کراچی(خبر ایجنسیاں) کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر گزشتہ شب ہونے والے تصادم کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے پارٹی کے متعدد عہدیداروں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے، جبکہ ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ بہادرآباد مرکز میں شبیر قائم خانی اور دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ رات ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں پارٹی کے دو دھڑوں کے درمیان تصادم، ہاتھا پائی اور مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
نیو ٹاؤن تھانے کی حدود میں واقع ایم کیو ایم مرکز کے باہر بڑی تعداد میں کارکن جمع ہوگئے تھے، جہاں دونوں گروپوں کے کارکن ایک دوسرے کو دھکے دیتے رہے۔ اس دوران نامعلوم افراد کی مبینہ فائرنگ سے 2 افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔
ایس ایچ او نیو ٹاؤن انسپکٹر گل حسن نے گزشتہ رات بتایا تھا کہ فوری طور پر نہ تو واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور نہ ہی کسی کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں پولیس نے مختلف کارروائیوں میں متعدد عہدیداروں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑوں کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے متعدد کارکن اور عہدیدار زخمی ہوئے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال گروپ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ خالد مقبول گروپ کی رات گئے طے شدہ پریس کانفرنس ملتوی کر دی گئی، جبکہ مصطفیٰ کمال گروپ کے رہنماؤں نے فوری طور پر اس معاملے پر ردعمل دینے سے گریز کیا۔

