دورۂ انگلینڈ: اسکواڈ سے ڈراپ پاکستانی کرکٹر نے کنگ چارلس سے ملاقات سے انکار کردیا

لندن(دی ٹیلی گراف / رائٹرز) انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اسکواڈ سے ڈراپ کیے گئے پاکستانی کرکٹرز کو کنگ چارلس سوم سے کلیرنس ہاؤس میں ملاقات کے لیے شرکت کی ہدایت کی گئی، تاہم ایک کھلاڑی نے اپنے ساتھ کیے گئے سلوک کے خلاف احتجاجاً شاہی ملاقات میں شرکت سے انکار کردیا۔

برطانوی اخبار کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ کے خلاف مسلسل دو ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد دورۂ انگلینڈ کے اسکواڈ کے 7 کھلاڑیوں سمیت کوچنگ اسٹاف کے کئی ارکان کو فارغ کردیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق متبادل کھلاڑیوں کے برطانیہ نہ پہنچنے کے باعث پی سی بی کو خدشہ تھا کہ پہلے سے طے شدہ شاہی ملاقات میں بہت کم افراد کی شرکت سے پاکستان کیلئےشرمندگی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، اس لیے اسکواڈ سے نکالے گئے کھلاڑیوں کو بھی واضح طور پر بتایا گیا کہ ان کی کلیرنس ہاؤس میں موجودگی متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق اسکواڈ سے باہر کیے گئے کھلاڑی اس ملاقات میں شرکت کے خواہش مند نہیں تھے اور اس صورتحال کے باعث ٹیم کے اندر ماحول خاصا ناخوشگوار رہا۔انگلینڈ نے ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز سے شکست دینے کے بعد لارڈز ٹیسٹ میں بھی 194 رنز سے شکست دی۔ دونوں ٹیسٹ میچز کی چاروں اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ 200 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں ناکام رہی۔

شکستوں کے بعد پی سی بی نے ایجبسٹن میں 9 ستمبر سے شروع ہونے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ پانچ اَن کیپڈ کھلاڑیوں کو متبادل کے طور پر طلب کیا گیا، جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اس دوران اسکواڈ سے باہر کیے گئے 4 کھلاڑی علی عثمان، عامر جمال، خرم شہزاد اور محمد اویس ظفر کلیرنس ہاؤس پہنچے، حالانکہ انہوں نے اس سے قبل ملاقات میں شرکت نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔رپورٹ کے مطابق پانچویں کھلاڑی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے شاہی ملاقات میں شرکت سے صاف انکار کردیا اور اپنے ساتھ کیے گئے سلوک پر احتجاج کیا۔

کنگ چارلس سوم کے ساتھ ملاقات تقریباً 15 منٹ جاری رہی اور اسے دوستانہ قرار دیا گیا۔ بادشاہ نے مشکل دور سے گزرنے والی پاکستانی ٹیم کیلئے حوصلہ افزائی کے کلمات کہے۔پاکستانی کپتان بابر اعظم نے کنگ چارلس کو دستخط شدہ کرکٹ بیٹ پیش کیا، جبکہ چیئرمین پی سی بی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی تحفہ پیش کیا۔

محسن نقوی نے ملاقات کو مثبت اور خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کنگ چارلس نے پاکستان کی امن کیلئےخدمات اور کوششوں کو سراہا۔

دوسری جانب محسن نقوی کی موجودگی کے خلاف کلیرنس ہاؤس کے باہر احتجاج بھی کیا گیا۔ مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر ’’شرم کرو‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔

دورۂ انگلینڈ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم پہلے ہی کئی تنازعات کی زد میں ہے۔ لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستانی ٹیم کی انتظامیہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسکائی اسپورٹس نے سابق پاکستانی کپتان اور وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کا انٹرویو نشر کیا تو پاکستان کھانے کے وقفے کے بعد میدان میں واپس نہیں آئے گا۔

دونوں بھائیوں نے اپنے والد کے سکیورٹی انتظامات پر تنقید کی تھی اور ان کی قید کے معاملے پر برطانیہ کے ردعمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ عمران خان کرپشن کے الزامات میں گزشتہ تین برس سے جیل میں ہیں، تاہم وہ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور برطانوی دفتر خارجہ کے درمیان مشاورت کے بعد پاکستان نے بالآخر انٹرویو نشر ہونے کے باوجود کھانے کے وقفے کے بعد دوبارہ میدان سنبھالا۔

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پی سی بی نے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں اور سرفراز احمد کی برطرفی کے بعد نیوزی لینڈ کے مائیک ہیسن کو سیریز کے بقیہ حصے کی نگرانی کیلئے ذمہ داری سونپ دی گئی۔