خلاء زیادہ دیر نہیں رہتا!

ہمارے شہ دماغوں کا کوئی جواب نہیں، مشہور تو یہ تھا کہ ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا لیکن یہاں حالات یہ ہیں کہ ان ”ماہرین“ کے ایجاد کردہ فارمولوں نے لوگوں کو سر پر پڑنے والی کو بھلا دیا ہے۔ کہاں لوگوں کا مطالبہ تھا کہ بجلی اور گیس کے نرخ بہت زیادہ ہیں یہ کم کئے جائیں اور کہاں اب یہ مطالبہ ہے کہ بلوں میں لگائے جانے والے فکس چارجز اور ایک یونٹ زیادہ ہو جانے پر رقم دوگنا سے زیادہ ہو جانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے کسی کو یاد ہی نہیں کہ بجلی کے فی یونٹ نرخ بھی بڑھتے بڑھتے 45سے 55روپے فی یونٹ تک پہنچ چکے ہیں اور تازہ ترین کارنامہ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ کو سبزی منڈی بنا دینے والا ہے کہ اب صارفین یہ بھول گئے کہ پٹرول کے نرخ 250روپے فی لٹر سے کم ہونا چاہئیں اب تو صارفین سے پوچھا جاتا ہے وہ جواب دیتے ہیں، بڑھائے گئے نرخ مسترد کرتے ہیں اور جب اونٹ کے منہ میں زیرہ کے طو رپر رعائت دی جاتی ہے تو صارفین کہتے ہیں نرخ سابقہ سطح پر لائیں ”اللہ اللہ خیر سلا“اپنے ماہرین نے عوام کی نفسیات سے جو کھیل کھیلنا شروع کیا وہ کامیاب ہو گیا ہے اب عوامی سطح کی حد بھی ہو چکی اور وہ بے بسی کا اظہار کررہے ہیں، ابھی دو روز قبل اوگرا نے ریلیف دی اور چار روپے چند پیسوں کی کمی کر دی اور پھر اگلے ہی روز مزید کرم فرمائی کی ریلیف کی جگہ چار روپے اور چند پیسے بڑھا دیئے یوں ایک کھیل سا شروع ہو گیا ہے کہ اس سے قبل 11پیسے فی لٹر کمی والا نسخہ ہی کارگر نہیں ہو رہا تھا، صارفین بلبلا رہے ہیں، تنخواہ دار طبقہ دکھی ہے کہ جونہی یہ کھیل دکھایا جاتا ہے ان کی آمدنی کم ہو جاتی ہے کہ مہنگائی کا مقابلہ ممکن نہیں رہتا، نہ جانے حکمرانوں نے کیا سوچ کر یہ طریقہ کار نافذ کیاہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ پہلے کہاجاتا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں نرخ بڑھ گئے ہیں اس لئے بڑھانا پڑے اب صارفین پوچھ رہے ہیں کہ عالمی مارکیٹ میں تین دن کے اندر قریباً پندرہ فیصد نرخ کم ہوگئے ہیں تو آپ نے کس خوشی میں یہ اضافہ کیا ہے، کیا اوگرا ہم کم عقل لوگوں کو یہ سمجھائے گی کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا مقصد کیا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ آئل کمپنیوں نے کب اور کس نرخ پر سودا کیا اور جب پٹرولیم مصنوعات ان تک پہنچ گئیں تو اس وقت نرخ کیا تھے اور پھر جب آپ روزانہ کی بنیاد پر یہ کھیل کھیلتے ہیں تو کمپنیوں،پٹرولیم ڈیلروں اور پٹرول پمپ والون کے پاس تو پہلے خریدا ہوا تیل ہوتا ہے پھر آپ نے کبھی یہ خیال ہی نہیں کیا کہ بریک آئل اور انجن آئل بھی ہوتے ہیں اور باقی پروڈکٹ بھی بیچی جاتی ہیں کبھی ادھر بھی نظر کی یا نہیں؟

قدرت کا ایک اصول ہے جب کسی مقام پر ویکیوم (خلاء) ہوتا ہے تو پھر کہیں سے اسے پُر کرنے کیلئےبھی کچھ آجاتا ہے اور یہ تو سائنس کی تھیوری ہے کہ سورج کی شدت جب فضا میں ویکیوم بناتی ہے تو اسے ختم کرنے کے لئے تیز تر آندھی آتی ہے جو اکثر اوقات نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ آپ جان بوجھ کر ایسی صورت حال پیدا کررہے ہیں یہ تو سبزی منڈی، فروٹ منڈی اور کریانہ منڈی کا کام ہے کہ روز کے روز سودے ہوتے اور روزانہ ہی نرخ متعین ہوتے ہیں اس کے باجوود سبزیاں فروٹ اور گراسری کے نرخ اس طرح گرتے اور بڑھتے نہیں ہیں،ان مارکیٹوں میں ضرورت اور پیداوار کا اصول کارفرما ہے، اشیاء کی آمد زیادہ ہو تو بازار میں نرخ گر جاتے ہیں اس لئے لازم یہ ہوتا ہے کہ ضرورت اور آمد کا حساب رکھا جائے اگر کمی ہو تو مزید مال سے اس کو دور کیا جائے اور یہی مارکیٹ کااصول ہے لیکن کیا پٹرولیم اور بجلی پر بھی یہی فارمولا لاگو ہوتا ہے، آپ کس بنیاد پر روز کے روز نرخ متعین کرتے ہیں کیا ہر روز کوئی کارگو پٹرولیم لے کر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتا ہے اور اس کی آمد کے ساتھ ہی نرخوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے یہاں تو آپ موجود سٹاک پر ہر روز نرخ بڑھاتے ہیں اور پٹرولیم کے تاجروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں ایک عرض کر دوں اور ملکی فضا میں مجموعی ویکیوم بھی بنتا اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مراعات یافتہ اور محروم طبقات کے درمیان فرق بھی زیادہ ہو رہا ہے جبکہ فکس آمدنی (تنخواہ دار طبقہ) کی معاشی حالت روز بروز خراب ہو رہی ہے۔

انہی حالات میں ملک کے سیاسی حالات میں بھی عجیب صورت پیدا ہو رہی ہے۔ میرا بھی جی چاہتا ہے کہ اس چلتے کاروبار میں اپنا ”لُچ“ تلوں، لیکن پھر اسی دیرینہ تجربہ کی بناء پر ڈر جاتا ہوں کہ جہاں یقین نہیں بے یقینی کی فضا ہے، آج کے دور میں بھی بڑے بڑے بہادر لکھنے والے ہیں اور ان کو ہم پرانے دور کے لوگوں کی طرح فکر بھی نہیں کہ وہ ایسی حیثیت کے مالک ہیں کہ ان کو کچھ نہیں کہا جاتا میں بھی اپنے ایک چھوٹے بھائی اور شہردار پردیسی کی طرح رپورٹنگ کے دور کو یاد کرتا رہتا ہوں جب ہمارے اکا دکا دوستوں کو باقاعدہ بریف کرکے خبریں چلوائی جاتی تھیں کہ ان کے اثرات کا جائزہ لیا جائے اور اب تو اس سے کہیں زیادہ یہ عمل جاری ہے اس لئے میری ہمت نہیں ہوتی اگرچہ میں غور سے ان دوستوں کی تحریریں پڑھتا ہوں جو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے لئے آج بھی معتبر ہیں اور ان کا لکھا سچ ہی ہوتا ہے لیکن حالیہ ایک ہفتے کے دوران جوکچھ ہوا وہ بہت سے بھائیوں کے سر سے گزر گیا اور اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ قوم کی نفسیات سے کھیلنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ محسن نقوی کا تعلق ہمارے پروفیشن سے تھا، جو اب بھی برقرار تو رکھاہوا ہے کہ ان کا اسم گرامی میڈیا پر موجود ہے تاہم ایک طاقتور اور بااثر وزیر کی حیثیت سے انہوں نے خصوصی تقریب میں خاص تقریر کرکے جو ہنگامہ برپا کیا تھا وہ اب ٹھنڈا ہو رہا ہے اور ہونے جا رہا ہے، محترم نے منگل کے روز اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے جو وضاحت کی ہے وہ بھی سروں پر ہی سے گزر گئی ہے، ان کی تازہ ترین گفتگو سے میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے لئے امتحان کا وقت شروع ہو چکا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بازی میں مات کسے ہوتی ہے۔ آصف علی زرداری کو یا ان کے حریف، حلیفوں کو؟ یہ اللہ ہی جانتا ہے اور جو میرے دل میں ہے لکھ نہیں سکتا۔