مونال: قانون کی حکمرانی یا مالی مفادات کی بالادستی؟

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے مونال ریستوران سے متعلق سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے بعد ایک ایسا بنیادی سوال دوبارہ سامنے آ گیا ہے جو صرف ایک عمارت کی ملکیت سے کہیں زیادہ اہم ہے: کیا پاکستان کے ماحولیاتی قوانین اُس وقت بھی مؤثر رہ سکتے ہیں جب ان کا ٹکراؤ بااثر کاروباری مفادات اور طاقتور اداروں سے ہو؟

اس سے قبل سپریم کورٹ نے، جس بینچ کی سربراہی اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے تھے، مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے اندر قائم مونال اور دیگر تجارتی تعمیرات کو بند کرنے اور انہیں مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے پر دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے دائرۂ اختیار اور منصفانہ کارروائی کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ اس نے سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، ملکیت کے تنازعات متعلقہ ٹرائل عدالتوں کو بھیج دیا، جبکہ انتظامی امور متعلقہ سرکاری اداروں کے سپرد کر دیے۔

سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی آئینی عدالت کو اس معاملے کی سماعت کا آئینی اختیار حاصل تھا؟ متعدد ممتاز ماہرینِ قانون اس اختیار پر سنجیدہ سوالات اٹھا چکے ہیں۔ اگر آئین نے عدالت کو ایسا اختیار نہیں دیا تھا تو پھر اس اختیار کو تسلیم کرنا قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے اور اُن آئینی حدود کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا جو عدالتوں کے اختیارات کا تعین کرتی ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کا “حکم”، اور یہاں لفظ حکم کو واوین میں لکھنا دانستہ ہے، خود اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ سپریم کورٹ اس مقدمے کا فیصلہ کر چکی تھی اور نظرثانی کی تمام درخواستیں بھی مسترد ہو چکی تھیں۔ اصولی طور پر اس مرحلے پر مقدمہ اختتام کو پہنچ جانا چاہیے تھا۔ اس کے باوجود مزید کارروائی کرنا عدالت کے اپنے آئینی اختیارات کی حدود کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔

دائرۂ اختیار کا یہی سوال مونال مقدمے کو سمجھنے کی بنیاد ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بجا طور پر ماحولیات کے تحفظ کو کسی فرد، کاروبار یا بااثر گروہ کے مالی مفادات پر ترجیح دی۔

مارگلہ ہلز نیشنل پارک کوئی عام سرکاری زمین نہیں جسے جب چاہا تجارتی مقاصد کے لیے کھول دیا جائے۔ یہ ایک قانونی طور پر محفوظ ماحولیاتی خطہ ہے جس کے جنگلات، جنگلی حیات، آبی نظام اور حیاتیاتی تنوع اسلام آباد کے ماحول کے لیے ناگزیر ہیں۔ آئینی نقطۂ نظر سے یہ صرف موجودہ نسل کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی مشترکہ میراث ہے۔

لہٰذا اصل سوال یہ نہیں تھا کہ ریستوران کی عمارت کا مالک کون ہے یا کس سرکاری ادارے نے لیز دی تھی۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا قانونی طور پر محفوظ قومی پارک کے اندر کسی بڑے تجارتی منصوبے کے قیام کی اجازت دی جانی چاہیے تھی؟

سپریم کورٹ نے درست طور پر قرار دیا کہ ماحولیاتی تحفظ آئین میں دیے گئے حقِ زندگی اور انسانی وقار سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ حقِ زندگی محض زندہ رہنے کا نام نہیں، بلکہ صاف ہوا، محفوظ پانی اور صحت مند ماحول تک رسائی بھی اسی حق کا حصہ ہے۔

ماحولیاتی نقصان کبھی صرف اسی زمین تک محدود نہیں رہتا جہاں وہ پیدا ہوتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی اور قدرتی مساکن کی تباہی ہوا کے معیار، پانی کے ذخیرے، جنگلی حیات، درجۂ حرارت اور پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ ان نقصانات کا بوجھ پوری عوام اٹھاتی ہے، جبکہ تجارتی ترقی کے مالی فوائد عموماً چند افراد یا ایک محدود طبقے تک ہی پہنچتے ہیں۔

اسی لیے ماحولیات کے تحفظ کو نجی منافع پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مونال ایک مقبول، کامیاب کاروباری ادارہ تھا، اسلام آباد کی سیاحت اور سماجی زندگی کا اہم حصہ سمجھا جاتا تھا اور بہت سے لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بھی تھا۔ لیکن یہ تمام عوامل کسی محفوظ قومی پارک کی زمین پر مستقل تجارتی قبضے کا قانونی حق پیدا نہیں کرتے۔ مقبولیت کسی غیر موافق ماحولیاتی سرگرمی کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی، اور مالی کامیابی قومی پارک کے قیام کے قانونی مقصد کو پسِ پشت نہیں ڈال سکتی۔

یہ مقدمہ ایک تلخ حقیقت بھی بے نقاب کرتا ہے: جیسے جیسے کوئی کاروبار زیادہ منافع بخش اور زیادہ بااثر ہوتا جاتا ہے، ریاست کے لیے اس کے خلاف قانون نافذ کرنا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر کوئی چھوٹا اور غیر معروف کاروبار سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر قائم ہوتا تو شاید اسے برسوں تک سرکاری رعایت، مسلسل عدالتی کارروائیوں اور سرکاری اداروں کی حمایت حاصل نہ ہوتی۔ لیکن ایک مالی طور پر طاقتور ادارہ بہترین وکلا کی خدمات حاصل کر سکتا ہے، ہر قانونی نکتے کو چیلنج کر سکتا ہے اور مختلف عدالتی فورمز سے رجوع کرتے ہوئے مقدمہ اس وقت تک جاری رکھ سکتا ہے جب تک کوئی ناموافق فیصلہ تبدیل نہ ہو جائے۔

اثر و رسوخ ہمیشہ براہِ راست سیاسی یا عدالتی مداخلت کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات وسائل، رسائی، انتظامی تعلقات اور طویل قانونی لڑائی جاری رکھنے کی صلاحیت کے ذریعے بھی اپنا اثر دکھاتا ہے۔

دائرۂ اختیار کے سوال سے قطع نظر بھی، اس مقدمے کے نتیجے نے عوام میں یہ تاثر ضرور پیدا کیا ہے کہ ماحولیات کے مقابلے میں بااثر مالی مفادات کو زیادہ تحفظ ملا۔ چاہے عدالت کا مقصد یہ نہ بھی ہو، لیکن انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد صرف عدالتی آزادی ہی سے نہیں بلکہ فیصلوں کی واضح غیر جانبداری سے بھی وابستہ ہوتا ہے۔

یہ تاثر اس وجہ سے بھی مضبوط ہوتا ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) جیسے سرکاری اداروں نے اس فیصلے کو چیلنج کیا جس کا مقصد محفوظ عوامی زمین کو بحال کرنا تھا۔ عوام بجا طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ سرکاری ادارے مارگلہ ہلز کے ماحولیاتی تحفظ کے بجائے انہدام کے حکم کو ختم کرانے میں زیادہ سرگرم کیوں دکھائی دیے۔

اس مقدمے کو ماحولیات جیسے بنیادی مسئلے سے ہٹا کر ملکیت، دائرۂ اختیار، لیز اور طریقۂ کار کے تنازعات تک محدود کر دیا گیا، حالانکہ ان سوالات کو اصل آئینی اور ماحولیاتی مسئلے پر غالب نہیں آنا چاہیے تھا۔

ویسے بھی ملکیت اور ماحولیاتی قانونی حیثیت دو الگ مسائل ہیں۔ کوئی شخص کسی عمارت کی ملکیت ثابت کر سکتا ہے، مگر اس سے اسے محفوظ قومی پارک کے اندر ریستوران چلانے کا حق خود بخود حاصل نہیں ہو جاتا۔ حقوقِ ملکیت بھی ماحولیاتی، زوننگ اور جنگلی حیات سے متعلق قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔

اگر محض بحث کی خاطر یہ بھی مان لیا جائے کہ وفاقی آئینی عدالت کو دائرۂ اختیار حاصل تھا، تب بھی اسے پہلے سے حاصل شدہ ماحولیاتی تحفظ کو ختم نہیں کرنا چاہیے تھا۔ عدالت ملکیت کے حقیقی تنازعات ٹرائل عدالتوں کو واپس بھیج سکتی تھی، مگر قومی پارک میں تجارتی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رکھتی۔ اسی طرح کسی بھی آئندہ فیصلے سے پہلے ایک آزاد ماحولیاتی جائزہ بھی لازمی قرار دیا جا سکتا تھا۔

اس کے برعکس، پہلے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اس کے بنیادی ماحولیاتی تحفظات کو برقرار نہ رکھنا اس خطرے کو جنم دیتا ہے کہ ایک ماحولیاتی بقا کا مسئلہ محض جائیداد کے تنازع میں تبدیل ہو جائے۔

یہ کہنا بھی احتیاط کا متقاضی ہے کہ عدالتیں “جذبات کی بنیاد پر فیصلے” نہیں کرتیں۔ ماحولیات کا تحفظ کوئی جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ جنگلات، آبی وسائل، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ قانون کا تقاضا ہے، نہ کہ محض جذبات کا اظہار۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ اپنی آئینی سوچ کے اعتبار سے درست تھا۔ اس نے یہ واضح کیا کہ قومی پارکوں کو نجی منافع کے لیے قربان نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی سرکاری ادارے ماحولیات کی قیمت پر تجارتی مفادات کا غیر معینہ مدت تک تحفظ کر سکتے ہیں۔

اب مونال مقدمہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا پاکستان کے ماحولیاتی قوانین واقعی مؤثر ہیں یا وہ صرف اُس وقت تک نافذ رہتے ہیں جب تک کسی بااثر کاروباری ادارے کے مفادات متاثر نہ ہوں۔

منصفانہ قانونی کارروائی یقیناً ضروری ہے، لیکن طریقۂ کار کو مالی طاقت کے تحفظ کی ڈھال نہیں بننا چاہیے۔ جب عوام کے مستقل ماحولیاتی مفادات اور کسی فرد یا گروہ کے عارضی مالی فائدے میں ٹکراؤ ہو تو ماحولیات کو ترجیح ملنی چاہیے۔

بصورتِ دیگر عوام کے لیے یہ نہایت نقصان دہ پیغام جائے گا کہ محفوظ زمین صرف اُس وقت تک محفوظ رہتی ہے جب تک کوئی بااثر اور وسائل سے مالا مال فریق اسے غیر محفوظ کرانے میں کامیاب نہ ہو جائے۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی عدالت خود کو آئین سے بالاتر تصور نہیں کر سکتی۔ ججوں کا حلف انہیں اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ دیانت داری، وفاداری اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ آئین، قانون اور ضابطۂ اخلاق کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں۔

لہٰذا وفاقی آئینی عدالت کو اس بات سے بھی گریز کرنا چاہیے کہ وہ حقیقتاً یا بظاہر ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو جائے جہاں بااثر مفادات کو غیر معمولی رعایت حاصل ہو۔ ایسا تاثر بھی اتنا ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے جتنی خود حقیقت، خصوصاً اُس وقت جب عوام کا عدلیہ پر اعتماد پہلے ہی کمزور ہو۔

عدالتوں کی قانونی حیثیت اور جواز کا سرچشمہ آئین ہے، محض ان کی ادارہ جاتی طاقت نہیں۔ اگر کوئی فیصلہ آئینی حدود اور ماحولیاتی قانون کے مقابلے میں اثر و رسوخ کے تحفظ کا تاثر دیتا ہے تو اس سے عدلیہ کی آزادی اور احتساب کے بارے میں عوامی شکوک مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

آخرکار مونال مقدمے کا اصل سوال ایک ریستوران کی قسمت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا آئین کی بالادستی، ماحولیات کا تحفظ اور عوامی مفاد دولت، اثر و رسوخ اور ادارہ جاتی طاقت کے دباؤ کا مقابلہ کر سکتے ہیں، یا پھر دولت، اثر و رسوخ اور ادارہ جاتی طاقت کے سامنے پسپا ہو جاتے ہیں۔