فلوریڈا: پاکستانی پر جعلی ڈاک لیبل بیچنے اور 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر نقصان کا الزام

میامی(امریکی محکمۂ انصاف)امریکا میں پاکستانی شہری فہیم اکرم پر جعلی ڈاک لیبل فروخت کرکے امریکی پوسٹل سروس کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانے کے الزام میں فردِ جرم عائد کردی گئی۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق فلوریڈا کے جنوبی ضلع کی وفاقی عدالت میں 33 سالہ فہیم اکرم کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی ہے، جس کا تعلق پاکستان کے ضلع خانیوال سے ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق فہیم اکرم مبینہ طور پر ’’لیبلز بینک‘‘ نامی ویب سائٹ چلا رہا تھا، جہاں جعلی امریکی ڈاک لیبل فروخت کیے جاتے تھے۔ ویب سائٹ پر پیکج کے وزن، حجم یا منزل سے قطع نظر عموماً ہر لیبل کی قیمت 2 ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق ویب سائٹ کو امریکی پوسٹل سروس کی مصنوعات اور خدمات فروخت کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ جعلی لیبلز کے ذریعے صارفین جائز ڈاک فیس کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر اپنے پیکجز بھیج سکتے تھے، جس کے نتیجے میں امریکی پوسٹل سروس کو آمدنی اور ترسیلی اخراجات کی مد میں بھاری نقصان ہوا۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ 5 ہزار 200 سے زائد افراد نے مذکورہ ویب سائٹ کے ذریعے 51 لاکھ سے زیادہ جعلی ڈاک لیبل خریدے، جس سے امریکی پوسٹل سروس کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کا مبینہ نقصان پہنچا۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق فردِ جرم عائد کیے جانے کے ساتھ ہی امریکی پوسٹل سروس نے عدالت سے ویب سائٹ ضبط کرکے بند کرنے کا حکم حاصل کرلیا، جس کے بعد ویب سائٹ بند اور اس کا ڈومین قبضے میں لے لیا گیا۔

امریکی اٹارنی جیسن اے ریڈنگ کوئینونز نے کہا کہ مبینہ منصوبہ بظاہر سادہ لیکن بڑے پیمانے پر تھا، جس میں پیکج کے وزن، حجم یا منزل سے قطع نظر کم قیمت پر جعلی ڈاک لیبل فروخت کرکے صارفین کو جائز ڈاک فیس سے بچنے کا موقع دیا گیا۔

امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس کے میامی ڈویژن کے انسپکٹر انچارج بلادسمیر روخو نے کہا کہ پوسٹل سروس کو دھوکا دینے اور امریکی صارفین کو جعلی ڈاک فروخت کرنے والی سرحد پار جرائم پیشہ تنظیموں کو تلاش کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

فہیم اکرم پر امریکا کو دھوکا دینے اور جعلی ڈاک ٹکٹ بنانے و فروخت کرنے کی سازش کی ایک دفعہ، جعلی ڈاک ٹکٹ لیبل بنانے اور فروخت کرنے کی 5 دفعات جبکہ برقی ذرائع سے دھوکا دہی کی 4 دفعات عائد کی گئی ہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں سازش اور جعلی ڈاک ٹکٹ سے متعلق الزامات میں زیادہ سے زیادہ 5 سال قید جبکہ برقی ذرائع سے دھوکا دہی کی ہر دفعہ میں زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس کے میامی ڈویژن نے کی ہیں جبکہ اس مقدمے کی پیروی معاون امریکی اٹارنی جون جوئنگر اور جیکولین ڈیر اووانیشین کررہے ہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف نے واضح کیا ہے کہ فردِ جرم محض الزام ہے اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک تمام ملزمان کو معقول شک سے بالاتر ثبوت کے ساتھ مجرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔