تہران (ایجنسیاں) امریکا کے صدر کی جانب سے اعلان کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی نے اسرائیل کی سیاست اور حکمتِ عملی پر شدید بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ایران تنازع میں پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن پر نظر آ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ ایران اب خطے کے لیے جوہری یا میزائل خطرہ نہیں رہا، تاہم یہ جنگ بندی لبنان میں حزب اللّٰہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما نے جنگ بندی کو اسرائیل کی تاریخ کی بڑی سیاسی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ حکومت اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ بائیں بازو کے رہنما نے بھی وزیرِاعظم پر تنقید کی کہ وہ عوام سے رابطہ نہیں رکھتے اور زیادہ تر میڈیا سے بات کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وزیرِاعظم کے اہداف ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا اور حکومت کے خاتمے کے لیے حالات پیدا کرنا تھے، جو حاصل نہیں ہو سکے۔ ماہرین نے کہا کہ ایران کی حکومت برقرار ہے، اس کا میزائل پروگرام دوبارہ فعال ہو سکتا ہے اور اس کے پاس افزودہ یورینیئم موجود ہے جو کئی ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شدید حملوں، فضائی برتری کے نقصان اور اعلیٰ قیادت کی ہلاکتوں کے باوجود ایران حکمتِ عملی کے لحاظ سے فاتح کے طور پر ابھرا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے فیصلے کو بھی جنگ کا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی عوام میں حکومت کے حق میں حمایت بڑھی، جبکہ اسرائیلی حملوں سے بعض اپوزیشن مراکز متاثر ہوئے۔ سابق اسرائیلی سفارت کار کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہی تو اسرائیل نے عملی طور پر کوئی بڑا فائدہ حاصل نہیں کیا۔
عرب میڈیا کے مطابق پاکستان کی میزبانی میں متوقع امن مذاکرات میں اسرائیل کی شرکت غیر یقینی ہے اور مستقبل میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا فیصلہ انہی مذاکرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔

