سرے: کرکٹ کینیڈا کے نومنتخب صدر اروِندر کھوسہ کے گھر پر فائرنگ

سرے، برٹش کولمبیا (ففتھ اسٹیٹ، سی بی سی)کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں کرکٹ کینیڈا کے نومنتخب صدر اروِندر کھوسہ کے گھر پر بدھ کی صبح فائرنگ کی گئی، تاہم واقعے میں جانی نقصان نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق نیوٹن علاقے میں واقع گھر پر متعدد گولیاں چلائی گئیں جبکہ گھر کے دروازے، کھڑکیوں اور بیرونی دیوار پر کم از کم پانچ گولیوں کے نشانات دیکھے گئے۔پولیس کے مطابق واقعے کے وقت گھر میں لوگ موجود تھے۔ پولیس کو صبح تقریباً 4 بج کر 40 منٹ پر اطلاع ملی، جس کے بعد اہلکار موقع پر پہنچے۔

سرے پولیس کے ترجمان سارجنٹ علی گیلس نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ بھتہ خوری سے متعلق معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گھر سے منسلک ایک فرد کو اس سے قبل بھتہ خوری کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔

کرکٹ کینیڈا گزشتہ ماہ نشر ہونے والی”ففتھ اسٹیٹ” کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سے تنازعات کی زد میں ہے، جس میں تنظیم کے بعض اہم عہدیداروں پر بدعنوانی، منظم جرائم سے تعلق اور میچ فکسنگ کی کوششوں کے الزامات سامنے آئے تھے، تاہم متعلقہ افراد نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ اروِندر کھوسہ کا تعلق ایسے مقامی کھلاڑیوں سے رہا جو خود کو بشنوئی گینگ کا رکن بتاتے تھے اور جن پر 2025 میں قومی ٹیم کے ایک کھلاڑی کو دھمکانے کا الزام تھا۔ کھوسہ اس سے قبل ان دعوؤں کی تردید کر چکے ہیں۔

اروِندر کھوسہ کو 9 مئی کو مسی ساگا میں ہونیوالے سالانہ اجلاس کے دوران کرکٹ کینیڈا کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ وہ اس سے قبل عبوری صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس انہوں نے صوبائی کرکٹ تنظیموں کیساتھ مل کر قومی قیادت کیخلاف برٹش کولمبیا کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مالی بے ضابطگیوں سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔

ادھر رنجیت چودھری نے کہا کہ بورڈ نے کھوسہ سے تمام الزامات کے بارے میں سوالات کیے تھے اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پولیس نے کبھی ان سے پوچھ گچھ نہیں کی۔یہ پہلا موقع نہیں کہ کرکٹ کینیڈا کے کسی اعلیٰ عہدیدار کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل فروری اور مارچ میں کیلگری میں ایک سابق بورڈ رکن کے گھر پر دو مرتبہ فائرنگ ہوئی تھی۔

ان واقعات کے سلسلے میں تین افراد پر مقدمات قائم کیے گئے، جبکہ ایک ملزم اب بھی مفرور بتایا جاتا ہے۔

سابق بورڈ رکن نے اپنی اور خاندان کی حفاظت کے پیشِ نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ حملے ان کے کرکٹ کینیڈا میں کردار اور معاہدوں سے متعلق معاملات سے جڑے ہوئے تھے۔پولیس نے تاحال سرے اور کیلگری فائرنگ واقعات کے درمیان کسی تعلق کی تصدیق نہیں کی۔