افغانستان کو شکست دے کر پاکستان ڈائمنڈ جوبلی کپ کے فائنل میں پہنچ گیا

قومی ٹیم 64 سال بعد کسی آزاد بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کے
فائنل میں پہنچی، صدر پی ایف ایف محسن گیلانی کی ٹیم کو مبارکباد

عمر نواز کے ابتدائی گول اور ہارون حمید کے آخری لمحات میں کیے گئے شاندار گول کی بدولت پاکستان نے اتوار کو مالدیپ میں جاری ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ میں افغانستان کو 2-0 سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ نولبرٹو سولانو کی زیرِ قیادت پاکستان نے اس کامیابی کے ساتھ چار ملکی ایونٹ کے راؤنڈ رابن مرحلے میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کر لی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان 1962 کے مردیکا کپ کے بعد کسی آزاد بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچا ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان انڈونیشیا کے بعد رنر اپ رہا تھا۔ قومی ٹیم کی آخری بین الاقوامی ٹورنامنٹ کامیابی اس سے بھی ایک دہائی قبل آئی تھی جب پاکستان اور بھارت نے مشترکہ طور پر ایشین کواڈرینگلر فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل جیتا تھا۔

مالدیپ کیخلاف 3-0 کی تاریخی فتح کے بعد، جو قومی ٹیم کی 961 دن بعد پہلی کامیابی تھی، پاکستان کو فائنل میں جگہ بنانے کیلئےصرف ایک ڈرا درکار تھا۔پاکستان نے میچ کا آغاز خوابناک انداز میں کیا۔ پانچویں منٹ میں شایق دوست کی جانب سے بائیں جانب سے دی گئی خوبصورت لو کراس پر عمر نواز نے پہلی ہی ٹچ میں گیند کو جال میں پہنچا کر پاکستان کو برتری دلوا دی۔ اس گول کے بعد پاکستان نے کھیل پر گرفت مضبوط کر لی اور سابق پاکستان کوچ جوز انتونیو نوگویرا کی کوچنگ میں کھیلنے والی افغان ٹیم کو اپنے نصف میدان سے آگے مؤثر حملے بنانے میں دشواری کا سامنا رہا۔

شایق دوست، عمر نواز اور اوٹس خان مسلسل افغان دفاع کیلئے خطرہ بنے رہے جبکہ حارث زیب اور فضل نے ونگز سے ٹیم کو بھرپور چوڑائی فراہم کی۔ پہلے ہاف کے آدھے گھنٹے کے بعد اوٹس خان کے خوبصورت ترچھے پاس پر عیسیٰ سلیمان کو گول کا موقع ملا، تاہم ان کا شاٹ بار کے اوپر سے گزر گیا۔ پہلے ہاف کے اضافی وقت میں افغانستان کو برابر ی کا بہترین موقع ملا جب کپتان امید پوپلزئی کی فری کک کراس بار سے ٹکرا گئی۔ یوں پاکستان ایک گول کی برتری کے ساتھ وقفے میں گیا۔ افغانستان کو فائنل تک رسائی یقینی بنانے کے لیے فتح درکار تھی، اس لیے انہوں نے دوسرے ہاف کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا۔ تاہم گول کے قریب ترین موقع پاکستان کو ملا جب ایک گھنٹے کے کھیل کے بعد شایق دوست کے خوبصورت چِپ پاس نے علی آغا کو گول کی جانب روانہ کیا، لیکن مڈفیلڈر صرف گول کیپر کو شکست دینے میں ناکام رہے اور شاٹ وائیڈ چلا گیا۔

دوسری جانب افغانستان کو بھی موقع ملا لیکن امید موسوی کا ہیڈر گول سے باہر چلا گیا۔میچ کے آخری مراحل میں واضح مواقع کم دیکھنے کو ملے، لیکن اضافی وقت کے پہلے منٹ میں عادل نبی کے پاس پر ہارون حمید نے زوردار شاٹ کے ذریعے گیند جال میں پہنچا کر پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔ اس کامیابی کے ساتھ پاکستان نے 10 جون کو کھیلے جانے والے فائنل میں جگہ بنا لی، جہاں اس کا مقابلہ افغانستان یا بنگلہ دیش میں سے کسی ایک ٹیم سے ہوگا۔