ایڈمنٹن(نامہ نگار)الیکشنز البرٹا کا دعویٰ ہے کہ علیحدگی پسند گروپ سینٹورین پروجیکٹ سے منسلک ایک اہم سیاسی منتظم ڈیوڈ پارکر مبینہ طور پر ووٹر لسٹ کے غلط استعمال سے متعلق جاری تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے۔
چیف الیکٹورل آفیسر گورڈن مک کلور کے مطابق ڈیوڈ پارکر نے نہ تو اسٹاٹوٹری ڈیکلریشن پر دستخط کیے ہیں اور نہ ہی ان کی ہدایت کے مطابق ووٹر لسٹ کے استعمال سے دستبرداری کی یقین دہانی کرائی ہے۔الیکشنز البرٹا کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الزام لگا کہ سینٹورین پروجیکٹ نے صوبے کی الیکٹورل فہرست کا غلط استعمال کیا، جس میں تقریباً 30 لاکھ ووٹرز کا ڈیٹا شامل ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 566 افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں جنہوں نے آن لائن ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کی تھی، جبکہ 21 افراد سے باقاعدہ وضاحت طلب کی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP)، صوبائی پرائیویسی کمشنر اور الیکشنز البرٹا شامل ہیں۔
الیکشنز ایکٹ کے تحت اگر ووٹر لسٹ کے غلط استعمال کا الزام ثابت ہو جائے تو جرمانہ ایک لاکھ ڈالر تک اور ایک سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ڈیوڈ پارکر ماضی میں بھی الیکشنز البرٹا کی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں، جہاں ان پر الیکشن فنانس قوانین کی خلاف ورزی پر 120000 ڈالر سے زائد جرمانے عائد کیے گئے تھے۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی آف البرٹا نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کر رہی ہے اور ان کے مطابق پارٹی کو اس حوالے سے کوئی ایسا نوٹس موصول نہیں ہوا جس میں الیکٹورل لسٹ تک غیر قانونی رسائی ثابت ہو۔البرٹا میں اس معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے افراد کے خلاف سخت مؤقف اپنانا چاہیے جو قانون کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔

