پاکستان کی تقریباً 40 فیصد آبادی غربت کی اس سطح پر آ چکی ہے،جہاں بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانا بھی مشکل ہو چکا ہے نتیجہ یہ ہے غریب اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لئے اپنے جسمانی اعضاء بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور اس میں سب سے آسان طریقہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی گردوں کی جوڑی میں سے ایک گردہ فروخت کرنا ہے، کیونکہ انسان ایک گردے پر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ گردوں کی ”فروخت کا کاروبار“ پاکستان میں نیا نہیں ہے یہ تقریباً 40 برسوں سے جاری ہے۔ گردوں کی اس ”غیر قانونی تجارت“ میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک بڑے نجی ہسپتال پہ چھاپہ مار کر ایک معروف یورولوجسٹ، ایک سرجن ڈاکٹر نادر اور دیگر سات افراد کو ”غیر قانونی گردہ تبدیلی کے عمل میں مصروف“ گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والے ڈاکٹر نادر کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ اب تک گردہ ٹرانسپلانٹ کے 187 آپریشن کر چکے ہیں اور ”گردے عطیہ“ کرنے والے تمام غریب لوگ ہیں، جن کے لئے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانا مشکل ہو چکا ہے اور وہی اپنے گردے بیچنے پہ راضی ہو جاتے ہیں۔ گردوں کی غیر قانونی تجارت میں ملوث ڈاکٹر نادر کو ”ذبح کرنے کے لئے انسان“ مہیا کرنے والے جلال پور بھٹیاں کے شبیر حسین اور میاں چنوں کے غلام عباس کو بھی پولیس نے گزشتہ ہفتے گرفتار کر لیا۔ پتہ چلا کہ یہ لوگ جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں سے بھٹہ مزدوروں، غریب دیہاڑی داروں اور اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کے لئے پریشان غریبوں کو سبز باغ دکھا کر اسلام آباد لے کر آتے تھے۔ جہاں ان کا گردہ نکالا جاتا تھا۔ ان لوگوں کو یہ کہا جاتا تھا کہ ایک گردے کے عوض آپ کو دو یا تین لاکھ ملیں گے اور آپ کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ گردے کو عطیہ دینے والے اِن غریبوں سے ”باقاعدہ لکھوایا“ جاتا تھا، ان کی ویڈیوز ریکارڈ کی جاتی تھیں، جس میں وہ یہ کہتے تھے کہ ہم ”اپنی مرضی سے اللہ کی رضا کے لئے“ اس بیمار شخص کو اپنا ”گردہ عطیہ“ دے رہے ہیں۔پاکستان میں گردوں کی خرید و فروخت قانونی طور پر جرم ہے۔ صرف قریبی عزیز ہی اپنے کسی بیمار عزیز کو ”گردہ عطیہ“ کر سکتے ہیں۔ غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے والے ڈاکٹروں، سہولت کاروں، ایجنٹوں کو لمبی قید اور کروڑوں کا جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ کاروبار اس لئے جاری ہے کہ ”کمائی“ بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں صرف قریبی رشتہ دار یا خاندان کا کوئی فرد ہی اپنا گردہ عطیہ کر سکتا ہے، لیکن ہمارے قانون سازوں نے ایک چور راستہ بھی رکھا ہوتا ہے لہٰذا ”راستہ مہیا“ کیا گیا ہے کہ ”اللہ کی رضا کے لئے کسی کو بھی گردہ مفت میں دے سکتے ہیں“۔
گردے ”فروخت کرنے کا یا عطیہ کرنے“ کا یہ طریقہ پاکستانیوں کے لئے تو ”چل سکتا“ ہے، لیکن عرب ممالک، ویسٹ انڈیز، چین اور دیگر ممالک کے امراء کو اللہ کے راستے میں عطیہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ (یہ کیسے غیر ملکی ہیں جن کو ”ہمارے غریب“ اللہ کے نام پہ گردہ عطیہ کر دیتے ہیں، جس کو آپ جانتے نہیں، جس سے آپ ملے نہیں، اس کو یہ عطیہ کس طرح اور کیسے ممکن ہے، لیکن غیر ملکی اور ملکی امراء کے لئے قانون میں عطیے کا راستہ رکھا گیا تھا،جو گردے بیچنے میں کام آتا ہے)۔ تین یا دو لاکھ میں گردہ خرید کرایک کروڑ میں فروخت کرکے دونوں ہاتھوں سے دولت بٹوری جا رہی ہے۔رواں سال پشاور میں ایک شخص شہزاد علی کو گرفتار کیا گیا جو ملتان سے دو افراد محسن اور راشد کو پونے تین لاکھ روپے میں گردے بیچنے کے لئے لیکر پشاور پہنچا تھا۔
گزشتہ سال لاہور میں پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی نے آزادی چوک کے ایک نجی ہسپتال پر چھاپہ مار کر غیر قانونی گردہ آپریشن کرنے والے ڈاکٹر اویس اور اس کے گروہ کو گرفتار کیا تھا۔ ڈاکٹر اویس پانچ سال سے یہ کام کر رہا تھا اور پولیس کے مطابق اشتہاری تھا۔ (اب یہ کیسا اشتہاری تھا جو گردوں کے ٓاپریشن کر رہا تھا اور پولیس اسے پکڑنے میں ناکام تھی)۔
چند سال پہلے بحریہ ٹاؤن پنڈی میں پولیس نے چھاپہ مار کر ایک پلازے سے 24 افراد کو برآمد کیا جن کو ملازمت کا جھانسہ دیکر لایا گیا تھا اور ان کے گردے نکالے جانے تھے۔
لاہور میں سابق وزیراعلیٰ محسن نقوی کے دور حکومت میں غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے والے دو بڑے گروپ گرفتار ہوئے، جس پر محسن نقوی نے خود پریس کانفرنس کی۔ ان دو گروہ میں ایک ڈاکٹر فواد مختار غیر ملکیوں کے گردے تبدیل کرنے کا کام کرتا تھا اور پہلے بھی پانچ دفعہ پکڑا جا چکا تھا۔ یہ غیر ملکیوں سے ایک کروڑ فی آپریشن لیتا تھا اور بقول محسن نقوی گردوں کے 328 غیر قانونی آپریشن کر چکا تھا۔ انہی آپریشنوں میں اس کے ہاتھوں گردے دینے والے تین غریب پاکستانی اللہ کو پیارے بھی ہو چکے تھے۔ اس گروہ کے بعد ڈی ایچ اے میں ایک فارم ہاؤس پہ چھاپہ مار کر غیر قانونی کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر پکڑا گیا۔ جہاں سے دو سعودی باشندے بھی ملے جن کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ آپریشن کروا چکے ہیں۔ انہیں سروسز ہسپتال پہنچایا گیا جہاں سے انہیں باعزت طور پر ان کے گھر واپس بھیج دیا گیا۔ (شاید ہمارا قانون ان پہ لاگو نہیں ہوتا کیونکہ انہوں نے تو پیسے دے کے گردہ خریدا تھا)۔ ڈی ایچ اے کے اس غیر قانونی سینٹر کو چلانے والے ڈاکٹر طارق، ڈاکٹر راشد اور ڈاکٹر ثاقب تینوں فرار ہو گئے۔ یہ تمام ڈاکٹر ریکارڈ یافتہ تھے، مگر آزاد پھرتے تھے۔ اس گروہ کا ایک کلینک یکی گیٹ میں تھا۔ کلینک میں پیٹ درد کے مریضوں کو یہ کہہ کر کہ آپ کا اپنڈکس کا اپریشن کرنا ہے گردہ نکال کر 15دن زیر علاج رکھ کر گھر بھیج دیا جاتا تھا۔
شیخوپورہ میں ایک کلینک پر چھاپہ مارا گیا تو ”آپریشن“ جاری تھا۔ مریض کو سرکاری ہسپتال لیجایا گیا تو اس کا گردہ نکالا جا چکا تھا۔ لاہور کے 15سالہ ایاز خان کو پنڈی لیجا کر گردہ نکال لیا گیا۔ پولیس نے ایاز کو تو ڈھونڈ نکالا۔ چھ ملزم پکڑ لئے مگر ”ڈاکٹر“ گرفتار نہیں ہوا۔
معروف اداکار عمر شریف کی صاحبزادی حرا کے حوالے سے بھی یہ سننے میں آیا تھا کہ گردہ تبدیلی کے آپریشن میں انتقال کر گئی۔ اسے انفیکشن زدہ گردہ لگایا گیا تھا اور وہ ڈاکٹر بھی فرار ہو گیا۔ یہ ڈاکٹر اس سے پہلے بھی غیر قانونی گردہ آپریشن کے جرم میں 18 ماہ کی جیل کاٹ چکا تھا لیکن اس کا کاروبار جاری تھا۔ جب غربت بہت ہو اور گردے بیچنے والے ڈھیروں تو پھر ”قصائیوں کو بکرا ذبح کرنے کے لئے“ مل ہی جاتا ہے۔ یہ ہماری حکومتوں کے سوچنے کا کام ہے کہ یہ ”گردہ منڈی“ کب تک لگی رہے گی کبھی بند بھی ہو گی یا نہیں۔

