا احترام کرنے کو کہیں۔
الغرض آپ نے آج ایمرجنسی کو تو پارلیمنٹ سے منظور کروالیا،،، مگر یہ پارلیمنٹ اُس وقت کہاں تھی جب آپ عدلیہ کے اختیار کو محدود کر رہے تھے؟ یعنی جب 26ویں آئینی ترمیم ہورہی تھی، اور عدلیہ کے اختیارات کو تقسیم کیا جا رہا تھا تو اُس وقت پارلیمنٹ کہاں تھی؟ یا جب 27ویں ترمیم کے ذریعے عدالتی ڈھانچے کو بدلا جا رہا تھا تو اُس وقت پارلیمنٹ کہاں تھی؟ یا جب پیکاایکٹ میں ترامیم کروائی جا رہی تھیں تو اُس وقت پارلیمنٹ کہاں تھی؟ پھر جب آپ نے سعودی عرب، ترکی کے ساتھ مکہ معاہدہ کیا تو اُس وقت پارلیمنٹ کہاں تھی؟ کیا حوثیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے بھی پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا گیا ؟ اور پھر جب آپ نے گورنر راج لگا دیااور ایمرجنسی ڈکلیئر کرنی تھی تب بھی آپ کو احساس نہیں ہوا کہ پارلیمنٹ سے پوچھ لینا چاہیے،،، لیکن جیسے ہی سب کام ہوگئے تو آپ کو پارلیمنٹ کی یا دآگئی!مجھے تو یہ بھی لگتا ہے کہ انہوں نے نئے صوبے بناتے وقت بھی پارلیمنٹ کو بطور ربڑ سٹیمپ ہی استعمال کرنا ہے،،، الغرض اگر یہی روایت قائم رکھی گئی اور سرکاراسی خوش فہمی میں مبتلا رہی کہ سب ٹھیک ہے! تو میرے خیال میں وہ دن دور نہیں جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا ،،، کیونکہ آپ اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے ایکسپوز ہو رہے ہیں،،، آپ سمجھے ہیں کہ عوام کو کچھ سمجھ نہیں لگ رہی، لیکن میرے خیال میں آپ غلط ہیں، کیوں کہ وہ سب سمجھ رہے ہیں،،، اُنہیں یہ بھی سمجھ آرہا ہے،،، کہ آپ نے کچھ جگہوں پر ایمرجنسی اور کچھ پر گورنر راج کیوں لگایا ہے؟ مطلب بادی النظر میں جس جگہ سے معدنیات نکالنی ہیں وہاں ایمرجنسی اور جہاں سے انکو انتظامی قسم کے مسائل ہیں وہاں گورنر راج لگا دیا گیا ہے،،، اب آپ خود بتائیں کہ کیا کبھی دنیا میں ایسا ہوا ہے؟ کیا دنیا یہ سب چیزیں نہیں دیکھ رہی؟ بلکہ اندھے کو بھی نظر آرہا ہے کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟ تو پھر بتایا جائے کہ یہ سب کچھ اپنا مذاق بنانے کے لیے کافی نہیں ہے؟
بہرحال موجودہ قومی اسمبلی کا اجلاس محض اسی لیے بلایا گیا ہے تاکہ ایمرجنسی کا سارا ملبہ پارلیمنٹ پر ڈالا جائے،،، اور کہا جائے کہ یہ قومی اسمبلی کا مشترکہ فیصلہ ہے،،، اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے،، ،مطلب! اب یہ چیزیں ہیں،،، اس طرح کی غیر سنجیدہ حرکتیں کرنے والی؟ کیا اس سے یہ مزید ایکسپوز نہیں ہو رہے ؟ کیا عوام اب پہلے سے زیادہ باشعور نہیں ہوگئے؟ کیا سوشل میڈیا اور اے آئی کے دور میں اب عوام اپنے تئیں فیصلے کرنے کی بہتر پوزیشن میں نہیں ہیں؟ یقین مانیں میں جس جگہ جاﺅں، جس محفل میں جاﺅں،،، لوگ ہنس ہنس کر سرکار کے ”کارناموں “ کو ایکسپوز کر رہے ہوتے ہیں،،، کیا یہ اس لیے کر رہے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں خاص طو رپر ن لیگ کو علم ہو چکا ہے کہ انہوں نے اب عوام میں تو جانا نہیں ہے،،، تبھی تو ن لیگ کے اپنے لوگ بھی ان کے خلاف بولنا شروع ہو گئے ہیں،،، ان میں جاوید لطیف، سعد رفیق سمیت متعدد رہنما نمایاں ہیں۔
اس لیے شاید ن لیگ کو صرف اس چیز کی پرواہ ہے کہ اب اُنہیں اقتدار میں رہنے کے لیے محض اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیاں ہی چاہیے ہیں،،،بس یہی کافی ہیں،،، اور کچھ نہیں! آپ شاید یقین نہ کریں مگر یہ بات درست ہے کہ موجودہ حکومت تو جنرل ضیاءالحق کی مجلس شوریٰ سے بدتر ہو چکی ہیں،،، بلکہ یہ ق لیگ سے بھی زیادہ نیچے جا چکی ہے،،، یعنی اس سے زیادہ جرات تو ق لیگ میں تھی،،، وہ مشرف کی ہاں میں ہاں ملانے سے زیادہ اختلاف رائے رکھنے پر یقین رکھتی تھی،،، جیسے جون 2004ءمیں جمالی نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیا تو اس وقت مشرف اور چوہدری شجاعت حسین کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض تاریخی بیانات میں ان کی رخصتی کو مشرف کی سیاسی حکمتِ عملی سے بھی جوڑا گیا ہے۔جس کے بعد چوہدری شجاعت حسین عبوری وزیراعظم بنے، جبکہ شوکت عزیز کو اگلا وزیراعظم بنانے کا راستہ ہموار کیا گیا۔ حالانکہ مشرف خورشید قصوری کو وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے،،، پھر یہی نہیں بلکہ مشرف دور میں 2007ءمیں بے نظیر بھٹو سے مفاہمت، مشرف کے وردی میں صدر منتخب ہونے اور عدلیہ کے بحران کے معاملات سمیت کئی جگہوں پر مشرف اور ق لیگ میں اختلافات دیکھے گئے،،،
مطلب! سیاسی لوگ تو اختلاف بھی کر لیتے ہیں، مگر یہاں تو اختلاف برائے نام رہ گئے ہیں، حتیٰ کہ یہ بے دھڑک غلامی ضیاءالحق دور میں بھی نہیں تھی،،، اُس وقت بھی پیر پگاڑا، وغیرہ خاصے اختلاف رائے رکھتے تھے،،، جبکہ جنرل ضیاءکو ان کی باتیں سننا بھی پڑتی تھیں۔۔۔ لیکن یہاں تو بیڑہ ہی غرق ہوا پڑا ہے،،، کہیں اختلاف رائے نہیں ہے،،، سب کچھ من و عن تسلیم کیا جا رہا ہے،،، جس سے جمہوری حکومت مذاق بن کر رہ گئی ہے،،، اور دنیا ہمارا مذاق بنا رہی ہے،،،دنیا اس پر بھی ہم سے خفا ہے کہ ایک جمہوری پارٹی کے ساتھ ہم کیا کیا کر رہے ہیں،،،یعنی تحریک انصاف کو منظر عام سے ہٹائے جانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں،،، جس سے ملک بھر میں بدترین سیاسی بحران پیدا ہو چکا ہے،،، لہٰذاابھی بھی وقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہوش کے ناخن لیں،،، اور خاص طور پر تحریک انصاف بھی اپنی صفوں میں ضرور جھانکے ،، منصف مزاجی کا تقاضا ہے کہ کھل کر اعتراف کیا جائے کہ آفریدی نے تحریک انصاف کے انتہا پسندوں کے تمام تر دباﺅ کے باوجود ”اٹک کے اس پار سے ایک اور یلغار“ کے تصور سے گریز کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے سندھ اور پنجاب کے دورے مگر ملک گیر احتجاج کے توقع دلوانے میں ناکام رہے۔ بالآخر وہ اسلام آباد کی جانب ایک اور مارچ کا اعلان کرنے کو مجبور ہوگئے۔ ”آخری معرکے“ کو حیلے بہانوں سے ٹالتے بھی رہے کیونکہ ان ہی کی جماعت کے معتدل مزاج رہ نماﺅں کو امید تھی کہ وفاقی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے عمران خان کی رہائی تو نہیں مگر جیل میں رسائی تک کی سہولتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔لیکن ہٹ دھرمی دیکھیں یہ یکطرفہ جھوٹ بولتے رہے،،،
اورمذاکرات کے دوران مگر وفاقی حکومت نے ہوشیاری اور چالاکی سے دہشت گردی کو خیبرپختونخوا کا کلیدی مسئلہ قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے بھرپور تعاون کا تقاضا شروع کردیا۔ سہیل آفریدی اس کیلئےآمادہ ہوجاتے تو عمران خان کی طالبان کے حوالے سے سوچ کے ”غدار“ تصور ہوتے۔ جواں سال آفریدی اپنی وفاداری ثابت کرنے کو ڈٹ گئے اور تحریک انصاف ”بیس کیمپ“ سے محروم ہوگئی۔ بیس کیمپ سے محرومی کے بعد اسے نئے بحران کا سامنا ہے۔ ایمرجنسی جمع گورنرراج کے ذریعے متعارف ہوئے نئے صوبائی بندوبست نے مگر وفاقی حکومت کیلئےبھی کئی مشکلات کھڑی کردی ہیں جن سے نبردآزما ہونے میں ناکامی کے اثرات تاریخی اور ملک گیر ہوں گے۔
بہرکیف مسائل جو بھی ہوں انہیں جگ ہنسائی کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیے،،، بلکہ اندرونی مسائل کو سختی سے نمٹنے کے بجائے مذاکرات سے نمٹنے کی ضرورت ہے،،، تبھی ہم مسائل کے حل کی طرف آسکتے ہیں ورنہ اگر ہم مسائل کی نزاکت کو نہ سمجھے تو اس کا نقصان یقینا مجموعی طور پر وطن عزیز کو ہوگا اور جس کے اثرات ایک عرصے تک پاکستان برداشت بھی کرے گا! اس لیے اپنا قبلہ درست کریں اور عوامی اداروں کا بھی اُسی طرح احترام کریں جس طرح دنیا بھر میں کیا جاتا ہے!

