وفاقی اور صوبائی افسروں کی تقرریوں اور تعیناتیوں کےلئے کبھی فارمولے اورکبھی کوئی قرارداد ، عدالتوں کے احکامات پر میری ، تیری پوسٹیںاور بانٹ ،چھانٹ ،اس طرح ہم انتظامی سسٹم کو کتنی دیر تک چلائیں گے؟ ہم کیسے لوگ اور قانون ساز ہیں،اس کا کوئی ایک مستقل حل ہی نہیں دے سکے، گزرے وقتوں میں ہونے والے برہمن اور شودر جیسے فرق کوآج انتظامی سروسز میں بھی ڈال دیا گیا ہے تو حقوق اورمساوات کے اس دور میں آوازیں تو اٹھیں گی ، خدا کے لئے اب بس کر دیں ،اگر کسی بڑے کو منصف مان کر اس پر انصاف چھوڑ دیا جائے تو اسے انصاف کرنا چاہیے ،ایسا انصاف جو نظر آئے ، انتظامی معاملات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آ سکا کہ بیوروکریسی میں اس تفرقہ بازی کا ذمہ دار کون اور کیوں ہے؟ آئین کے مطابق صوبوں کے معاملات اگر صوبوں کے عوام نے ہی اپنے منتخب نمایندوں کے ذریعے چلانے ہیں تو انہیں کیوں نہیں چلانے دیے جا رہے،انہیں اپنے معاملات سلجھانے ،اپنے حقوق حاصل کرنے سے کیوں روکا جاتا ہے ؟
بیوروکریسی کسی بھی ملک کے نظام میں حکومت کا چہرہ ہوتی ہے،سرکاری مشینری کا ہر، کل پرزہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے،درجہ بدرجہ کام ہونے سے ہر کام میں معقولیت آتی ہے اور گڑبڑ کے امکانات کم سے کم ہوتے چلے جاتے ہیں،اگر کہا جائےکہ ملکی آئین اور حکومت کی وضع کردہ پالیسیوں کے تحت سرکاری امور کی انجام دہی بیوروکریسی کافرض منصبی اور آئینی تقاضا ہے تو غلط نہ ہو گا، بد قسمتی سے پاکستان ماضی میں برطانوی کالونی رہا اور اب بھی کالونیل نظام ہی کے زیر اثر اور وفاق کا مرہون منت ہے جسکی وجہ سے ملک اور صوبوں میں بیوروکریسی بٹی ہوئی ہے ،وفاقی بیوروکریسی اور صوبائی بیوروکریسی جو پی اے ایس ( پاکستان یڈمنسٹریٹو سروس) اور پی ایم ایس(پروونشل مینجمنٹ سروس) کہلاتی ہے ،مگر یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ ملک میں وفاقی سروس ،خصوصی طور پر پی اے ایس کا راج ہے ،تمام پالیسیاں وہی بناتےہیں اور عمل درآمد بھی وہی کراتے ہیں،پی ایم ایس افسران کو اپنے اپنے صوبوں کی پوسٹوں پر تعیناتی کےلئے پورا حصہ نہیں مل رہا جس کی وجہ سے اس کے اکثر ارکان دوسرے درجے کے شہری یا افسر کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں،میری نظر میں اس وقت جہاں وفاقی سروس والوں کی کچھ زیادتیاں ہیں و ہاں صوبائی سروس کی ٹریننگ اور ان کے دوسرے معاملات کا بھی قصور ہے،وفاقی اور صوبائی افسران کی ٹریننگ کا معیار اور اس کا دورانیہ الگ الگ کیوں ہے؟ وفاقی سروس کا ایک اسسٹنٹ کمشنر تعیناتی سے پہلے اڑہائی سال کی بہترین ٹریننگ لیتا ہے جبکہ صوبائی سروس کا ایک اسسٹنٹ کمشنر صرف آٹھ ماہ میں یہ اعلیٰ معیار کیوںکر حاصل کر سکتا ہے؟ اس کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے پی ایم ایس افسر ،پی اے ایس افسروں سے زیادہ اچھا پرفارم کر رہے ہیں ۔
صوبائی افسروں کے خدشات تحفظات اور مطالبات کی روشنی میں نظام کا سرسری جائزہ لینا بھی ضروری ہے ورنہ ریاست کا تیسرا مگر اہم ستون ،انتظامیہ اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں مشکلات کا شکار رہے گا اور حکومت ڈیلیور نہیں کر سکے گی،جب تک اس بنیادی تضاد کا حل نہیں نکالا جا تا ریاست کمزور رہے گی،گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوںکی بیوروکریسی کی خواہش ہے کہ وہ تمام رولز جو قانون سازی کے بغیر وجود میں آئے ان کو تحلیل کر کے قانون سازی کے ذریعےصوبائی بیورو کریسی کو تحفظ دیا جائے،ورنہ سٹیٹس کو مزید مضبو ط ہو جائے گا او ر کسی بھی تبدیلی کا خواب آنکھوں میں ہی دم توڑ دے گا۔ ۔وفاقی بیوروکریسی ٹھنڈے دماغ سے سوچے صوبائی سروس انکی دشمن نہیں ،انہی کی طرح مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہوکر آنے والے یہ افسران بھی ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، سوچنا ہوگا کہ پنجاب میں اہم محکموں کے سیکرٹری ،لاہور کے کمشنرو ڈی سی جیسی بے شمار پوسٹیں صوبائی افسروں کے لئے شجر ممنوعہ کیوں ہیں جبکہ ریگولیشن اورزکوٰت جیسے محکموں میں وفاقی افسر کیوں نہیں لگ سکتے؟
چند روز قبل پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن کی ایڈوائزری کونسل کا ایک اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس سے پی ایم ایس افسروں طارق محمود اعوان، رائے منظور ناصر، ظفر حسین نقوی نے خطاب کیا جبکہ ایسوسی ایشن کے صدر قمر زمان قیصرانی نے پنجاب میں گورننس سے متعلق مسائل اور اپنی سروس کے خدشات بارے بات کی ،انہوں نے کہا کہ صوبائی سروس کے افسر پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے انتہائی شفاف، میرٹ پر مبنی مسابقتی امتحان کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں اپنے کیریئر میں مسلسل ناانصافی اور امتیازی رویے کا سامنا ہے جس سے ان میں شدید احساسِ محرومی اور بددلی پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پروموشن بورڈز بروقت منعقد نہ ہونے اور محدود آسامیوں کی وجہ سے PMS افسران کی ترقی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہے، اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں اور تبادلوں میں PAS افسروں کو غیر متناسب ترجیح دی جاتی ہے جبکہ PMS افسروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے،اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کا طرزِ عمل PMS افسروں کے حوالے سے جانبدارانہ محسوس ہوتا ہے، جس سے سروس کے مورال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں،چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا عہدہ وفاقی پلاننگ کمیشن کی طرز پر ایک منتخب عوامی نمائندے کے سپرد کیا جائے اور افسروں کے پروموشن بورڈز سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے بجائے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منعقد کیے جائیں ۔
صوبائی سروس کے خدشات ،اجلاس اور گلے شکوے اپنی جگہ درست ،مگر لگتا نہیں یہ معاملات ایسے حل ہوں گے ،جیسے صوبائی افسر چاہ رہے ہیں ، دوسری طرف وفاقی سروس بھی صوبائی سروس کے بغیر زیرو ہے ، صوبائی اور وفاقی سروس کے سنجیدہ لوگوں کو محاذ آرائی کی بجائے مزاکرات کے ذریعے اس کا کوئی بہتر حل نکالنا ہو گا،پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے تعلق رکھنے والے گریڈ بائیس کے زاہد زمان اچھے افسر مگر اس سے بھی اچھے چیف سیکرٹری ثابت ہوئے ہیں، پچھلے ساڑھے تین سال سے وہ پنجاب کو بڑی محنت،جانفشانی اور لگن سے چلا رہے ہیں،دو بالکل نئے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ کام کرنا ،بیوروکریسی کو سیاست سے دور رکھنا اور میرٹ پر اچھے افسر لگانا کوئی آسان کام نہیں تھا مگر انہوں نے یہ کر کے دکھایا ،ہاں اس دوران صوبائی افسروں کی طرف سے مختلف معاملات پر تحفظات کا ضرور اظہار کیا گیا ،ان افسروں کا گلہ ہے کہ ان کے ساتھ برابر کا سلوک نہیں ہو رہا،پی اے ایس سے تعلق رکھنے والے افسر چیف سیکرٹری کے لئے سگے اور پی ایم ایس والے سوتیلے کیوں ہیں؟ میرے ذاتی خیال میں صوبائی سروس کے افسروں میں بھی ہیرے موجود ہیں اور انہوں نے اپنے کام سے ثابت کیا ہے کہ وہ ہر پوسٹ کے لئے اہل ہیں ،خود چیف سیکرٹری ،پنجاب کے اکثر صوبائی افسروں کی محنت اور لگن کے اسی طرح معترف ہیں جس طرح وہ بہت سے وفاقی افسروں کی لیاقت کے قائل ہیں،اگر وہ بعض صوبائی افسروں کے کام سے مطمعن نہیں تو اسی طرح بہت سارے وفاقی افسر بھی انکی گڈ بکس میں نہیں ہیں،بہتر ہو گا چیف سیکرٹری بڑے بن کر سب کی سن کر کوئی حل نکال ہی لیں۔

