روز سوچتا ہوں کہ پاکستان کی سیاست اور ملکی حالات پر لکھنا چھوڑ دوں۔ آخر کب تک ایک ہی سوال دہراتا رہوں، جب ہمارے ہاں مکالمے کی جگہ نفرت، اختلافِ رائے کی جگہ دشمنی اور دلیل کی جگہ سیاسی وابستگی نے لے لی ہے؟ مخصوص بااثر طبقات اقتدار اور وسائل پر اپنی گرفت مضبوط کرتے جا رہے ہیں، جبکہ عام آدمی اس بحث میں الجھا ہوا ہے کہ میرا لیڈر افضل ہے یا تمہارا، میری جماعت بہتر ہے یا تمہاری۔ ہم آپس میں دست و گریباں ہیں، جبکہ ملک کے بنیادی مسائل ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمیں یہ پوچھنے کی فرصت ہی نہیں کہ ہمارے بچوں کے اسکول، مزدوروں کی فیکٹریاں اور عام شہریوں کے گھر محفوظ کیوں نہیں؟
مگر پھر کوئی ایسا دلخراش سانحہ رونما ہو جاتا ہے کہ خاموشی گناہ محسوس ہونے لگتی ہے اور قلم اٹھانا اپنا اخلاقی فرض بن جاتا ہے۔
15 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے، تازہ اطلاعات کے مطابق، 34 معصوم بچے اور 1 خاتون استاد جاں بحق ہو گئیں، جبکہ 50 سے زائد بچے زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ ذرا تصور کیجیے، جن والدین نے صبح اپنے بچوں کے بستے سنوارے، انہیں ناشتہ کرایا اور بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے اسکول روانہ کیا، کیا انہوں نے سوچا ہوگا کہ آج ان کے بچے واپس نہیں آئیں گے؟ جن کمروں میں علم کی روشنی پھیلنی چاہیے تھی، انہی کمروں میں ان کی زندگی کے چراغ بجھ گئے۔ کسی ماں کی گود اجڑ گئی، کسی باپ کی زندگی بھر کی امیدیں ملبے تلے دب گئیں۔ اور وہ زخمی بچے، جن میں سے بعض زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان کے والدین کس اذیت سے گزر رہے ہوں گے؟ ان بچوں کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ پڑھنے گئے تھے۔ کیا ایک ریاست اپنے بچوں کو اتنی سی ضمانت بھی نہیں دے سکتی کہ درس گاہ کی چھت ان کے سروں پر نہیں گرے گی؟
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے سانحات کسی ایک شہر یا ادارے تک محدود نہیں۔ لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ باغبانپورہ کے ایک اسکول میں بھی 1 بچہ ہلاک اور 4 زخمی ہوئے۔ کراچی کے گل پلازہ، ریجنٹ پلازہ اور علی انٹرپرائزز فیکٹری، لاہور کے ایل ڈی اے پلازہ اور سندر انڈسٹریل اسٹیٹ، نیز کراچی کے مہران ٹاؤن اور لیاری کے سانحات بھی اسی وسیع تر مسئلے کی مختلف شکلیں ہیں۔
کہیں اسکول کی چھت گرتی ہے، کہیں فیکٹری میں آگ لگتی ہے اور کہیں خستہ حال رہائشی عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے۔ متاثرین مختلف ہوتے ہیں، مگر بنیادی سوال ایک ہی رہتا ہے: کیا یہ محض حادثات ہیں، یا ان کے پیچھے مسلسل نظرانداز کیے جانے والے حفاظتی اصول، ناقص نگرانی اور ادارہ جاتی غفلت کارفرما ہے؟
کراچی کی علی انٹرپرائزز فیکٹری میں جاں بحق ہونے والے محنت کش اپنے بچوں کی روزی کمانے گھر سے نکلے تھے، موت خریدنے نہیں۔ مہران ٹاؤن میں بند راستوں اور کھڑکیوں پر لگی سلاخوں نے مزدوروں کیلئے جان بچا کر نکلنا دشوار بنا دیا۔ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں بعض مزدور عمارت میں پڑنے والی دراڑوں کے بارے میں پہلے ہی خدشات ظاہر کر چکے تھے۔ مگر ہمارے ہاں غریب مزدور کی آواز اکثر اس وقت سنی جاتی ہے جب وہ خود ملبے تلے دب چکا ہوتا ہے۔
خستہ حال رہائشی عمارتوں کا مسئلہ بھی کم سنگین نہیں۔ کراچی کے علاقے لیاری میں خطرناک قرار دی گئی عمارت کے مکینوں کیلئے محفوظ متبادل رہائش کا انتظام نہ ہو سکا۔ آخر ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو لے کر کہاں جائے؟ خطرناک چھت کے نیچے رہے یا کھلے آسمان تلے زندگی گزارے؟ جب ریاست شہریوں کیلئے محفوظ رہائش کے مناسب انتظامات نہیں کرتی تو کسی عمارت کا گرنا محض تعمیراتی ناکامی نہیں رہتا، بلکہ انتظامی ناکامی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
ہر سانحے کے بعد ایک مانوس منظر سامنے آتا ہے: حکومتی تعزیتی بیانات، وزرا کے دورے، میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار، امدادی رقوم کے اعلانات، گرفتاریاں اور تحقیقاتی کمیٹیاں۔ چند دن میڈیا پر شور رہتا ہے، پھر خبریں بدل جاتی ہیں اور عوام کسی نئے سیاسی تنازعے میں الجھ جاتے ہیں۔ یوں سانحہ ختم نہیں ہوتا، صرف ہماری توجہ ختم ہو جاتی ہے۔
تحقیقات ہوتی بھی ہیں، مگر اصل سوال ان کے نتائج کا ہے۔ کتنی رپورٹیں عوام کے سامنے آئیں؟ کتنی سفارشات پر عمل ہوا؟ کتنے ذمہ داروں کو سزا ملی؟ کتنی غیر محفوظ عمارتیں خالی کرائی گئیں یا محفوظ بنائی گئیں؟ اگر ایک سانحے کی تحقیقات دوسرے سانحے کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں تو پھر ان تحقیقات کا عملی فائدہ کیا ہے؟
ذمہ داری صرف عمارت کے مالک یا ٹھیکیدار پر ڈال دینا کافی نہیں۔ عمارتوں کے نقشے کون منظور کرتا ہے؟ اضافی منزلوں کی تعمیر کی اجازت کون دیتا ہے؟ اسکولوں اور فیکٹریوں کی رجسٹریشن، عمارتوں کے تعمیراتی معیار اور حفاظتی انتظامات کی نگرانی کس کے ذمے ہے؟ اگر قوانین موجود ہیں تو ان پر عمل کیوں نہیں ہوتا، اور اگر قوانین ناکافی ہیں تو انہیں بہتر بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟ محض ایک گرفتاری سے پورے انتظامی نظام کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حل ناممکن نہیں۔ تمام اسکولوں، مدرسوں، ٹیوشن سینٹروں، فیکٹریوں اور کثیر المنزلہ عمارتوں کے باقاعدہ حفاظتی معائنے لازمی قرار دیے جائیں۔ یہ معائنے مستند ماہرین سے کرائے جائیں، جبکہ اسکولوں میں والدین، فیکٹریوں میں مزدوروں اور رہائشی عمارتوں میں مکینوں کے نمائندوں کو بھی نگرانی کے عمل میں شامل کیا جائے۔ معائنہ رپورٹیں عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ خطرناک عمارتیں فوری طور پر خالی کرائی جائیں، مگر متاثرہ خاندانوں کیلئے متبادل رہائش اور بچوں کی تعلیم کا مناسب انتظام بھی کیا جائے۔ ناقص تعمیرات اور ثابت شدہ غفلت پر مالکان کے ساتھ متعلقہ سرکاری اہلکاروں کا بھی منصفانہ احتساب کیا جائے۔ ہر بڑے سانحے کی تحقیقات اور اصلاحی اقدامات پر پیش رفت کو مقررہ مدت میں شائع کرنا قانونی ذمہ داری قرار دیا جائے۔
سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی اجتماعی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ ہم سیاسی رہنماؤں کے دفاع میں گھنٹوں بحث کر سکتے ہیں، مخالف جماعتوں کے خلاف سڑکوں پر نکل سکتے ہیں، لیکن اپنے بچوں کی سلامتی، مزدوروں کی حفاظت اور عام شہری کے حقِ زندگی کیلئےمتحد کیوں نہیں ہو سکتے؟ کیا کسی معصوم بچے کی جان ہماری سیاسی وفاداریوں سے بھی کم اہم ہے؟
پشاور کے ان گھروں میں اب کوئی سیاسی نعرہ تسلی نہیں دے سکتا جہاں ایک بستہ تو موجود ہے، مگر اسے اٹھانے والا بچہ ہمیشہ کے لیے جا چکا ہے۔ اور جن گھروں کے بچے زخمی حالت میں اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، وہاں ہر گزرتا لمحہ خوف، بے چینی اور دعاؤں کے سہارے گزر رہا ہے۔ ان والدین کو صرف تعزیت نہیں، انصاف چاہیے؛ صرف مالی امداد نہیں، نظام کی اصلاح چاہیے۔
یاد رکھیے، ہر چھت اچانک نہیں گرتی اور ہر آگ ناقابلِ تدارک نہیں ہوتی۔ عمارت گرنے سے پہلے اکثر ضابطے ٹوٹتے ہیں، آگ بھڑکنے سے پہلے حفاظتی اصول نظرانداز ہوتے ہیں اور انسانوں کے مرنے سے پہلے ذمہ داریاں دفن ہو چکی ہوتی ہیں۔
ہم ہر سانحے کے بعد ملبے سے لاشیں تو نکال لیتے ہیں، مگر افسوس کہ اس ملبے سے سبق نہیں نکالتے۔
اب سوال یہ نہیں کہ اگلی چھت کب گرے گی یا اگلی فیکٹری کب جلے گی۔ سوال یہ ہے کہ اسے روکنے کا اختیار رکھنے والوں سے حساب کب لیا جائے گا؟ کیونکہ جب ایک جیسے سانحات بار بار رونما ہوں اور ان سے سبق نہ سیکھا جائے تو پھر معاملہ محض حادثے کا نہیں رہتا، پورے نظام کی جواب دہی کا بن جاتا ہے۔

