زندگی جھیلتے غزہ کے بچے

’’یہ ہے وہ زندگی جو غزہ کے بچے بچیاں ہر روز جھیل رہے ہیں۔ دو بچے اسرائیلی فضائی حملے سے بچنے کیلئے بھاگ رہے ہیں۔ انکے پیچھے ایک شہید کی لاش پڑی ہے۔ پس منظر میں وہ خیمے جہاں بے گھر خاندان زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنے گھروں کے ملبے تلے دبے ہیں۔ ہم وہ ہیں جن کے گھروں میں دیواریں نہیں ہیں پھر بھی ہم دروازے پر دستک کا انتظار کرتے ہیں۔ شاید کوئی مہمان آ جائے‘‘۔12ستمبر 2026ء کو مصعب ابو طہ اس وقت مقبول فلسطینی شاعر کے یہ تاثرات ہیں۔ جس کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونیوالوں کی تعداد 73787تک پہنچ گئی ہے اس میں میرے اور میری بیوی کے 100سے زیادہ عزیز و اقارب بھی شامل ہیں ۔174387اہل غزہ زخمی ہیں۔ ہزاروں لوگ اب بھی ملبے تلے دبے کسی غیبی امداد کے منتظر ہیں۔

معلوم نہیں ہماری یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں ، دینی مدارس نے جائزہ لیا ہے کہ نہیں کہ اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس میں فلسطین کی حمایت کرنیوالے ممالک کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ جن میں غیر مسلم ممالک بھی پیش پیش ہیں۔ فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا نے فلسطینیوں کے حق میں پرجوش تقریریں کیں۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کے 193ارکان میں سے 142نے فلسطین کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس طرح یو این او کے 75فیصد ارکان فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ جیسے جیسے دنیا کی حمایت بڑھ رہی ہے اسرائیلی وزیراعظم کی وحشت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔غزہ اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوج کی درندگی شدت اختیار کر رہی ہے۔ آباد کاروں کو مظلوم فلسطینیوں پر تشدد کیلئے اکسایا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2026ءمیں آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں پر اوسطاً روزانہ چھ حملے ہوئے ہیں۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے۔ تبادلہ خیال کے لمحات۔انکے ذہنوں میں ہر روز ہی نئے نئے سوالات پیدا ہو رہے ہیں ملک میں بھی ایسے حالات ہیں جو انہیں بے چین کیے دیتے ہیں انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ ارباب حل و عقد دانشمندی سے کام کیوں نہیں لیتے۔مسائل کے حل کے بجائے سختی ہی کو واحد راستہ کیوں سمجھا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر خبروں تصویروں اور ویڈیوز کا طوفان امڈا ہوا ہے۔ایسے میں والدین کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے ہماری درخواست یہی ہوتی ہے کہ آپ ان حکمرانوں کی اصلاح تو نہیں کر سکتے جن کو عام پاکستانیوں کے جذبات کا، غموں کا کوئی احساس نہیں اور نہ ہی یہ تشویش ہے کہ یہ کروڑوں ہم وطن زندگی کیسے جھیلتے ہیں۔ اسلئے ہم سب کا فرض ہے کہ اپنے گھروں کو مستحکم کریں۔اپنے بچوں کوایسے بے حس حکمرانوں کے رویے اختیار نہ کرنے دیں۔اس کیساتھ ہی ہماری التجا یہ بھی ہوتی ہے کہ ہر اتوار کو نماز عصر کے بعد محلے والوں سے ملیں ۔ملک میں کوئی سسٹم نہیں ہے۔ہر پاکستانی گھرانہ کسی نہ کسی اقتصادی الجھن سے دوچار ہے۔روز مرہ کے انتظامی مسائل ہیں آزادی کے 80سال بعد بھی بنیادی مشکلات اسی طرح لاحق ہیں۔اسلئے ہم وطنوں کا ایک دوسرے سے ملنا بہت ضروری ہے ۔اپنے ہمسایوں سے حال احوال دریافت کریں بیمار ہیں تو تیمارداری کریں سرکاری دفتروں میں انکے ساتھ جا کر انکے معاملات درست کروائیں۔

فلسطین والے اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں مختلف ممالک کی طرف سے اپنے حق میں کی گئی تقریروں کو امید کی کرن تو سمجھ رہے ہیں۔ نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی تعداد قریباً 70 بتائی جا رہی ہے۔ ان ممالک کی آبادی اڑھائی ارب کے قریب ہے۔ جو دنیا کی کل آبادی کا 30 سے 35 فیصد ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ہال سے واک آؤٹ کرنے والوں کی آبادی ہال میں بیٹھے ممالک کی آبادی سے کہیں زیادہ ہے ۔یوں دنیا کے زیادہ لوگ فلسطین کے حق میں ہو چکے ہیں۔

فلسطین کے لوگوں اور خاص طور پر غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کا رد عمل ملا جلا ہے۔ عمومی طور پر تو خوشی ہے فلسطینی اتھارٹی کا سرکاری بیان بھی خوشگوار ہے۔ لیکن عام فلسطینیوں میں ابھی اضطراب ہے۔ ان کا تاثر یہ ہے کہ تسلیم کرنا اپنی جگہ مگر ٹی وی بند کرو تو باہر وہی چیک پوسٹیں، وہی اسرائیلی فوجی، وہی ظالم آباد کار۔ ٹی وی اسکرین پر اخبارات کے اوراق پر سب اچھا لیکن غزہ کے گلی کوچوں میں کچھ نہیں بدلا ۔غزہ میں ایک خاتون نے ایک جملے میں بہت کچھ کہہ دیا۔ ہمیں کوئی انسان بھی تو سمجھے۔

یاہو کی تقریر کے دوران اکثر ممالک کے واک آؤٹ کا اثر اسرائیل کے اندر بھی رائے عامہ پر واضح طور پر ہوا ہے۔ اسرائیل کے ٹی وی چینلوں نے اقوام متحدہ کے ہال کی خالی کرسیاں بار بار دکھائی ہیں۔ اسرائیل کے موقر اخبارHaartzنے نیتن یاہو کی تقریر کو بورنگ اور گھسا پٹا لکھا ہے ۔اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر نے کہا ہے کہ آج ہم نےایک تھکا ہوا اور رونے والا وزیراعظم دیکھا ۔عام تبصرہ یہ ہے کہ یہ تقریر اقوام متحدہ کے ارکان سے خطاب نہیں بلکہ اسرائیلی عوام سے انتخابی خطاب تھا۔کچھ دن بعد 27اکتوبر کو اسرائیل میں الیکشن ہونے والے ہیں ۔نیتن یاہو کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔ جائزوں کے مطابق یاہو کی پارٹی کی 49سے تقریباً 53 سیٹیں نظر آرہی ہیں جبکہ مخالف گروپ کی 66سے 69 سیٹیں بتائی جارہی ہیں۔ جبکہ حکومت سازی کیلئے 66سیٹیں درکار ہوں گی۔ اپوزیشن کے امیدوار آئیز نکوٹ کی مقبولیت 41 فیصد اور یاہو کی38فیصد آرہی ہے۔61فیصداسرائیلی کہتے ہیں نیتن یاہو کو الیکشن نہیں کرنا چاہئے۔

ادھر امریکی عوام کی رائے بھی اس اجلاس کے بعد تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔امریکی نوجوانوں میں فلسطین کی حمایت 63فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ نومبر میں امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات ہونا ہیں۔ 18سے 34سال کی عمر کے نوجوانوں میں اسرائیل کی حمایت صرف 13فیصد رہ گئی ہے45فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ہم اب ایسے امیدوار کو ووٹ نہیں دینگے جو اسرائیل کی فوجی امداد بڑھانے کے حق میں ہوگا۔ ڈیموکریٹک پارٹی میں 18فیصد اسرائیل کے ساتھ ہیں جب کہ فلسطین کے حق میں 59فیصد ہیں ریپبلکن پارٹی میں بھی دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو ٹرمپ امریکہ فرسٹ کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اسرائیل فرسٹ رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026ءکے مڈ ٹرم الیکشن میں فلسطین کمزور معیشت کے بعد دوسرا مسئلہ بن رہا ہے۔

فلسطینی عرب دنیا میں حرف و دانش کے سب سے بڑے دلدادہ ہیں 25ستمبر 2026ء کو بیروت میں محمود درویش کی یاد میں مشاعرہ ہوا فلسطین پر لازوال نظمیں سنائی گئیں۔ ہم پاکستانی تو اتنے پر امید نہیں ہیں کیونکہ ہم یہاں انتخابی نتائج اور جائزوں کی دھجیاں اڑتی دیکھ چکے ہیں۔ مگر مشرق وسطیٰ میں فیض صاحب کے اس مصرعے کا منظر نامہ نظر آرہا ہے…..
پیدا کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں