سیریل جنسی مجرم دو خواتین کے قتل اور تیسری سے زیادتی کا مجرم قرار

لندن(بی بی سی) برطانوی دارالحکومت لندن میں پولیس کی نگرانی میں رہنے والے سیریل جنسی مجرم سائمن لیوی کو 2 خواتین کے قتل اور ایک خاتون سے زیادتی کا مجرم قرار دے دیا گیا۔40 سالہ سائمن لیوی نے مارچ 2025 میں 53 سالہ کارمینزا ویلنشیا ٹروخیلو کو قتل کیا، جبکہ 5 ماہ بعد 39 سالہ شیریل ولکنز کو قتل کردیا۔

سائمن لیوی نے جنوری 2025 میں، یعنی دونوں قتل سے قبل، تیسری خاتون کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعہ ٹوٹنہم کے اسی کار پارک میں پیش آیا تھا جہاں بعد میں شیریل ولکنز کی لاش ملی۔

اولڈ بیلی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری کو بتایا گیا کہ سائمن لیوی کے خلاف خواتین پر حملوں کے حوالے سے جولائی 2018 سے متعدد مقدمات میں سزائیں ہوچکی تھیں، جن میں 2022 میں ایک جیل افسر پر جنسی حملہ بھی شامل تھا۔

عدالت میں سائمن لیوی نے اپنے دفاع میں بیان دینے سے انکار کیا۔ اس نے دونوں قتل، زیادتی کے 2 الزامات، سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت اور زندہ بچ جانے والی خاتون کا گلا دبانے کے الزامات سے انکار کیا تھا۔جیوری نے 13 گھنٹے غور و خوض کے بعد تمام الزامات میں اسے مجرم قرار دے دیا۔

فیصلہ سنائے جانے کے وقت مقتول خواتین کے اہل خانہ عدالت میں رو پڑے، جبکہ ملزم نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ جج مارک لوکرافٹ نے سزا سنانے کی کارروائی 12 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے سائمن لیوی کو حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔

“پولیس اور پراسیکیوشن کی ناکامیوں کا اعتراف”
میٹروپولیٹن پولیس، برٹش ٹرانسپورٹ پولیس اور کراؤن پراسیکیوشن سروس نے سائمن لیوی سے نمٹنے کے طریقہ کار میں ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے۔ وہ اس وقت ضمانت پر تھا جب اس کے خواتین پر حملے بڑھتے بڑھتے 2 قتل تک پہنچ گئے۔

لندن کی وکٹمز کمشنر اینڈریا سائمن نے کہا کہ ایک خطرناک مجرم سے نمٹنے میں ہونے والی ناکامیوں کی طویل فہرست انتہائی تشویشناک ہے۔برطانوی وزیرِ جرائم و پولیسنگ سارہ جونز نے بھی کہا کہ پولیس اور عدالتوں سے رہائی کے بعد سائمن لیوی کو اس قدر سنگین نقصان پہنچانے کا موقع ملنا انتہائی تشویشناک ہے اور اس معاملے میں فوری طور پر جوابات درکار ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس نے اعتراف کیا کہ اگر سائمن لیوی سے نمٹنے کے دوران متعدد ناکامیاں نہ ہوتیں تو شیریل ولکنز کی موت روکی جاسکتی تھی۔پولیس نے کارمینزا ویلنشیا ٹروخیلو کی موت کو قتل کے طور پر تسلیم کرنے میں بھی تاخیر کی، حالانکہ سائمن لیوی کو اس واقعے کے فوراً بعد گرفتار کیا گیا تھا اور اس کا ڈی این اے مقتولہ کے جسم سے ملا تھا۔

“جنسی حملوں کے مقدمات”
سائمن لیوی کو رواں سال فروری میں لندن کی زیرِ زمین ٹرینوں اور ریل گاڑیوں میں 10 خواتین جبکہ برکسلٹن جیل کی ایک خاتون افسر کو جنسی حملوں کا مجرم بھی قرار دیا جاچکا ہے۔اس سے قبل اسے 2018 میں 2 خواتین پر جنسی حملوں کے مقدمات میں سزا ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق لیوی نے زیرِ زمین ٹرینوں میں خواتین کو نشانہ بنانے کیلئے مخصوص طریقہ اختیار کیا۔ وہ سویٹر یا ہُڈی کمر کے گرد باندھ لیتا، اپنے ایک بازو کو جسم کے ساتھ دبا لیتا اور بھیڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین سے جسمانی زیادتی کرتا تھا۔اسے ان 11 جنسی حملوں کے جرم میں 6 سال قید اور 3 سال نگرانی پر مشتمل توسیعی سزا بھی سنائی جاچکی ہے۔

“پولیس افسران بھی زیرِ تفتیش”
لیوی کو اگست 2024 میں زیادہ خطرے والے جنسی مجرم کی درجہ بندی سے کم خطرے والے درجے میں منتقل کرنے کے فیصلے پر 2 میٹ پولیس افسران بھی آزاد دفتر برائے پولیس طرزِ عمل کی تحقیقات کی زد میں ہیں۔

ایک پولیس کانسٹیبل کو سنگین بدسلوکی کا نوٹس جبکہ ایک ڈیٹیکٹو سارجنٹ کو بدسلوکی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔آزاد دفتر برائے پولیس طرزِ عمل کا کہنا ہے کہ وہ ستمبر 2021 میں لیوی کی پہلی سزا سے لے کر ستمبر 2025 میں اس کی گرفتاری تک اس کے ساتھ کیے گئے سلوک کا جائزہ لے رہا ہے۔

برٹش ٹرانسپورٹ پولیس نے بھی کہا ہے کہ کیس سے نمٹنے میں نااہلی کے باعث اس کے 2 افسران کو دیگر ذمہ داریوں پر منتقل کردیا گیا ہے۔کراؤن پراسیکیوشن سروس نے بھی اعتراف کیا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر لیوی کی ضمانت سے متعلق اعتراضات پر زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔

پراسیکیوشن سروس کی چیف کراؤن پراسیکیوٹر لیزا رامسران نے کہا کہ ادارے کی کارروائیاں ان معیارات پر پوری نہیں اتریں جن کی متاثرین، اہل خانہ اور عوام توقع رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوا جو پہنچنے والے نقصان کو ختم کرسکے، تاہم امید ہے کہ ان مقدمات میں سزائیں متاثرین اور ان کے خاندانوں کو کسی حد تک انصاف فراہم کریں گی۔