تہران (نیٹ نیوز)ایران پر منگول حملوں کا آغاز 1219ء میں اس وقت ہوا جب چنگیز خان نے خوارزم شاہی سلطنت کے خلاف مہم شروع کی، جس کی وجہ منگول سفیروں کا قتل بنی۔
1219ء سے 1221ء کے دوران منگول افواج نے مشرقی اور وسطی ایران پر یلغار کرتے ہوئے نیشاپور، مرو، ہرات، توس، رے اور ہمدان جیسے بڑے شہروں کو تباہ کر دیا، جہاں بڑے پیمانے پر قتلِ عام اور گھروں، بازاروں، کتب خانوں اور آبپاشی کے نظام کی تباہی ریکارڈ کی گئی۔
متعدد ترقی یافتہ شہری مراکز مٹا دیے گئے، آبادی یا تو قتل کر دی گئی یا منتشر ہو گئی، جبکہ زرعی زمینیں تباہ ہونے سے قحط اور طویل المدتی آبادی میں کمی پیدا ہوئی۔1256ء میں ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں کی دوسری یلغار نے ایران پر اپنی حکمرانی کو مزید مستحکم کیا اور تباہی کا ایک اور سلسلہ شروع کیا۔
جدید تاریخی اندازوں کے مطابق متاثرہ ایرانی علاقوں میں تقریباً 20 سے 50 فیصد آبادی ہلاک ہو گئی، جبکہ بعض شہروں کی زیادہ تر آبادی ختم ہو گئی، جس کے باعث منگول حملے ایران کی تاریخ میں آبادی، معیشت اور ثقافت کے اعتبار سے بدترین سانحات میں شمار ہوتے ہیں۔

