اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) سپریم کورٹ نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے شہزاد مسیح اور ان کی حاملہ اہلیہ شمع بی بی کو اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلانے کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے تین ملزمان عرفان، مہدی اور ریاض کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں 102 ملزمان کی بریت کیخلاف پنجاب حکومت کی درخواست بھی مسترد کر دی ۔یہ افسوسناک واقعہ 4 نومبر 2014 کو کوٹ رادھا کشن میں پیش آیا تھا، جب توہینِ مذہب کے الزام پر مشتعل ہجوم نے شہزاد مسیح اور ان کی حاملہ اہلیہ شمع بی بی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا دیا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے سیکڑوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مقدمے میں پانچ ملزمان کو سزائے موت جبکہ دیگر ملزمان کو مختلف سزائیں سنائی تھیں۔
بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے پانچ میں سے دو ملزمان کو بری کر دیا تھا، جبکہ تین ملزمان کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔ اب سپریم کورٹ نے تینوں ملزمان کو بھی بری کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کر دی۔

