عدلیہ، احتساب اور وہ سچ جو سامنے نہ آ سکا

آڈیو لیکس کمیشن پاکستان کے عدالتی نظام میں مبینہ مداخلت سے متعلق سنگین سوالات کی حقیقت جاننے کیلئے قائم کیا گیا تھا، مگر جلد ہی وہ خود ایک بڑے آئینی تنازعے کا مرکز بن گیا۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا ان الزامات کی کبھی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہو بھی سکتی ہیں یا نہیں۔

ہر آئینی جمہوریت کو بالآخر اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جب سنگین الزامات کا تعلق خود نظامِ انصاف سے ہو تو احتساب کون یقینی بنائے گا؟ اس کا جواب نہ سیاسی مصلحت ہو سکتا ہے اور نہ ادارہ جاتی خاموشی۔ قانون کی حکمرانی کے لیے عدلیہ کی آزادی ناگزیر ہے، لیکن اس آزادی پر عوامی اعتماد اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب سنگین الزامات کی منصفانہ جانچ کے لیے معتبر اور غیر جانب دار طریقۂ کار موجود ہوں۔

عدالتی آزادی اور احتساب باہم متصادم آئینی اقدار نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے اصول ہیں۔ ایک ججوں کو ناجائز دباؤ اور مداخلت سے محفوظ رکھتا ہے، جبکہ دوسرا عدالتی ادارے کی دیانت اور ساکھ پر عوامی اعتماد قائم رکھتا ہے۔

2023ء کے آڈیو لیکس کمیشن نے اسی آئینی کشمکش کو پوری شدت سے نمایاں کر دیا۔ تنازعے کا آغاز ان مبینہ ٹیلی فون گفتگوؤں سے ہوا جن میں اعلیٰ عدلیہ کے بعض ارکان، وکلا، سیاست دانوں اور عدالتی مقدمات سے وابستہ افراد کے نام سامنے آئے۔ تاہم معاملہ جلد ہی ریکارڈنگز کی صداقت سے کہیں آگے بڑھ گیا۔

یہ جانچنے کے بجائے کہ ان آڈیوز سے پیدا ہونے والے الزامات درست تھے یا بے بنیاد، آئینی بحث اس سوال کے گرد گھومنے لگی کہ آیا خود کمیشن کو ان کی تحقیقات کا قانونی اختیار حاصل تھا یا نہیں۔ یوں حقیقت معلوم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ادارہ خود مقدمہ بازی کی زد میں آ گیا، جبکہ جس حقیقت کی دریافت اس کا مقصد تھا، وہ غیر تحقیق شدہ رہ گئی۔

19 مئی 2023ء کو وفاقی حکومت نے پاکستان کمیشنز آف انکوائری ایکٹ 2017ء کے تحت یہ کمیشن قائم کیا۔ سپریم کورٹ کے اس وقت کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اس کا سربراہ مقرر کیا گیا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان کو اس کا رکن بنایا گیا۔

کمیشن کو یہ معلوم کرنے کی ذمہ داری دی گئی کہ لیک ہونیوالی ریکارڈنگز اصلی اور درست تھیں، ان میں ردوبدل کیا گیا تھا یا وہ مکمل طور پر جعلی تھیں۔ اسے یہ بھی دیکھنا تھا کہ آیا ان گفتگوؤں سے عدالتی عمل کی دیانت، عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق یا شہریوں کی مساوات کو متاثر کرنے والی کسی خلاف ورزی کا پتا چلتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ذمہ دار افراد کی نشان دہی اور قانونی یا تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کمیشن کے دائرۂ اختیار میں شامل تھی۔

وفاقی حکومت کے مطابق ان ریکارڈنگز نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی آزادی، غیر جانب داری اور دیانت کے بارے میں سنجیدہ خدشات پیدا کیے تھے، جس سے عدلیہ پر عوامی اعتماد متاثر ہو رہا تھا۔ بعض گفتگوؤں کے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ ان کا تعلق عدالتی بنچوں کی تشکیل، مقدمات پر اثرانداز ہونے کی کوششوں، ممکنہ عدالتی فیصلوں سے متعلق توقعات اور عدالتی روابط کے سیاسی استعمال سے تھا۔

یہ الزامات درست تھے یا غلط، یہی وہ بنیادی سوال تھا جس کا جواب تلاش کرنے کے لیے کمیشن قائم کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں کمیشن نے کھلی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس نے اس اصول پر زور دیا کہ عدلیہ کی ساکھ کو متاثر کرنے والے الزامات کو قیاس آرائیوں، منتخب آڈیو لیکس یا سیاسی بیانیوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے ایک شفاف قانونی عمل کے ذریعے جانچا جانا چاہیے۔ جب کسی ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھے تو اسے ناخوش گوار حقائق کا سامنا کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔تاہم یہ عمل زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔

کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن سپریم کورٹ میں مختلف درخواستوں کے ذریعے چیلنج کر دیا گیا۔ درخواست گزاروں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدے دار اور دیگر افراد شامل تھے۔ اگرچہ ان درخواستوں میں باضابطہ طور پر کمیشن کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا، لیکن ان کا فوری عملی نتیجہ یہ نکلا کہ کمیشن وہ تحقیقات نہ کر سکا جس کے لیے اسے قائم کیا گیا تھا۔

26 مئی 2023ء کو اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے حکومت کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور کمیشن کی کارروائی روک دی۔ عدالت نے اسے محض ایک اہم عوامی معاملے کی تحقیقات کی کوشش کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ عدلیہ کے داخلی امور میں انتظامیہ کی ممکنہ مداخلت قرار دیا۔

عدالت کے استدلال کے مطابق اگر انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ حاضر سروس ججوں کو منتخب کرکے دوسرے ججوں یا سپریم کورٹ کے داخلی معاملات کی تحقیقات ان کے سپرد کر دے تو اس سے عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

درخواست گزاروں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا، اور بنچ کے ارکان نے بھی اس جانب اشارہ کیا، کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے متعلق ایسے الزامات جو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتے ہوں، آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، نہ کہ انتظامیہ کے مقرر کردہ کسی کمیشن کے۔ انہی تحفظات کی بنیاد پر کمیشن کی کارروائی روک دی گئی۔لیکن اسی مقدمے نے ایک اور اتنا ہی اہم آئینی سوال پیدا کر دیا۔

کمیشن کی کارروائی معطل ہونے کے بعد ریکارڈنگز کی صداقت اور ان سے پیدا ہونے والے الزامات کی حقیقت جانچنے کیلئے کوئی متبادل، آزاد اور غیر جانب دار عمل قائم نہیں کیا گیا۔ کمیشن کی قانونی حیثیت کا سوال تو عدالت کے سامنے آ گیا، مگر وہ حقائق جن کی وجہ سے کمیشن قائم ہوا تھا، بدستور بے جواب رہے۔

یہ گفتگوئیں کس نے ریکارڈ کیں؟ انہیں کس قانونی اختیار کے تحت ریکارڈ کیا گیا؟ انہیں لیک کس نے کیا؟ کیا یہ ریکارڈنگز اصلی تھیں، ان میں ردوبدل کیا گیا تھا یا وہ جعلی تھیں؟ اگر وہ اصلی تھیں تو کیا ان سے عدالتی کارروائیوں پر ناجائز اثرانداز ہونے کی کوشش ظاہر ہوتی تھی؟ یا یہ ریکارڈنگز خود عدلیہ کو بدنام کرنے کیلئےچلائی گئی کسی سیاسی مہم کا حصہ تھیں؟ان میں سے کسی سوال کی آزادانہ تحقیقات نہ ہو سکیں۔

اسی لیے اس مقدمے کی آئینی اہمیت صرف کمیشن کی قانونی حیثیت تک محدود نہیں۔ قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہو سکتی ہے کہ آیا انتظامیہ کو ایسا کمیشن قائم کرنے کا آئینی اختیار حاصل تھا یا نہیں۔ زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب کمیشن کو کام سے روک دیا گیا تو ان الزامات کی تحقیقات کے لیے کون سا قابلِ اعتماد آئینی طریقۂ کار باقی رہ گیا تھا۔

اگر ایک ادارہ آئینی طور پر عدلیہ سے متعلق الزامات کی تحقیقات نہیں کر سکتا تو کسی دوسرے آزاد اور معتبر ادارے کو یہ ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ بصورتِ دیگر عوامی اعتماد پر اثرانداز ہونے والے سنجیدہ سوالات ہمیشہ کے لیے غیر جانب دارانہ چھان بین سے باہر رہ سکتے ہیں۔

یہ صورتِ حال اس لیے بھی اہم ہے کہ عدالتیں اپنا اختیار صرف آئینی دفعات سے حاصل نہیں کرتیں؛ عوامی اعتماد بھی ان کی قوت کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ شہری متنازع عدالتی فیصلوں کو بھی زیادہ آسانی سے قبول کرتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ انصاف فراہم کرنے والا ادارہ اپنے خلاف سامنے آنے والے معتبر الزامات کا منصفانہ جائزہ لینے کے لیے تیار ہے۔

اس کے برعکس، جب الزامات صرف اسلئے بے نتیجہ رہ جائیں کہ ان کی سچائی یا جھوٹ جانچنے کیلئےکوئی آزاد عمل موجود نہیں، تو شبہات ناگزیر طور پر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں، خواہ ان الزامات میں آخرکار کوئی حقیقت ہو یا نہ ہو۔

اس سے پہلے کہ ان سوالات کا کوئی حتمی جواب سامنے آتا، حالات مقدمے سے آگے نکل گئے۔ 2025ء میں سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستیں اس بنیاد پر نمٹا دیں کہ کمیشن عملاً ختم ہو چکا تھا اور اس لیے مقدمہ غیر مؤثر ہو گیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریٹائر ہو چکے تھے، جبکہ باقی دونوں ارکان سپریم کورٹ کے جج بن چکے تھے۔قانونی طور پر تنازعہ ختم ہو گیا، مگر آئینی طور پر بنیادی سوالات بدستور قائم رہے۔

اس معاملے کا سبق صرف اسی تنازعے تک محدود نہیں۔ کوئی آئینی جمہوریت خفیہ نگرانی، منتخب آڈیو لیکس یا سیاسی جوڑ توڑ کو ججوں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بننے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اسی طرح محض اس بنیاد پر معتبر الزامات کی تحقیقات سے گریز بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا تعلق خود عدلیہ سے ہے۔

نجی زندگی کا تحفظ، عدلیہ کی آزادی اور بامعنی احتساب ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔ ایک پختہ آئینی نظام کو ان تینوں اصولوں کا بیک وقت تحفظ کرنا چاہیے۔

کمیشن کی کارروائی معطل کرنے کے لیے عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کو بنیادی جواز بنایا گیا۔ اس نتیجے سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، اس کا عملی اثر واضح تھا: ریکارڈنگز سے پیدا ہونے والے الزامات کبھی آزادانہ طور پر جانچے نہ جا سکے اور نہ ہی ان کی تحقیقات کے لیے کوئی متبادل نظام قائم کیا گیا۔

اس مقدمے کی دیرپا اہمیت صرف کمیشن کی قانونی حیثیت میں نہیں، بلکہ اس آئینی خلا میں ہے جسے اس کی معطلی نے بے نقاب کیا۔ پاکستان کا قانونی نظام ایسا قابلِ اعتماد طریقۂ کار فراہم کرنے میں ناکام رہا جس کے ذریعے نظامِ انصاف سے متعلق سنگین الزامات کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جا سکتیں۔

اگر یہ تحقیقات آگے بڑھتیں تو ممکن تھا کہ حقیقت اور الزام میں فرق واضح ہو جاتا، ذمہ داری کا تعین ہو جاتا اور مستقبل میں ایسے تنازعات کی روک تھام کے لیے کوئی راستہ نکلتا۔ مگر قانونی مقدمہ ختم ہو گیا اور بنیادی سوالات جواب طلب رہے۔

قانون کی حکمرانی کے لیے عدلیہ کی آزادی ناگزیر ہے، مگر اس آزادی کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ عدلیہ ہر طرح کی جانچ سے بالاتر ہو۔ اس کی آئینی اور اخلاقی حیثیت اسی عوامی اعتماد پر قائم رہتی ہے کہ معتبر الزامات کا منصفانہ، آزادانہ اور بلاخوف و رعایت جائزہ لیا جائے گا۔

حقیقت عدلیہ کی آزادی کی دشمن نہیں؛ بلکہ اس کے سب سے مضبوط محافظوں میں سے ایک ہے۔حقیقت تک پہنچنے کا دروازہ بند کر دیا گیا، مگر عوامی شکوک کا دروازہ کھلا رہا۔