ایران ایٹمی ہتھیار بناتا تو ہم اور اسرائیل موجود نہ ہوتے:ڈونلڈٹرمپ

واشنگٹن (رائٹرز، اے ایف پی، سی این این، بی بی سی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا تو نہ امریکا ہوتا اور نہ ہی اسرائیل موجود ہوتا۔اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اگر جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ اب تک مشرقِ وسطیٰ کو تباہ کر چکا ہوتا، امریکا نے بروقت اقدامات کر کے اسے ایسا کرنے سے روکا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اگر ایسا ہوا تو دنیا شدید خطرے سے دوچار ہو جائیگی ۔ ان کے مطابق امریکا ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو پہلے ہی بڑی حد تک تباہ کر چکا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایران میں جا کر لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ایرانی قیادت کو بہتر فیصلے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نیویارک میں مقیم ایرانیوں کو جانتے ہیں اور انہیں اچھے لوگ قرار دیا۔

تیل کی قیمتوں کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ایک چھوٹی قیمت ہے جو دنیا ایٹمی خطرے سے بچنے کے لیے ادا کر رہی ہے، ان کے بقول تیل کی قیمتیں 200 سے 300 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی تھیں، تاہم اس وقت یہ تقریباً 102 ڈالر فی بیرل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران پر سخت ترین پابندیاں عائد کی ہیں، ایرانی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ ایرانی قیادت کے طرز عمل سے مطمئن نہیں، انہوں نے میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی صورتحال کو درست انداز میں پیش نہیں کیا جا رہا اور عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔